بلوچستان ایک طر ف دہشت گردی سے لڑرہا ہے تو دوسری طرف اس کو منفی تاثر کے کینسر کا سامنا ہے۔بلوچستان کی محرومیوں کے چرچے تو ہر طرف ہیں لیکن بلوچستان میں عوام کے کے لیے جو مواقع ہیں ان کا تذکرہ کہیں نہیں ہے۔حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ۔ڈی جی پی آر بھی دیگر صوبوں کی طرح ’’خوشحال‘‘ ہے ڈیجیٹل میڈیا کا ڈیپارٹمنٹ بھی بدرجہ اتم حاضر لیکن غلبہ بلوچستان کی محرومیوں کا بدستور موجود۔میرے بلوچستان کے دورے کے دوران ایک طویل نشست وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی صاحب سے بھی ہوئی ۔ان کی بات سنی گئی اور ان کو سنائی بھی گئی ۔
میرسرفراز بگٹی بہادر بلوچ ہیں۔ جرأتمند ہیں ۔پہلے وزیراعلیٰ ہیں جنہوں نے ناراض بلوچ کے بیانیے کو یہ کہہ کر صاف کیا ہے کہ یہ لوگ ناراض نہیں بلکہ پاکستان سے آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ان کی کوئی ناراضی نہیں بلکہ یہ لوگ پاکستان توڑنے کی بات کرتے ہیں ۔ وہ پہلے وزیراعلیٰ ہیں بلوچستان کے جنہوں نے آئین میں دیئے گئے حقوق سے پہلے ریاست سے وفاداری کا بنیادی فرض بتایا ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں آرٹیکل پانچ کا لازمی ذکر کرتے ہیں کہ ریاست سے اپنے حقوق مانگنے سے پہلے ریاست سے وفاداری اور وہ بھی غیر مشروط وفاداری لازمی شرط ہے ۔بگٹی صاحب پاکستان کو لے کر شدیدجذباتی بھی ہیں ۔انہوں نے ہمارے وفد کا خندہ پیشانی سے استقبال کیااور اپنی حکومت کی کارکردگی بھی بتائی ۔
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اس صوبے میں سول ملٹری تعلقات مثالی ہیں ۔اور ایسے ہی تعلقات یہ صوبہ چلانے کے لیے ناگزیر بھی ۔بگٹی صاحب نے بتایا کہ سول اور ملٹری لیڈر شپ کے درمیان انتہائی اعلیٰ سطح کے اوپر کوارڈینیشن کا میکنزم بنایا گیا ہے ۔جس سے گورننس میں بہت بہتری آرہی ہے ۔بلوچستان میں یہاں بہت سی چیزیں خراب ہیں وہاں بہت سی چیزیں اچھی اور باقی صوبوں سے بہتر بھی ہیں ۔آج کل ملک میں انتظامی یونٹ اور صوبوں کی بات ہورہی ہے تو آپ کے لیے بھی حیرانی کی بات ہوگی کہ بلوچستان میں ضلعی سطح پر ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز کی تقسیم شروع ہوگئی ہے۔ ضلع کی سطح پر پیسا خرچ کرنے کے لیے بلوچستان ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت ہر ضلع کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس پروگرام سے ایم پی اے اور ایم این ایزکی منظوری کو نکال دیا گیا ہے ۔اس کام کے لیے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں اس ضلع کے مقامی لوگ، ضلعی حکومت کے نمائندے شامل ہیں ۔پراجیکٹس کا فیصلہ کھلی کچہری میں ہوتا ہے ۔ یعنی انتظامی یونٹس کا جو تصور اور ہدف ہے وہ بلوچستان میں شروع ہوچکا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان کی تاریخ بھی بتائی اور یہ بھی شرکاکو بتایاکہ پہاڑوں پر جانے والے اپنی حرکتوں کو جواز دینے کے لیے جو بلوچستان کی تاریخ بتاتے ہیں وہ درست نہیں انہوں نے بتایا کہ کس طرح خیر بخش مری کو حیدرآباد سازش کیس سے نکالا گیا تو وہ پاکستان میں رہنے کی بجائے افغانستان چلے گئے ۔ضیا الحق نے ان کو معافی دی اور واپس لانے کے لیے سی ون تھرٹی بھیجا ۔ وہ کوئٹہ ایئر پورٹ پر اترے تو واپس آکر گاڑی پر چڑھ گئے اور پاکستان کا جھنڈا نکال کر اس کو آگ لگائی ۔ریاست نے گلے لگایا تو جواب میں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا۔ریاست نے پھر درگزرکیا ۔لیکن انہوں نے اپنے صوبے کے چیف جسٹس نوازمری کو قتل کرا دیا ۔اس کے قتل میں جیل میں ڈالا گیا لیکن ایک بار پھر وہی مذاکرات اور وہ جیل سے باہر آگئے ۔باہر آکر ایک بار پھر ملک سے چلے گئے اور بیرون ملک انتقال کیا اور ریاست ایک بار پھر سی ون تھرٹی بھیج کر ان کی لاش پاکستان لائی ۔اس لیے اب ایسے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کا وقت گزر چکا ۔ انہوں نے حکومت کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے شرکاکو بتایا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کسی شخص کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔بات چیت اب کسی سردار ،کسی باہر بیٹھے شخص سے نہیں بلکہ مذاکرات بلوچستان کے عوام سے ہوں گے اور وہ مذاکرات جاری ہیں ۔
ایک سکیورٹی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک فوج بھی بلوچ عوام سے مذاکرات کررہی ہے ۔گزشتہ سال دوہزار پچیس میں اس طرح کی پینتالیس ہزار نشستیں ہوئیں۔اور اس سال ابھی تک چالیس ہزار نشستیں ہو چکی ہیں اور سال ختم ہونے تک ان کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ سرفراز بگٹی کے ساتھ ملاقات میں ایک بات ضرور واضح ہوئی کہ دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کے لیول پر کلیئرٹی اور ایک واضح سمت موجود ہے ۔اس کے نتائج کیا نکلیں گے اس کا ہم سب کو انتظار ہے۔حکومت ہو یا ملٹری لیڈر شپ دونوں اس معاملے پر بھی ایک پیج پر ہیں کہ دہشت گرد لڑ کر بلوچستان کو نہیں جیت سکتے ۔فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ لڑکر مرنا چاہتے ہیں یا مذکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک بات واضح ہے کہ ریاست اب کسی کو مذاکرات کا پیغام بھیجے گی اور نہ ہی کسی کے دروازے پر کسی کو منانے جائیگی۔
بلوچستان میں گورننس کی بربادی اور غربت کی بڑی وجہ کرپشن ہے ۔بگٹی حکومت نے بلوچستا ن سے کرپشن کم کرنے کے لیے کافی بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں ۔ ان میں بلوچستان حکومت میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔صحت اور تعلیم کے سیکٹر میں اساتذہ اور ڈاکٹرو ں کی حاضری کومکمل ڈیجیٹل کردیا گیا ہے اس سے سکولوں اور ہسپتالوں میں سٹاف کی موجودگی میں نوے فیصد بہتری آئی ہے ۔لوگوں کو سروس ڈیلیوی شروع ہوگئی ہے۔ ایک بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ محرومی کا چورن یہاں کے نوجوانوں کو بیچا ضرور جاتا ہے لیکن محرومی یہاں ہے نہیں۔ یہاں بچوں کو پنجاب سے بہتر تعلیمی مواقع میسر ہیں ۔پنجاب میں ایک طالب علم کو کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کے لیے آگ کا دریا پار کرنا پڑتا ہے لیکن بلوچستان کے بچوں کے لیے تعلیمی ادارے اپنے دروازے کھول کر انتظار کرتے ہیں ۔بگٹی حکومت نے ایک کام اور اچھا کیا ہے اس سے مسنگ پرسن والا مسئلہ بلوچستان کی حد تک ختم ہوگیا ہے ۔ بلوچستان حکومت نے قانون سازی کرکے ایسے مشکوک افراد جو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں ان کو پہلے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب ایسے افراد کے لیے سنٹرز بنا دیئے گئے ہیں۔ کسی کو بھی گرفتارکرنے کے چوبیس گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد اس سنٹر میں رکھ دیا جاتا ہے یہاں مہینے میں دو بار لواحقین سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔ اس ایک قدم نے بلوچستان میں مسنگ پرسن کا مسئلہ حل کرکے بی وائی سی کے بیانیے کا خاتمہ کردیا ہے۔وزیراعلیٰ سے نشست کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بلوچستان حکومت میں بہت کچھ اچھا ہے لیکن سب اچھا نہیں ہے گورننس میں اسی طرح شفافیت رکھی گئی تو سب اچھا ہوسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات
09:20 AM, 27 Sep, 2026