"سیلاب تو اتر گیا، لیکن زخم باقی ہیں – ستلج اور چناب کے کنارے زندگی بدستور آزمائش میں"

11:42 AM, 27 Sep, 2025

سیت پور / علی پور: دریائے ستلج اور چناب میں پانی کی سطح میں کمی آ چکی ہے، لیکن متاثرہ علاقوں میں زندگی اب بھی تھمی ہوئی ہے۔ سیلاب متاثرین بنیادی سہولیات سے محروم، روزگار سے بے دخل، اور اپنے گھروں کی بحالی کے لیے حکومتی مدد کے منتظر ہیں۔

علی پور کے نواحی علاقے سیت پور میں پانی اترنے کے بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے ہیں، لیکن گھروں کی جگہ مٹی، ریت اور شکستہ دیواریں ان کا استقبال کر رہی ہیں۔ نہ پینے کا صاف پانی ہے، نہ بجلی، نہ طبی سہولت، نہ سکول   اور نہ ہی کسی قسم کا روزگار۔

سیلاب متاثرین نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری بحالی، مالی امداد، اور زرعی اراضی کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔

ادھر دریائے چناب کے سیلابی ریلوں نے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ کر دی ہے۔ کئی علاقوں میں تیار فصلیں دریا برد ہو گئیں، جبکہ زمین پر ریت کی دبیز تہہ نے کسانوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ یہ سیلاب مقامی کسانوں کے لیے بدترین بے روزگاری بھی لے آیا ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ "سیلاب چلا گیا، مگر ہمیں جینے کا سہارا دیے بغیر۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت امداد اور بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو ان علاقوں میں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

مزیدخبریں