دنیا کی سب سے طویل اور پیچیدہ سیاسی تنازعات میں سے ایک مسئلہ کشمیر ہے جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے برصغیر کی سیاست، عالمی امن اور انسانی حقوق کے مباحثے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، عالمی سفارتی کوششوں اور ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد جانوں کی قربانیوں کے باوجود آج بھی کشمیر ایک خونچکاں باب کے طور پر باقی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کیوں کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہو پا رہا؟ اس کے راستے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں اور کیا عالمی طاقتیں واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہیں یا صرف اسے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں؟ یہ سب جاننے کے لیے ہمیں تاریخی پس منظر اور وعدوں کی حقیقت تک پہنچنا ہو گا۔
1947 میں تقسیم ہند کے وقت کشمیر کا فیصلہ اصولِ الحاق کے مطابق ہونا تھا یعنی مسلم اکثریت کی بنیاد پر اسے پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت کے مہاراجہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ الحاق اور بھارت کی فوجی مداخلت نے ایک ایسا تنازع پیدا کیا جو آج تک قائم ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1948 میں استصوابِ رائے کی قرارداد منظور کی جس میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا مگر یہ وعدہ آج بھی وفا نہ ہو سکا۔ بھارت نے اس قرارداد کو محض ایک تاریخی کاغذ قرار دے دیا جبکہ عالمی برادری کی بے حسی نے اسے ایک مستقل انسانی المیہ بنا دیا۔
بھارت کی حکمت عملی ہمیشہ سے کشمیر کو ایک ’’اٹوٹ انگ‘‘ کے طور پر پیش کرنے پر مبنی رہی ہے۔ 2019 میں بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جس سے کشمیریوں کا احساسِ بیگانگی مزید گہرا ہوا۔ بھارتی فوج کی مسلسل موجودگی، میڈیا پر پابندیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور حریت رہنماؤں کی گرفتاریاں اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت مسئلے کو سیاسی یا جمہوری طریقے سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے دبانا چاہتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب آزادی کے جذبے سے سرشار ہو جائے تو طاقت کے ذریعے اسے ہمیشہ کے لیے غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ کشمیری عوام آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں مگر ان کا حوصلہ اور عزم کم نہیں ہوا۔
پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان نے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے حالات، پاک بھارت تعلقات میں تندی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ابھرتی ہوئی شناخت نے پاکستان کے کشمیر سے متعلق موقف اور کشمیریوں کی آواز کو مزید توانا بنا دیا ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد کشمیریوں کا پاکستان پر اعتماد مزید پختہ ہوا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق کے تناظر میں مزید مستحکم آواز کے ساتھ بلند کرے اور عالمی رائے عامہ کو بھارتی اقدامات کے خلاف مقصد کے حصول تک مسلسل متحرک کرتا رہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، مؤثریت اور بین الاقوامی لابنگ میں جدت لانا ہوگی۔
عالمی تنازعات کے حل کیلئے قائم کردہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ ایک جانب امریکی کٹھ پتلی کا روپ دھار چکا ہے تو دوسرے جانب امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک اکثر انسانی حقوق اور جمہوریت کے علمبردار ہونے کا خالی خولی دعویٰ ہی کرتے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر ان کی خاموشی انکے جمہوریت کے دعوے کا کھلا تضاد ہے۔ امریکہ کے لیے بھارت ہمیشہ ایک بڑی تجارتی اور تذویراتی اہمیت کا حامل ملک رہا ہے، خاص طور پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے لیے امریکہ کا واضح جھکاؤ بھارت کی جانب رہا ہے ۔ اسی لیے 10 مئی 2025 جنگ میں شکست سے پہلے تک واشنگٹن نے کبھی بھارت کو ناراض نہیں کیا تھا۔ لیکن 10 مئی نے پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ امریکہ کا بھارت پر عارضی دباؤ اپنی طاقت کی مؤثریت قائم رکھنے کی چال ہے۔ 10 مئی کی بھارت کے خلاف حاصل کردہ فتح کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی مؤثریت برقرار رکھنا ہو گی۔
برطانیہ جس کے نوآبادیاتی فیصلوں نے اس تنازع کو جنم دیا اب محض رسمی بیانات تک محدود ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں بند ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس بھی محض کاغذی احتجاج تک رہ گئی ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی طاقتوں کے لیے کشمیریوں کا درد نہیں بلکہ اپنے مفادات زیادہ اہم ہیں۔ ایک اور بڑی رکاوٹ کشمیری قیادت کی اندرونی تقسیم ہے۔ حریت کانفرنس کے مختلف دھڑے، سیاسی اختلافات اور باہمی عدمِ اعتماد نے آزادی کی تحریک کو کمزور کیا ہے۔ کچھ رہنما مذاکرات کے حق میں ہیں، کچھ بھارت سے علیحدگی چاہتے ہیں، جبکہ اکثریت میں بڑے اور توانا حلقے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی ہیں۔ اس تقسیم نے بھارت کو موقع دیا کہ وہ کشمیری قیادت کو غیر مؤثر بنا دے۔ اگر کشمیری قیادت متحد ہو کر ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کرے تو عالمی برادری پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے کہ وہ مسئلے کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرے۔
جغرافیائی، عسکری اور سیاسی حقائق کو دیکھتے ہوئے ایک مکمل آزاد اور خودمختار کشمیر کا تصور دھیرے دھیرے واضح ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر کا بھی ایسا ہی حل ممکن ہے جس میں کشمیر کو خودمختار حیثیت دی جائے جہاں کشمیریوں کو اپنے آئین، پرچم اور داخلی معاملات پر مکمل اختیار ہو، جبکہ دفاع اور خارجہ پالیسی کے امور متفقہ فریم ورک کے تحت پاکستان کی زیر سرپرستی طے کیے جائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیاسی بصیرت، عالمی حمایت اور سب سے بڑھ کر کشمیری قیادت کا اتحاد ضروری ہے۔ خطے کے روشن مستقبل کیلئے کشمیر کے مسئلے کا پُرامن اور پائیدار حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ یہ پورے خطے کے امن، ترقی اور استحکام کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں مذاکرات کی میز پر آئیں تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا ایک بڑے تصادم سے بچ سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی طاقتیں اس عمل میں ضامن بن سکتی ہیں مگر شرط یہ ہے کہ کشمیری عوام کو مرکزی فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔ کشمیر ایک جغرافیہ نہیں، ایک جذبہ ہے آزادی، شناخت اور حقِ خودارادیت کا جذبہ۔ دنیا کی بے حسی، طاقت کی سیاست اور مفادات کی جنگ نے اسے ایک نہ ختم ہونے والا المیہ بنا دیا ہے۔
کشمیر ایک ان سلجھا خواب
09:21 AM, 27 Oct, 2025