کائنات میں موجود ہر ذی روح کو خواہشات کی گھٹی پلائی گئی ہے انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے کے لیے بسا اوقات انسان خاک ِ شرق و غرب کو بھی چھان ڈالتا ہے۔ اولادِ آدم روزِ اول سے ہی اس فانی دنیا میں سکون کی تلاش میں ہے۔ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں انسان جدید طرزِ معاشرت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسی سکون کی تلاش میں گم ہے لیکن جسے سکون کہتے ہیں وہ اب بھی اس کی زندگی سے غائب ہے۔ آسائش، آرائش اور زیبائش کی دنیا میں بھی سکون کا وجود گم ہو کر رہ گیا ہے۔ دیکھا جائے تو ظاہری اسباب کی بہتات کے باوجود بے سکونی، الجھنیں، پریشانیاں، دنیاوی بکھیڑے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور سکونِ دل کی دنیا تنگ سے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ یہاںسکون سے مراد وہ اطمینان ہے جس سے ایک شخص ذہنی طور پر خود کو آرام دہ تسلیم کرتا ہے یہ وہ کیفیت ہے جب انسان کی روح کسی بھی قسم کے بوجھ اور فکر سے آزاد ہو لیکن ہر انسان کی زندگی میں کبھی کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جہاں اندر کی چیخیں باہر کے سکوت سے ٹکرا کر تحلیل ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایس پی عدیل اکبر نے خود کو اپنے پیاروں سے جدا کر لیا یہ ایک مختصر لمحہ تھا جس نے یہ سوال عیاں کیا کہ اختیار کے ساتھ بوجھ کا کیا تعلق ہے۔ یہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس انسان کی داستان ہے جو اجتماعی دبائو، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی توقعات کے درمیان اپنی ذات کو کھو دیتا ہے۔ بیرونی دنیا اکثر قوت، استحکام اور مؤثر فیصلے دیکھتی ہے لیکن اندرونی دنیا میں خوف، رنج اور غیر یقینی کا ایک خاموش طوفان چھپا رہتا ہے۔ ذہنی دبائو ایک نہ ختم ہونے والا شور ہے جو انسان کے ذہن میں مستقل سرگوشی کرتا ہے۔ یہ وہ چپ چاپ پُر سکون دشمن ہے جو لمحہ بہ لمحہ سوچ کی فطرت پر قابو پاتا ہے، جذبات کو منتشر اور انسانی ارادے کی قوت کو کمزور کرتا ہے۔ یہ صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک وجودی سوال ہے کہ انسان اپنی زندگی، کردار اور اپنے اعمال کی حقیقت کو کس پیمانے سمجھتا ہے۔ ہر اضطراب، خوف اور بے چینی انسان سے یہ سوال کرتی ہے کہ آیا ہم اپنے شعور کی مکمل گہرائی کو سمجھنے کے قابل ہیں یا محض روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے دبائو میں کھو گئے ہیں۔ بیوروکریسی ایک ایسا نظام ہے جو بظاہر ضابطے، اختیار اور ذمہ داری کے اصولوں پر استوار نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا جال ہے جہاں انسانی جذبات، داخلی کشمکش اور نفسیاتی دبائو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ہر روز جاری کردہ حکم ایک فرد کے لیے بوجھ بن جاتا ہے اور وہ جو بیرونی طور پر طاقتور دکھائی دیتا ہے اندر سے مسلسل اضطراب اور تشویش کا شکار رہتا ہے۔ ایس پی عدیل اکبر کا المیہ اس بات کی گواہی ہے کہ طاقتور منصب اور اختیار کے وسیع سائے بھی انسان کو اس کے ذہنی دبائو سے آزاد نہیں کر سکتے۔ ادارتی احکامات اور بے شمار ذمہ داریوں کے بوجھ تلے انسان اکثر ایسے فیصلوں پر مجبور ہو جاتا ہے جو اس کے اندرونی سکون کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی دنیا میں ہر حکم، فیصلہ اور معمولی عمل جو وہ ادارتی ذمہ داریوں کے تحت انجام دیتا ہے اس کے شعور پر ایک چھپی ہوئی لکیر چھوڑ جاتا ہے جو اکثر اندرونی تنہائی اور مایوسی کی صورت اختیار کرتے ہوئے انسان کو ایک ایسے موڑ پر لے آتے ہیں جہاں وہ اپنی داخلی کیفیت کا وزن سہنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ بیوروکریسی کی پیچیدہ مشینری میں انسان ایک جزو کی طرح نظر آتا ہے مگر وہ جزو خود ایک زندگی رکھتا ہے جس کے جذبات، خواب اور خوف بھی موجود ہیں۔ یہاں ہر فیصلہ نہ صرف کام کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ انسانی ذہن کے حساس توازن کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ وہ دبائو ہے جو اکثر لوگوں کو اندر سے توڑ دیتا ہے لیکن بیرونی دنیا اسے نظر انداز کیے رکھتی ہے۔ افسردگی اور ذہنی دبائو کوئی لمحاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مسلسل اندرونی جنگ ہے جس میں دل اور دماغ دونوں ایک ساتھ تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب لفظ گونگے اور احساس گویا ہو جاتے ہیں۔ عدیل اکبر کی کہانی ایک ایسے نظام کا عکس ہے جو اختیار کے بہانے انسان کے جذبات اور احساسات کو دبا دیتا ہے۔ اسی کیفیت کو عاصم رضا نے اپنی بصیرت کے ذریعے کچھ یوں مجسم کیا ہے کہ دکھ خود ایک زندہ استعارہ بن جاتا ہے۔
رنج تھا، خوف تھا، حالات کٹھن تھے، پھر بھی
جانے والے تو نے جانے میں بہت جلدی کی
ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانی شعور اور ادارتی نظام کے تصادم کی ایک مہیب داستان ہے۔ بیوروکریسی کا نظام جسے لوگ معصومانہ طور پر منظم اور منطقی سمجھتے ہیں درحقیقت ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو انسان کو مشینی خطوط پر چلنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ ایک افسر کے لیے اختیارات اور ذمہ داریاں کبھی کبھی ایسا شکنجہ بن جاتی ہیں جو اس کی زندگی کی روانی کو روک دیتے ہیں۔ جب ہر فیصلہ معاشرتی دبائو، قانونی حدود اور ادارتی توقعات کے دائرے میں آ کر انسانی قلب پر بوجھ ڈال دے تو وہ طاقتور خارجی مظاہر کے باوجود اندرونی طور پر نازک اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ المیہ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ اختیار اور ظاہری جلال انسانی شعور کی نازک سطح پر ایک فریب ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہر 4 میں سے ایک نوجوان ڈپریشن یا ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتا ہے۔ اکثر انسان اس سوچ سے بے سکونی کا شکار رہتا ہے کہ جو میں چاہتا ہوں وہ مجھے حاصل ہی نہیں ہوتا، درحقیقت آج کا انسان اس وہم میں مبتلا ہے کہ اگر اسے دنیاوی فلاں فلاں مقاصد حاصل ہو جائیں تو وہ تا حیات خوش و خرم رہ سکتا ہے۔ جب اسے اس کی خواہش کے مطابق منزل ملتی ہے تو وہ چند دن بعد ہی کسی اور خواہش کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور خواہشات کے پیچھے بھاگنے کا یہ سلسلہ مرتے دم تک ختم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جبرِ مسلسل کی طرح زندگی کی مدت پوری کر رہا ہے حالانکہ جو آسانیاں اور سہولیات انسان کو آج میسر ہیں انسانیت کی تاریخ میں شاید ہی کبھی اتنا تن آسانی کا کوئی دور گزرا ہو لیکن اس سب کے ساتھ ہی وہ اپنے خالق اور اپنے مقصدِ تخلیق سے غافل ہوتا چلا گیا۔ اچھی زندگی کے لیے دماغی صحت ایک اہم جز ہے کیونکہ یہ خیالات، طرز عمل اور جذبات کو متاثر کرتی ہے، ذہنی طور پر صحت مند ہونا روزمرہ کی سرگرمیوں میں مثبت اور دیر پا نتائج کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ناقص دماغی صحت کے مسائل انسان کو قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ ایک خوشگوار زندگی کیلئے لازم ہے کہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کا بھی خیال رکھا جائے اور یہ خیال رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ذہنی صحت ہماری زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔
اختیار کے فریب میں جیتا انسان
09:21 AM, 27 Oct, 2025