کچھ جنگیں دنیا کے چند ممالک کے درمیان ہو رہی ہیں جنہیں بند کرانے کا بہت شور ہے لیکن ان تمام جنگوں پر بھاری ایک جنگ جاری ہے جس کی لپیٹ میں تمام دنیا آچکی ہے لیکن اسے بند کرانے کی کسی طرف سے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ یہ جنگ معاشی میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس میں ایک نیا موڑ آجاتا ہے، اس موڑ سے آگے بڑھ جائیں تو پھر اک نیا موڑ، اس جنگ نے دنیا کی اقتصادی حالت کو توڑ مروڑ کے رکھ دیا ہے۔
بہت پہلے پٹرول کو پیٹرو ڈالر کی حیثیت ملی تو ایک جنگ شروع ہوئی جو عرصہ دراز تک جاری رہی۔ دنیا اس کی لپیٹ میں آگئی تو اسے بچانے کے لئے یورو مارکیٹ میں آیا جس نے ڈالر کو کسی حد تک زک پہنچائی لیکن پٹرول ڈالر کے پیچھے امریکی کرنسی ڈالر اس کی پشت پر کھڑا ہونے سے ڈالر سنبھل گیا۔ ڈالر پر دوسرا وار چین کی طرف سے ہوا ہے جس نے بعض ممالک کو ان کی لوکل کرنسی میں تجارت کی اجازت دے دی ہے۔ اب روس بھی چین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے دوست ملکوں کو یہی سہولت دے رہا ہے جس سے ڈالر ڈگمگانے لگا ہے۔ ڈالر کو اصل خطرہ برکس کرنسی سے ہے جس کے بعد دنیا میں ڈالر کی مانگ کم از کم بیس فیصد کم ہو جائے گی۔ ڈالر جن کی کرنسی ہے انہیں اس خطرے کا ادراک ہے وہ اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹیرف کا ہتھیار اس حوالے سے استعمال کیا گیا لیکن اس کے خاطرخواہ نتائج نہ نکلے اب امریکہ نے اپنے سب سے بڑے حریف ملکوں کو نقصان پہنچانے کے لئے روس کی بڑی کمپنیوں پر پٹرول فروخت پر پابندی لگائی ہے، اس پابندی کا مقصد روس کے ساتھ ساتھ چین و بھارت کو بھی نقصان پہنچانا ہے کیونکہ چین، روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے جو روس سے کئی ہزار بیرل تیل روزانہ خریدتا ہے۔ اس پابندی سے تیل فروخت کی دنیا میں وہی بھونچال ہے جو ریکٹر سکیل پر آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے سے زمین کی کیفیت ہوتی ہے۔ چین کے ساتھ ساتھ بھارت اس پابندی سے بری طرح متاثر ہو گا کیونکہ بھارت بھی چین کی طرح روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ پابندیاں اس لئے لگائی گئی ہیں کہ دونوں ملک اپنی ترجیحات بدلیں اور امریکہ کی شرائط پر اس کے ساتھ تجارت اسی طرح شروع کریں جس طرح وہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ شیر و شکر رہے ہیں۔
دنیا بھر کے تمام ملک دو ذرائع سے تیل خریدتے ہیں۔ ایک ذریعہ زمینی راستہ ہے یا سمندری جہازوں کی ذریعے تیل کی خریداری ہے۔ دوسرا ذریعہ پائپ لائن کے ذریعے تیل کی خریداری ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے وہاں راستے میں کہیں نہ کہیں سمندر ضرور آتا ہے بلکہ اسی فیصد تیل پائپ لائن زیر سمندر ہوتی ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کم خرچ اور سبک رفتار ہے جبکہ دیگر ذرائع کے ذریعے ترسیلی اخراجات زیادہ اٹھانا پڑتے ہیں، صرف ایک ذریعے پر سو فیصد انحصار اس لئے نہیں کیا جاتا کہ کسی بھی حادثے یا حالات کے سبب ایک ذریعے میں کوئی رخنہ آجائے تو دوسرے ذریعے سے کسی نہ کسی حد تیل کی ترسیل بحال رہے۔
امریکہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ نے بھی چین کی ایک کمپنی پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ کمپنی یولونگ پٹروکیمیکل ہے جو بڑی مقدار میں تیل خریدتی ہے۔ یہ پابندی امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے لگائی ہے۔ روسی کمپنی روزنیف پر امریکہ نے پابندی لگائی ہے۔ یہ کمپنیاں سمندری راستے سے تیل فروخت کرتی ہیں اور زمینی راستے سے بھی تجارت کرتی ہیں۔ پابندیوں کی زد میں آنے والی دیگر کمپنیاں سنیٹوپیک، پٹرو چائنا، ڈینگوا آبیل اور سی این او او سی ہیں۔ چین اور بھارت اب متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی کھپت سے جو ملک اپنی انڈسٹری چلاتے ہیں، ان میں امریکہ، چین اور بھارت سرفہرست ہیں۔انرجی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے دیگر ذرائع پر انحصار بڑھ رہا ہے لیکن فی الحال تیل پر انحصار زیادہ ہے۔
امریکہ نے یہ پابندیاں اس لئے لگائی ہیں کہ وہ روس اور چین کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت پر پابندی اس لئے لگائی ہے کہ وہ امریکہ کے دشمنوں سے گہرے تجارتی تعلقات رکھتا ہے جو ملک امریکہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ یا دیگر چیزیں خریدتے ہیں امریکہ ان کو اپنا دوست سمجھتا ہے اور انہیں سہولتیں دینا چاہتا ہے۔ چین اور بھارت کے پاس اب دو راستے ہیں۔ وہ یا تو روس کے علاوہ کسی اور ملک سے تیل خریدیں یا پھر بھاری ٹیرف برداشت کریں اور اپنی مصنوعات امریکی اور امریکہ کے اتحادی ممالک کی مارکیٹوں میں بھجوائیں۔ جن کمپنیوں پر روس میں پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ روسی تیل کی پیداوار کا پندرہ فیصد ایکسپورٹ کرتی ہیں۔ اس ایکسپورٹ کے بند ہونے سے روس کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ روس سے تیل خریدنے والے دیگر ممالک بھی اس نقصان کی زد میں آئیں گے۔ اس سے تیل کی خریداری متاثر ہو گی اور کم تیل خریدنے سے متعدد ممالک کی انڈسٹری کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی یوں ان کی پروڈکشن اور برآمدات متاثر ہوں گی۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے پروڈکشن کاسٹ بڑھے گی اور دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ پٹرول مہنگا ہونے کا اثر ذرائع آمدورفت پر یعنی عام آدمی کے سفر پر بھی پڑے گا۔
چین اپنی تیل خریداری کا انتالیس فیصد پائپ لائن کے ذریعے روس سے خریدتا ہے جبکہ اکسٹھ فیصد سمندری جہازوں کے ذریعے منگواتا ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے۔ اگر امریکہ، روس، چین، بھارت تنازع جلد ختم نہیں ہوتا تو امریکہ، روس اور چین کی مزید آئل کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگا سکتا ہے جبکہ ان پابندیوں کا سب سے بڑا مقصد اقتصادی نقصان کے ساتھ ساتھ روس پر دبائو بڑھا کر یوکرین میں مفادات حاصل کرنا ہے اس کے علاوہ ان پابندیوں کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمان ممالک کو باور کرایا جا سکے کہ امریکہ کے پاس اپنی بات منوانے کے لئے بمباری کرنے کے علاوہ اور بھی کئی ہتھیار ہیں جن کے زور پر وہ اپنے مخالفین کا جینا حرام کر سکتا ہے۔ دوسری طرف وینزویلا دنیا کے ہر ملک کو سستا ترین تیل فروخت کرنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ یوں ٹیرف اٹیک کے بعد امریکہ کی طرف سے پٹرول اٹیک کیا گیا ہے۔ دیکھنا ہے اس سے متاثر ہونے والے اب کیا جوابی وار کرتے ہیں۔
ٹیرف اٹیک کے بعد پٹرول اٹیک
09:19 AM, 27 Oct, 2025