وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وژن، سموگ فری پنجاب

09:17 AM, 27 Nov, 2025

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے سموگ کے تدارک کے لیے اقدامات جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر میک ویسٹ سلونشنز،تحصیل پیرمحل سموگ کی روک تھام کے لیے متحرک ہے۔لاہور بھر میں ایک ڈبلیو ایم سی کا اینٹی سموگ آپریشن شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔جس میں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جارہا ہے جس کی بدولت ماحول کو آلودگی سے صاف کیا جائے اور عوام کو سموگ سے پاک بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔ویژن آلودگی سے پاک پنجاب کے تحت بارہ کارخانوں کو بند کیا گیا ہے اور صنعتی یونٹس کو ایس او پی پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں وارننگ لیٹر بھی جاری کیے جارہے ہیں۔
گزشتہ دنوں میں کافی فیکٹریوں کے خلاف کاروائی کی گئی۔گزشتہ سال سموگ کے باعث ماحول کی آلودگی میں کافی اضافہ ہوا جو شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی۔جس کے باعث دمہ،پھیپھڑوں اور سانس کی بیماری کی بیماریوں کے بہت سے کیس رپورٹ ہوئے لیکن اس سال وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خصوصی نوٹس لیا اور سموگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اْٹھائے اور اْس پر عمل درآمد بھی کروایا۔صنعتی اور گاڑیوں کے اخراج پر سخت نگرانی کی جارہی ہیں۔صوبائی حکومت نے ایسے کارخانوں کی نشانداہی کی ہے جو ناقص ایندھن اور پرانی ٹیکنالوجی استعمال کررہے تھے جو ماحول میں آلودگی کا بھی سبب بن رہے ہیں۔اس کے ساتھ گاڑیوں کے سیاہ دھوئیں والے اخراج پر بھی کارروائی جاری ہے۔
کاشتکاری اور فصلوں کی باقیات کے احتراق کی ممانعت بھی کی جارہی ہے۔مریم نواز نے پنجاب میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کے خلاف مہم چلائی اور کاشتکاروں کو جدید مشینری فراہم کی گئی جیسے سوپر سیڈر وغیرہ تاکہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے اچھے استعمال میں لایا جاسکے۔ اس مہم کے تحت کاشتکاروں کو اس عمل سے باز رکھا گیا ہے۔اس دھوئیں کے باعث سانس کی بیماریوں، آنکھوں میں جلن، اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہورہے تھے اور جس سے انسانی صحت اور جانوروں کی صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں اور دن بہ دن سموگ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر مریم اورنگزیب کا مضمون انگریزی اخبار میں شائع ہوا جس میں اْن کا کہنا تھا۔سولہ ماہ میں ماحولیاتی شعبے میں بہتری ون گورنمنٹ ،ون وڑن ،ون مشن کی کامیابی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اے کیو آئی 2000 تک پہنچا تھا جس کے باعث تمام تعلیمی ادارے اسپشل سکول اور تمام سکولز بند کردئیے گئے تھے لیکن اس سال ایسا کچھ نہیں ہوا۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا مزید مضمون میں اظہارِ خیال تھا۔سولہ ماہ میں پنجاب حکومت نے ماحولیاتی بہتری کو ری ایکشن کی بجائے ریفارم کی شکل میں نمٹانا شروع کیا ہے جبکہ سولہ ماہ پہلے پنجاب میں ماحولیاتی مینجمنٹ کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔اسموگ نگرانی اور پیشگی سسٹم کے مطابق لاہور کا اے کیو آئی 394 سے 187 پر آگیا ہے پچھلے سال کی نسبت اس سال کی صورتِ حال قدرِ بہتر ہے۔سموگ سے زیادہ متاثر علاقوں میں وی آئی سی ایس سرٹیفکیٹ والی گاڑیوں پر پابندی لگا دی گئی ہیں۔
محکمہ ماحولیات کی ہدایت پر غیر میعاری ایندھن اور کھلی جگہوں پر کچرا جلانے اور دھوئیں کے اخراج پر سخت کاروائیاں جاری ہیں۔حکومت کی متعلقہ پالیسی کی روزانہ مانیٹرنگ سے آلودگی میں کمی آرہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں دہلی میں لاہور کی نسبت کہی زیادہ اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔لاہور میں 295 اور بھارت کے شہر دہلی میں 806 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔انسداد سموگ میں عوام کی شمولیت اور حکومت ملٹی سیکٹورل مانیٹرنگ اے کیو آئی کی شدت میں کمی کا سبب بنی ہے۔پنجاب حکومت شہریوں کو صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اْٹھا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت دی ہے فلیڈ آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی ،ڈرون مانیٹرنگ اور ڈیٹا بیس رپورٹنگ کو مزید وسعت دی جائے تاکہ سموگ کی وجوہات پر مستقل قابو پایا جاسکے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے بقول ’’عوامی تعاون ،صنعتی نظم و ضبط اور تعلیمی آگاہی کے امتزاج سے پنجاب سموگ فری بنے گا یہ صرف مہم نہیں، ایک تحریک ہے۔707 نوٹسز ،381 ڈیمولیشنز اور 521 سیلنگز غیر قانونی آلودگی پھیلانے والے یونٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری کی گئی۔567 ایف آئی آرز اور 58.8 ملین روپے جرمانے ہوئے اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائی گئی۔
2070 سکولوں میں ویسٹ سیگریگیشن ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جارہا ہے اور نئی نسل میں ماحولیاتی آگاہی کو نصاب کا حصہ بنایا جارہا ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ’’کلین ائیر پنجاب پروگرام‘‘کے تحت بڑے شہروں میں سمارٹ ائیر مانیٹرز ،گرین کوریڈور اور وہیکل ایمیشن کنٹرول اقدامات تیز کردئیے گئے۔
نومبر کے پہلے ہفتے لاہور میں 4184 گاڑیوں کا جائزہ لیا گیا جن میں877 گاڑیاں دھواں چھوڑتی پائی گئیں جس کے باعث ان کے چالان کیے گئے۔اس کے علاوہ 288 گاڑیاں بند کر دی گئیں اور اوورلوڈنگ کرنے والی 671 گاڑیوں پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا۔اے پی اے تمام اداروں کے تعاون سے مقامی سطح پر آلودگی کی مکمل نگرانی کررہا ہے۔حکومت کی عوام سے بھی ایپل ہے کہ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دے ماحول کو فضائی آلودگی سے بچانے کے لیے ہر قسم کے دھوئیں سے اجتناب کریں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائے۔عوامی تعاون کے بغیر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا مشکل ہے۔اس دفعہ نومبر میں سے اے کیو ائی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس کی نسبت گزشتہ سالوں میں نومبر کے ماہ میں بے حد اے کیو ائی ریکارڈ کیا گیا ہے۔اے کیو آئی میں دن بہ دن کمی دیکھنے کو مل رہی ہے جو وزیر اعلیٰ مریم نواز کی بنائی گئی پالیسیوں حکمتِ عملی اور انسداد سموگ کے باعث ممکن ہوا ہے۔فری سموگ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے حکومتِ پنجاب کی کوشش جاری ہے اور کئی حد تک اس کو یقینی بنایا بھی گیا ہے۔

مزیدخبریں