کابل کی الزام تراشی اور جھوٹ کا لامتناہی سلسلہ

09:17 AM, 27 Nov, 2025

خطے کی سیاست میں جھوٹ ایک پرانا ہتھیار ہے، مگر کچھ حکومتیں اس ہتھیار کو اتنی بیدردی اور بددیانتی سے استعمال کرتی ہیں کہ سچائی بھی حیران رہ جاتی ہے۔ افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کی جانب سے خوست میں پاکستان پر مبینہ فضائی حملے کا الزام اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی کوآرڈینیٹس، نہ آزاد مبصرین اور نہ ہی ہلاکتوں کے ریکارڈ صرف ایک ٹویٹ، کچھ پراپیگنڈہ اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پر گھومتی پرانی، ایڈٹ شدہ تصاویر کیا یہ ہے کابل کی خارجہ پالیسی کی حقیقت؟۔
افغانستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ حقیقت اسے معلوم نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سچ اس کے بیانیے کی موت ہے۔خوست برمال کا علاقہ برسوں سے طالبان دھڑوں کی اندرونی لڑائیوں، ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کی باہمی دشمنیوں، اور خارجی گروہوں کی جھڑپوں کا قبرستان رہا ہے۔ دھماکے وہاں کوئی نئی بات نہیں مگر اکثر یہ دھماکے انہی شدت پسند گروہوں کے محفوظ گھروں میں غلطی سے ہونے والے بارودی دھماکوں یا باہمی ٹکراؤ کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ مگر افغانستان کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس کی اپنی سرزمین پر شدت پسند گروہ آزادانہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس کا آسان حل ان کے پاس یہ ہے کہ ہر حادثے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا جائے کیونکہ پاکستان ان کے جھوٹ کا سب سے سہل شکار سمجھا جاتا ہے مگر اس بار کابل کی گھبراہٹ کچھ زیادہ ہے اوروہ اس لیے کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس، وانا کیڈٹ کالج اور پشاور حملوں میں افغان شہری ملوث ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے کابل نہ جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہضم کر سکتا ہے۔ پاکستان کا جائز حقِ دفاع کابل کے اعصاب پر سوار ہے، اور اسی خوف نے ان سے یہ ناتراشیدہ، بے ثبوت الزام لگوایا۔
پاکستان نے ہمیشہ اپنی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہم وہ ریاست نہیں جو پردوں کے پیچھے حملے کرے اور دنیا سے جھوٹ بولے۔ جب پاکستان کارروائی کرتا ہے تو دنیا اسے دیکھتی ہے، اور کابل بھی دیکھ چکا ہے اور اکتوبر کے واقعات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ اس کے مقابلے میں افغانستان کی طرف سے پیش کیے گئے ’’ثبوت‘‘ وہی پرانے، ایڈٹ شدہ، یا شام اور غزہ کے جنگی آرکائیوز سے چرائی گئی تصاویر ہیں جو افغان پراپیگنڈہ اکاؤنٹس پر چلا دی جاتی ہیں۔سوال در اصل یہ ہے کہ کیا کابل واقعی نہیں جانتا کہ خوست–برمال کوئی شہری علاقہ نہیں؟ جواباً یہی کہنا بجا ہوگا کہ یہ وہ بیلٹ ہے جو اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے روٹس، محفوظ ٹھکانوں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کے طور پر درج ہے۔ جو گھر کابل’’شہری‘‘کہہ رہا ہے، انہی گھروں سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے، انہی گھروں میں بارودی مواد تیار ہوتا ہے، اور انہی گھروں میں خودکش جیکٹیں سلتی ہیں۔ مگر کابل ان گھروں کو چھپانا چاہتا ہے، اسی لیے پاکستان کی جانب سے بارہا پیش کی گئی ’’مشترکہ تصدیقی ٹیم‘‘کی پیشکش ہمیشہ رد کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تصدیق ہوئی تو جھوٹ ختم ہو جائے گا، اور جھوٹ کے بغیر کابل کی سفارتی بقا مشکل ہے۔
افغانستان کی الزام تراشی ہمیشہ ایک خاص پیٹرن کے تحت ہوتی ہے، ایک منصوبے کے تحت ہوتی ہے اور اس بار بھی بھارت کے پراپیگنڈہ نیٹ ورک نے فوراً اس بیانیے کو amplify کرنا شروع کر دیا۔ بھارت اور کابل کی یہ ہم آہنگی کوئی راز نہیں بلکہ دونوں کو پاکستان پر الزام لگانا اپنی ضرورت لگتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ان پروپیگنڈہ مہمات کا مقصد صرف دنیا کی توجہ اس حقیقت سے ہٹانا ہے کہ افغانستان کی سرزمین آج بھی پاکستان مخالف دہشت گرد جماعتوں کا محفوظ پناہ گاہ ہے۔کابل اس وقت عالمی سفارتی دباؤ میں ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب، روس اور ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی بداعتمادی کے خاتمے کے لیے متحرک ہیں۔ مگر کابل یہ نہیں چاہتا کہ بین الاقوامی برادری اس کی زمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس پر انگلی اٹھائے۔ اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اس نے ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،مگر یہ کوشش اتنی کمزور، اتنی بے بنیاد اور اتنی بچگانہ ہے کہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے، کابل کی اپنی کمزوریوں کو زیادہ نمایاں کر رہی ہے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ افغانستان کے عوام نہیں، بلکہ ایک ایسی حکومت ہے جو اپنے سائے سے بھی خوفزدہ ہے اور ہر غلطی پر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی نااہلی چھپانا چاہتی ہے۔اگر کابل سچ میں خطے کے امن کا خواہاں ہے، تو اسے چند بنیادی اقدامات اختیار کرنا ہوں گے۔ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کی پناہ گاہیں ختم کرے،افغانستانی خودکش حملہ آوروں کی سرپرستی بند کرے،اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور سب سے بڑھ کر، ہر واقعے کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگانے کی روش ترک کرے۔ مستقبل کا راستہ صاف نظر آتا ہے کہ مشترکہ تصدیق، مشترکہ انسدادِ دہشت گردی میکانزم، اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کی تحریری ضمانتیں ہونی چاہیئں،اوراگر کابل یہ اختیار نہیں کرتا تو اس کے جھوٹے الزامات، ٹویٹس، اور پراپیگنڈہ ویڈیوز نہ پاکستان کو روک پائیں گی اور نہ افغانستان کی گرتی ساکھ کو سنبھال سکیں گی۔کیونکہ دنیا اب شواہد مانگتی ہے، بیانات نہیں ،اور کابل کے پاس شواہد صفر ہیں، مگر جھوٹ کا سلسلہ لامتناہی ہے۔

مزیدخبریں