فارم 47کا بیانیہ تو اُڑ گیا

09:13 AM, 27 Nov, 2025

23نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات نے تحریک انصاف کے فارم47والے بیانیہ کو اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ بات اگر صرف پنجاب میں ہونے والے انتخابات اور ان میں تحریک انصاف کی شکست کی ہوتی تو ایک بار پھر فارم 47اور دھاندلی کا واویلا بڑے زور و شور سے شروع ہو جانا تھا لیکن خیبر پختونخوا کہ جہاں پر پریذائیڈنگ افسر اور آر او سمیت پولنگ کے تمام عملے کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا وہاں سے بھی اگر 43ہزار ووٹوں کے بڑے مارجن سے شکست ہو تو پھر فارم47ہی نہیں بلکہ ہر طرح کا بیانیہ اب ’’وڑ ‘‘ چکا ہے ۔ پتا نہیں وہ کون لوگ تھے کہ جنھیں عمران خان کی عوام میں بے پناہ مقبولیت والی بات پر یقین تھا لیکن ہم بار بار اس بات کا ذکر کرتے رہے اور دلائل کی روشنی میں ثابت کرتے رہے کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت والی بات صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے اور سوشل میڈیا پر جعلی اکائونٹ بنا کر کسی بھی بات کو وائرل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ پیسے خرچ کرنا ہوتے ہیں اور ایسے اکائونٹ بن جاتے ہیں کہ جہاں پر ایک کلک کرنے پر کئی ہزار لائیک مل جاتے ہیں تو سوشل میڈیا کسی بھی بات کو سمجھنے یا پرکھنے کا پیمانہ نہیں ہے ۔ ہمیں یاد ہے کہ جنرل مشرف نے پاکستان آنا تھا تو کسی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے استقبال کے لئے کتنے افراد آئیں گے تو انھوں نے کہا تھا کہ لاکھوں افراد آئیں گے اس لئے کہ سوشل میڈیا پر ان کے ساڑھے آٹھ لاکھ فالوورز ہیں لیکن جب ان کا طیارہ کراچی ایئر پورٹ پر اترا تو ایئر پورٹ کے باہر کوئی ڈھائی تین سو کے قریب افراد موجود تھے ۔ ہم دلائل کے ساتھ عمران خان کی مقبولیت کے دعوئوں کی مسلسل نفی کرتے رہے لیکن سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے دوست بھی اس بات پر بضد رہے کہ ان کی عوام میں بہت زیادہ مقبولیت ہے لیکن پھر جب احتجاج کی ہر کال ناکام ہوتی چلی گئی بلکہ بری طرح ناکام ہو گئی تو پھر کہیں کہیں یہ سوال اٹھنے لگا کہ بانی پی ٹی آئی کی اگر عوامی مقبولیت ہے تو پھر عوام ان کی کال پر احتجاج کے لئے باہر کیوں نہیں نکلتے تو اس پر پھر ایک جھوٹ گھڑا گیا کہ عمران خان کا حمایتی ایک پڑھا لکھا نوجوان طبقہ ہے جو ووٹ تو دیتا ہے لیکن مار دھاڑ اور احتجاج کرنے کے لئے وہ کبھی باہر نہیں نکلا اورپھر پنجاب میں اس قدر سختی کی جاتی ہے کہ اس انتہائی خوف زدہ ماحول میں کون احتجاج کے لئے باہر نکلتا ہے تو اس پر ہم نے کہا تھا کہ چلیں پنجاب میں تو سختی ہے لیکن خیبر پختون خوا میں تو کوئی رکاوٹ نہیں وہاں سے ہی اگر زیادہ نہیں ایک لاکھ لوگ ہی اسلام آباد کی طرف احتجاج کے لئے آ جائیں تو کسی میں جرأت نہیں ہو گی کہ اتنے بڑے مجمع کو روک سکے لیکن صوبہ کے تمام وسائل کو استعمال کرنے کے بعد بھی اگر پانچ دس ہزار سے زیادہ بندہ نہیں نکلتا تو اس سے بھی عمران خان کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
اس پر ایک اور بیانیہ گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی عوام کبھی کسی کے لئے سڑکوں پر نکلے ہی نہیں تو ہم نے پھر انہی تحریوں میں کہا کہ یہ سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ ایوب خان کے خلاف 1962میں طلبہ تحریک چلی پھر1967میں تحریک چلی ۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1977میں اور جنرل ضیاء کی طاقت کا سورج جب سوا نیزے پر تھا تو1983میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی اور مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک تو ابھی کل کی بات ہے ۔ اس پر پھر ایک اور نیا جھوٹ مارکیٹ میں لانچ کیا گیا اور اس سے اکثر لوگ بیوقوف بن گئے کہ در حقیقت احتجاج کے لئے لوگ اس وجہ سے نہیں نکل رہے کہ عمران خان جیل میں ہے اور حکومت ان سے خوف زدہ ہے کہ اگر وہ باہر نکل کر تحریک کی قیادت کریں گے تو پھرحکومت اس تحریک کے سامنے ٹھہر نہیں پائے گی تو ہم نے اس پر کہا تھا کہ یہ بھی غلط ہے اس لئے کہااکتوبر2022میں جب لبرٹی چوک لاہور سے لانگ مارچ عمران خان کی اپنی قیادت میں شروع ہوا تھا تو اس میں ڈیڑھ دو ہزار سے زیادہ افراد نہیں تھے اور اس لانگ مارچ نے بڑی مشکل سے راوی کا پل کراس کیا تھا اور شاہدرہ میں لانگ مارچ والے اپنے گھر اور خان صاحب اپنے گھر چلے گئے تھے اور اس کے بعد ہر روز شام کے وقت اگلے شہر میں ایک چھوٹی سی جلسی ہوتی اور سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تاوقتیکہ وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا اور پھر راولپنڈی میں اعلان کے باوجود بھی عوام کی قلیل تعداد کی وجہ سے دھرنے کو منسوخ کرنا پڑا ۔
بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کی حقیقت کا یہ ایک مختصر سا احوال تھا جو ہم ماضی میں اپنی انہی تحریروں میں قارئین کی نذر کرتے رہے ہیں اور اب ضمنی انتخابات کے نتائج نے ہمارے اس موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ۔ انتخابات میں بھی دھاندلی اور فارم 47کا واویلا کیا جا سکتا تھا اور اس کی کوشش بھی کی گئی لیکن ایک توNA-18ہری پور سے جو نتیجہ آیا اور پھر جتنے بڑے مارجن سے شکست ہوئی اس نے دھاندلی اور اس طرح کے تمام بیانیوں کو اڑا کر رکھ دیا ہے اور یہی حال پنجاب میں ہوئے انتخابات کا ہے کہ ان میں بھی فتح کا مارجن اتنا زیادہ تھا اور پھر ہر جگہ جس طرح انتہائی پر امن ماحول میں انتخابی عمل ہوا تو اس کے بعد فارم47والا بیانیہ تو دفن ہو چکا ہے ۔ 

مزیدخبریں