آئی ایم ایف کے آئینے میں ہمارا چہرہ

09:13 AM, 27 Nov, 2025

 آئی ایم ایف کی پاکستان میں کرپشن اور گورننس پر رپورٹ کی بنیاد پر چند انتہائی تشویشناک اور ہوش ربا نکات سامنے آئے ہیں جن پر ہمارے سیاسی اور اقتصادی نظام کی خرابیاں نمایاں ہوئی ہیں۔کیا اتنی بڑی سرکاری مشینری اور انسداد بدعنوانی کے ادارے رکھتے ہوئے ہمیں کوئی اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں نہیں بتا سکتا جو آئی ایم ایف کو سامنے آنا پڑا۔یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہمارے فائدے کی بات آئی ایم ایف کر رہا ہے۔ضرورت ہے کہ پاکستان کے اداروں کی شکل بدلی جائے، کارکردگی ٹھیک کی جائے۔اس وقت کرپشن کا یہ حال ہے کہ بدعنوان شخص شریف لوگوں کا منہ چڑاتا ہے اور شریف لوگ ان کے شر سے دبکے پھرتے ہیں۔یہ گویا سماج کو بدعنوانوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہے ،ایسے میں نظام کا مثبت چہرہ کیسے ابھرے گا؟ ۔
سب سے پہلے، آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا دائرہ صرف نیچے کی سطح تک محدود نہیں بلکہ یہ گڑھا طاقتور اور مراعات یافتہ حلقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ وہی طبقے جو ریاستی سرمایہ کاری، سرکاری ادارہ جاتی اثاثوں اور سرکاری ٹھیکوں پر اجارہ رکھتے ہیں، وہی نظام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ ’’ایلیٹ کیپچر‘‘ نہ صرف موجود ہے بلکہ اتنی انتہا پر ہے کہ اس نے معاشی نمو کو روک رکھا ہے۔ یہی بات اس رپورٹ کا سب سے خطرناک اور سب سے زیادہ نقصان دہ عنصر ہے کہ جب طاقتور حلقے ریاستی وسائل اور اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کریں تو نظام کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے اور عوام کا نقصان ۔ 
 رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام پیچیدہ اور غیر شفاف ہے۔ اس میں غیر ضروری استثنیٰ، ناقص نگرانی اور موثر داخلی کنٹرول کی کمی ہے، خاص طور پر وفاقی محصولاتی ادارے (ایف بی آر) میں۔ یہ وہ بنیادی ساخت ہے جو بدعنوانی کو قوت دیتی ہے اور عام شہری کی بجائے طاقتور افراد کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح عوامی اخراجات اور سرکاری خریداری کے معاملات میں گورننس کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری خریداری میں شفافیت انتہائی کم ہے اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں (SOEs) میں سیاسی مداخلت اور غیر شفاف پروکیورمنٹ خطرناک حد تک عام ہے۔ ایسے ادارے جو قومی دولت کے منیجر ہونے کے لیے بنائے گئے تھے، وہی طاقتوروں کے لیے منافع کے مرکز بن چکے ہیں۔  عدلیہ پر بھی آئی ایم ایف نے شدید تحفظات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی نظام فرسودہ قوانین، سست عدالتی کارروائی اور دیانت دار عملے کی کمی کا شکار ہے۔ یہ عوامل بدعنوانی کو جڑ پکڑنے کا ایک مضبوط راستہ فراہم کرتے ہیں کیونکہ غیر شفاف اور سست انصاف طاقتور افراد کو آسانی سے سرکاری وسائل ہتھیانے اور اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب قانون پر اعتماد نہ ہو، عدالتیں نہ فوری اور نہ منصفانہ فیصلے کریں تو احتساب کا عمل کمزور رہتا ہے اور مافیا کو آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ’’قانون کی ڈھال‘‘ مل جاتی ہے۔
رپورٹ خاص طور پرسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) پر سوالات اٹھاتی ہے ۔یہ کونسل بننے سے پہلے میں نے کئی کالم لکھے، کالموں میں لکھا کہ سرمایہ کاروں کو سرکاری افسروں کے ہاتھوں گھن چکر بننے سے بچایا جائے، سعودی قیادت کے علاوہ میری اور میرے ساتھی کاروباری افراد کی تجویز بھی ایسا ادارہ بنانے کی تھی۔ فیلڈ مارشل نے خصوصی احکامات دئیے لیکن کوئی ہے جو اسے فعال کردار سے روک رہا ہے۔ یعنی وہی ادارہ جو معاشی ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، درحقیقت طاقتور حلقے کے مفادات کے تحفظ کا آلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک سنگین بحران ہے کہ فیصلے عوامی مفاد کی بجائے طاقتور سبوتاژی عناصرکے زیر اثر ہیں۔آئی ایم ایف نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر پندرہ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرے، جس میں شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور اینٹی کرپشن اداروں کی تنظیم نو شامل ہو۔ خاص طور پر، اس نے SIFC کی پہلی سالانہ رپورٹ فوری طور پر شائع کرنے اور اس میں تمام مراعات، فیصلوں اور ان کے جواز تفصیل سے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام جان سکیں کہ کون کونسی سرمایہ کاری لائی گئی ہے، کن لوگوں کو کیا مراعات دی گئیں اور نتیجہ کیا نکلا۔ یہ مطالبہ محض کاغذی اصلاحات کی بات نہیں، بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی ضرورت ہے تاکہ طاقت کی بے لگام سمت پر قابو پایا جائے اور عوامی وسائل پر شفاف کنٹرول قائم ہو سکے۔
 آئی ایم ایف نے اینٹی کرپشن اداروں جیسے نیب اور ایف آئی اے کو مزید موثر اور آزاد بنانے کی بات کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اداروں کو نہ صرف تکنیکی اور مالی صلاحیت میں مضبوط کرنا ہوگا بلکہ ان کے مداخلتی دائرے، ان کی تحقیقات کی شفافیت اور قانونی خود مختاری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ اگر یہ ادارے طاقتور سیاسی حلقوں کے دباؤ سے آزاد نہ ہوں گے تو ان کا احتساب سسٹم کبھی خودکار دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا اور کرپشن مافیا کو اپنا تسلسل برقرار رکھنے کا موقع ملتا رہے گا۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کا سب سے بڑا حصہ اْس پیشن گوئی پر مشتمل ہے کہ اگر پاکستان یہ اصلاحات سنجیدگی سے نافذ کرے تو آئندہ پانچ سال میں معیشت پانچ فیصد سے 6.5 فیصد تک اضافی جی ڈی پی حاصل کر سکتی ہے۔ یہ محض ایک نظریاتی تجزیہ نہیں، بلکہ عملی مواقع کی بات ہے کہ شفاف حکمرانی اور ذمہ دار ادارے نہ صرف کرپشن کو کم کریں گے بلکہ ترقی کو تیز بھی کریں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں وہ سیاسی اور سماجی قوتیں موجود ہیں جو اس تعمیر نو کا ارادہ رکھتی ہوں؟ کیا وہ طبقات جو بدعنوانی کے نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اسے تباہ کرنے دیں گے؟ یہ وہ چیلنج ہے جس کا حل صرف تکنیکی اصلاحات سے نہیں ہو سکتا بلکہ ایک عوامی اور اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے۔
یہ رپورٹ ہمیں کچھ سکھاتی ہے، کہ بدعنوانی صرف ایک معاشی زخم نہیں، بلکہ ایک سیاسی مرض ہے۔ اس کا علاج صرف قانون سازی یا ادارہ جاتی اصلاحات سے نہیں ہو گا، بلکہ پوری سماجی اور اخلاقی فضا کو تبدیل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، یہ وقت محض مالیاتی دباؤ کا نہیں، بلکہ پاکستان کی قومی خود شناسی اور مستقبل کی تعمیر کا ہے۔فیلڈ مارشل کو ایک بار پھر اس طرف دیکھنا ہو گا۔وزیر اعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، اگر ہم اصلاحات کو محض بیوروکریٹک باتیں سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو ہمیں وہ معیشت ملے گی جو آئی ایم ایف کی پیشگوئی کے برعکس روز بروز کمزور اور غیر مستحکم ہو گی۔ لیکن اگر ہم اس رپورٹ کو ایک موقع سمجھیں تو دولت کی لوٹ مار کا نظام ختم کیا جاسکتا ہے اسے ایسے نظام میں ڈھالا جا سکتا ہے جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں شفاف، مؤثر اور کاروبار دوست ریاست بنا دے۔

مزیدخبریں