پی ٹی آئی کی مقبولیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

09:13 AM, 27 Nov, 2025

ضمنی انتخابات 2025: قومی اسمبلی کی چھ اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر انتخابات ہو چکے، نتائج بھی آچکے، جیتنے والوں نے فتح کا جشن بھی منا لیا۔ مبارکبادیں دی بھی جا چکیں اور وصول بھی پائی گئی ہیں۔ قلعہ لاہور فتح کیا جا چکا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اس پر اپنا جھنڈا لہرا چکی ہے۔ ویسے میاں اظہر کی وفات سے خالی ہونے والی لاہور کی نشست اور عمر ایوب خان کی نااہلی سے خالی ہونے والی ہری پور ہزارہ کی نشستوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید یہ دونوں نشستیں تحریک انصاف جیت جائے لیکن یہ دو نشستیں بھی ن لیگی امیدوار نے جیت کو ثابت کر دیا ہے کہ ووٹرز بے وقوف نہیں ہیں۔ انہیں تحریک انصاف کی قیادت کی نالائقیاں اور ہٹ دھرمیاں واضح طور پر نظر آرہی ہیں اور وہ انہیں سپورٹ کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ تحریک انصاف نے عمومی طور پر ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن عمر ایوب نے اپنی خالی کردہ یا خالی شدہ سیٹ پر اپنی اہلیہ کو کھڑا کر کے اپنی پارٹی پالیسی ے کھلا انحراف کیا اولاً الیکشن بائیکاٹ کے فیصلے سے روگردانی کی، دوم پی ٹی آئی کی پالیسی موروثی سیاست کے حوالے سے بڑی واضح ہے، چاہے بیانات کی حد تک ہی کیوں نہ ہو، عمران خان دیگر جماعتوں کو موروثی جماعتیں کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ عمر ایوب نے اپنی نشست پر اپنی اہلیہ کو کھڑا کر کے اپنی پارٹی کے اس بیانیے کی ہی کھلی خلاف ورزی کی ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ پارٹی اعلان کے مطابق الیکشن کا بائیکاٹ کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ویسے تو اس حوالے سے ان کی پارٹی بھی دوعملی کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ ایکشن 2024ء کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں اور اسمبی کو فارم 47 کی پیداوار گردانتے ہیں لیکن اسمبلی میں بیٹھے بھی ہیں۔ اجلاسوں میں حاضریاں بھی لگواتے ہیں۔ ٹی اے ڈی اے بھی وصول کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی عمر ایوب نے کہا ہے ان کا خیال تھا کہ یہ نشست انہی کی ہے اور ان کے پاس ہی رہنی چاہئے یعنی خاندان میں ہی رہنی چاہئے، بہرحال ان کی سوچ شکست کھا چکی ہے اور بری طرح پٹ چکی ہے۔
دوسری طرف میاں اظہر مرحوم کی خالی شدہ نشست پر بھی ایسا ہی ہوا۔ خاندان کا خیال تھا کہ یہ نشست ان کی خاندانی ملکیت ہے اس لئے اسے ان کے پاس ہی رہنا چاہئے۔ حماد اظہر الیکشن لڑ نہیں سکتے تھے، وہ روپوش ہیں، مطلوب ہیں، ان کے لئے الیکشن لڑنا ممکن نہیں تھا لیکن انہوں نے بھی سیٹ خاندان میں ہی رکھنا مناسب سمجھا اور ٹکٹ میاں اظہر کے رشتے میں نواسے اور اپنے کزن کو دلوایا، اس کے باوجود وہ یہ نشست جیت نہیں سکے، بہرحال مسلم لیگ ن نے یہ چھ نشستیں جیت کر قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 336 کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لئے 169 نشستیں درکار ہوتی ہیں، سردست مسلم لیگ کی 126، ایم کیو ایم 22، ق لیگ 5، استحکام پاکستان پارٹی 4، مسلم لیگ ضیائ1، بلوچستان عوامی پارٹی 1، نیشنل پارٹی 1 اور 4آزاد امیدواران کو شامل کر کے 164 نشستیں بنتی ہیں۔ ایک نشست بلال تارڑ کی بھی ہے۔ یہ این اے 66 وزیرآباد کی سیٹ ہے جو حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے محمد احمد چٹھہ کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ عطا تارڑ کے بھائی بلال تارڑ نے یہ نشست بلامقابلہ جیت لی ہے اس طرح مسلم لیگ ن و اتحادیوں کی 164 نشستوں کی تعداد (164+7) 171 ہو گئی ہے، گویا سادہ اکثریت سے بھی 2 نشستیں زیادہ ہو گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن عددی اعتبار سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ 7 صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے 6 ن لیگ جیت گئی ہے، اس طرح اس کی پنجاب اسمبلی میں 2/3 اکثریت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ راجن پور سے ایک نشست پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت پہلے سے ہی سے جیتی ہے۔ ن لیگ نے یہاں اپنا امیدوار ہی کھڑا نہیں کیا تھا۔
ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی طے ہو گیا۔ نئے نظام نے بقول خواجہ آصف ہائبرڈ نظام نے ایک اور قدم آگے بڑھا لیا ہے۔ بڑی کامیابی اور مہارت کے ساتھ یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جھک جھک پہلے کی طرح جاری ہے لیکن اس کی پذیرائی پہلے جیسی نہیں ہے، اس کی اہمیت و افادیت میں گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ عمران خان ایک ہارے ہوئے جواری اور تھکے ہوئے کھلاڑی کی طرح احتجاج احتجاج کی صدائیں بلند کر رہے ہیں لیکن ان کی حدت اور شدت میں کمزوری بڑی وضاحت کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عمران خان کی رہائی کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے جبکہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی تتر بتر ہو چکی ہے۔ فارورڈ بلاک کی آوازیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہ بنتا بھی ہے یا نہیں، ابھرتا بھی ہے یا نہیں لیکن ایک بات بڑی واضح ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی سور گباش ہوتی جا رہی ہے۔ عمران خان نے اب 29نومبر کو احتجاج کی کال دی ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر مریدین کو نکلنے کا حکم جاری کیا ہے۔ وہ ایسے احکامات پہلے بھی دیتے رہے ہیں۔ ریاست تخریب کاروں اور فسادیوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹ رہی ہے۔ ریاست نے اب تخریب کاروں اور فسادیوں کے حواریوں اور دواریوں کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ اعلان عملاً پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ کے پی اور پنجاب سے روزانہ ہفتہ وار اور ماہانہ کی بنیادوں پر سیکڑوں نہیں ہزاروں غیر قانونی طور پر یہاں رہنے والے افغانیوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان پاکستان کا دشمن قرار پا چکا ہے۔ وہ ہمارے ازلی و ابدی دشمن بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو آتش و آہن میں مبتلا کرنے کی منصوبہ سازیاں کر رہا ہے۔ افغان طالبان حکومت پاکستان دوست ثابت نہیں ہوئی ہے۔ ہماری 1979ء سے ترتیب کردہ افغان پالیسی غلط ثابت ہو گئی ہے۔ ہم مجاہدین و طالبان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر سوویت افواج کے خلاف اور امریکیوں کی تباہ کن کارروائیوں سے بچاتے رہے۔ ہم نے اپنی زمین افغانیوں کے لئے کھول دی تھی۔ افغانستان ایک تباہ حال ملک ہے جہاں دو وقت تو کیا ایک وقت کی روٹی کا حصول بھی ممکن نہیں ہے۔ اگر پاکستان ان کے لئے اپنے دل و دروانہ کرے تو افغان بھوکے مر جائیں اور اب وہاں ایسا ہو بھی رہا ہے۔ پاکستان نے افغانوں کے پیچ ٹائٹ کرنا شروع کئے تو افغانوں کو نانی ہی 
نہیں بلکہ دادی بھی یاد آنے لگی ہے۔ طالبان حکمران نہ صرف ہمارے دوست ثابت نہیں ہوئے بلکہ ہمارے دشمنوں یعنی ٹی ٹی پی اور بھارت سرکار کے دوست بن گئے ہیں گویا ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ ریاست پاکستان نے پاکستان کے دشمنوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا ہے اور عملاً جنگ جاری بھی ہے۔ اندرون ملک کچھ عناصر کچھ عناصر نہیں صرف پی ٹی آئی اور اس کے ہمنوا ان دشمن پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی یہ سب پاکستان کے خلاف برسر عمل ہی نہیں بلکہ برسر جنگ ہیں۔ ریاست پاکستان ان کے خلاف برسر عمل ہے۔پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر گروہوں کے خلاف تو عزم بالجزم کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ تحریک انصاف کے خلاف ابھی اس انداز میں کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ ریاست پاکستان ان کے خلاف تحمل و بردباری کے ساتھ مصروف عمل ہے لیکن جس انداز میں تحریک انصاف ملک دشمنی پر ابتری ہوئی نظر آرہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ ریاست کو اس کے خلاف بھی قطعی ایکشن کرنا ہو گا۔ اسے بھی آہنی ہاتھوں سے ہی نمٹنا ہو گا۔ وگرنہ تحریک انصاف جس طرح فکری انارکی کو فروغ دے رہی ہے اس سے پاکستان کی اپنے دشمنوں کے خلاف جاری جنگ کی اثر پذیری متاثر ہو سکتی ہے۔ ویسے عوام تو اس کا کریا کرم کرنے پر تلے دکھائی دے رہے ہیں لیکن برائی کے مکمل خاتمے کے لئے حتمی اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے اور وہ قدم ہی حتمی ہو گا جو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑپھینکے گا۔

مزیدخبریں