0.1

09:18 AM, 27 Nov, 2025

جنگل کی آگ کی طرح پھیلنا آپ نے کتابوں اور افسانوں میں پڑھا ہوگا اس کی اگر عملی تفسیر دیکھنا چاہیں تو آج کل سوشل میڈیا پر PMS پنجاب کی ایک کامیاب امیدوار کی DMC یا عرفِ عام میں رزلٹ کارڈ کی تشہیر ہے۔ موصوفہ نے تحریری امتحان 806 نمبروں سے پاس کیا، جو مقابلے کے امتحان کو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لیے عرض کرتی چلوں کہ یہ امتیازی نمبر ہیں، اتنے نمبروں سے آپ پنجاب بھر میں پہلی چند پوزیشنز پہ براجمان ہو سکتے ہیں، لیکن دلچسپ امر یہاں یہ ہے کہ انہیں 99.9 دے کر انٹر ویو میں فیل کر دیا گیا۔ عوام الناس کی جانکاری کے لیے بتاتی چلوں کہ تحریری امتحان بارہ سو کا ہوتا ہے جو چھ سو پہ پاس کیا جاتا ہے اور پنجاب کا انٹر ویو دو سو نمبر کا ہے وہ سو پر پاس کیا جاتا ہے۔ اور جو بیس پچیس ہزار میں سے چند سو لوگ امتحان پاس کرتے ہیں ضروری نہیں کہ انہیں سیٹ بھی ملے، اس کے مختلف محرکات ہو سکتے ہیں، اور امیدوار کی آئندہ آنے والی کاوشوں اور نجی زندگی پہ اس کے انگنت اثرات مرتب ہوتے ہیں، میں یہ سب باتیں اتنے وثوق سے اس لیے لکھ رہی ہوں کہ ناچیز نے خود چار مرتبہ امتحان پاس کیا، دو سی ایس ایس اور دو پی ایم ایس، چاروں مرتبہ سیٹ حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی اور شاید یہ میری خوش قسمتی تھی، بہر حال میں بس سیٹ اس لیے حاصل نہیں کر پائی کہ میرے تحریری امتحان میں نمبر کم تھے، اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ میرے سبجیکٹ ٹارگٹ ہو گئے، اب یہ ایک الگ قصہ ہے اس کی تفصیل چھوڑیے، خیر اس کے بعد میں نے بیسیوں دفعہ آٹھویں فیل لوگوں کو میرے منہ پہ کہتے سنا کہ ‘‘ویسے بولنے میں تو بڑی تیز ہے انٹرویو میں کیسے رہ گئی؟’’ کم عمری ناسمجھی اور ازلی جذباتیت میں شروع شروع میں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اسے میرٹ نہ بننا کہتے ہیں انٹرویو میں رہ جانا نہیں، جیسے جیسے کچھ عقل اور شعور آیا میں نے لوگوں اور ان کی باتوں پہ مٹی ڈال دی اور کمال بے نیازی سے زندگی میں آگے بڑھ گئی کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ کل قریبی دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں اس نتیجے پہ خوب چرچا ہوئی، گروپ کے ممبران میرے سات آٹھ ایسے دوست ہیں جن کے ساتھ ملکر میں نے چند برس قبل اس امتحان کی صعوبتیں برداشت کیں، آدھے ملک کے مختلف حصوں میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور چند ایک میری طرح جو پاس کر کے سیٹ حاصل نہیں کر سکے وہ زندگیوں میں ویسے آگے بڑھ گئے ہیں اور الحمدللہ کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ سروس والوں سے زیادہ پرسکون اور خوش ہیں۔ تو خیر سوال یہ اٹھایا گیا کہ آخر 0.1 کس بات کا کاٹا گیا؟ مطلب اگر فیل ہی کرنا تھا تو ساٹھ ستر پہ کر دیتے، چلو نوے پہ کر دیتے یہ 99.9 کا کیا چکر ہے؟ آپ حساب لگائیے کہ فقط 0.1 اور دے دیتے تو وہ کل کو اسٹنٹ کمشنر ہوتی۔ اب یا تو وہ بچی پینل کی ایگو (عزتِ نفس) پہ کوئی ایسی کاری ضرب لگا آئی ہے کہ انہیں بہت دیر تلک مرچیں لگیں، کہ وہ ممتحن کے منصب سے نیچے اتر آئے اور آستینیں چڑھا کے بولے کہ بیٹا اب تو دیکھ میں کیا کرتا ہوں۔تو یا پھر اس بچی نے در حقیقت کوئی اتنی جاندار چول ماری کہ انہیں فیل کرنا پڑا، جس بات کہ امکان قدرے کم ہیں، کیونکہ 820-830 والے کچھ امیدواران کو بھی فیل کیا گیا ہے لیکن 0.1 والی بے نظیر بے غیرتی اور کہیں نہیں دکھائی گئی، معاملہ یقیناً دم پر پاؤں پڑنے کا ہی ہے۔ کیونکہ اگر یہ کند ذہن ہوتی تو اسے پچھلی کاوش میں 713 پہ 117 نمبر نہ دیئے جاتے۔ یا تو گزشتہ برس پینل نے بوٹی سونگھی ہوئی تھی کہ پہلے ججمنٹ کچھ اور دی یا پھر اس برس پینل کے ساتھ کچھ ایسا اندوہناک ہوا کہ انہوں نے بوٹی ہی اکھاڑ پھینکنے کا سوچا۔ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ سی ایس ایس پینل نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور پالشڈ ہوتا ہے یا آسان بھاشا میں کہوں تو رجا ہوا ہوتا ہے جبکہ پی ایم ایس کا پینل احساسِ کمتری کا مارا ہوا نکلتا ہے، کوئی باہر سے ڈگری کر کے آجائے، کسی نے حد سے زیادہ تقریری مقابلے جیتے ہوں، بیرونِ ملک کانفرنس پہ گیا ہو تو بجائے شاباشی دینے کے یہ جل بھن جاتے ہیں۔ 
دلچسپ سوال تاحال یہی ہے کہ 0.1 کس بات کے کاٹے؟ بچی باہر جا کر کیا بتائے گی کہ جی میری جوتی کی ہیل پینل کی ایگو سے 0.1 انچ بڑی تھی؟ یا میرا علم 99.9 فیصد تلک درست تھا؟ مجھے تو یہاں ڈیٹول صابن کا وہ 0.1فیصد ڈھیٹ کٹانو یاد آرہا ہے جو بیماری پھیلانے سے باز نہیں آتا۔ اب اسے ہم نصیب کا چکر تو کم از کم بالکل نہیں کہہ سکتے۔ یہاں ظلم یہ بھی ہے کہ بچی کے آٹھ سو سے اوپر نمبر بھی ضائع ہوئے اور ایک کاوش بھی، اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان ہٹ دھرم بڈھوں کا کوئی گریبان نہیں پکڑ سکتا جن سے 0.1 کٹانو نے یہ اوچھی حرکت کرائی۔ ہر سال آپ کا چار پانچ سو انتہائی قابل ذہن سیٹوں سے محروم رہ جاتا ہے اور آپ اگلے برس نئی آسامیوں پہ بھرتیوں کا اشتہار چلا دیتے ہیں، بیس پچیس ہزار بچے سے امتحان میں بیٹھنے کی فیس ٹھگتے ہیں اور ان قابل اذہان کی کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاتی کیونکہ امتحان پاس کر لینے کے باوجود ان کی ایک کاوش ضائع ہو جاتی ہے پھر وہ ملک چھوڑ جاتے ہیں، وہاں جاتے ہیں جہاں ان کی ذہانت کی قدر ہو، آپ ایک طرف ’’برین ڈرین‘‘ کا رونا روتے ہیں دوسری طرف سیاہ بیلٹ کے ساتھ خاکی جوتے پہننے والے گدھوں کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور تھما دیتے ہیں۔ مجھ ناچیز کے ہاتھ میں قلم ہے اور یہی میری طاقت ہے، میری اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ پینل کی اس فرعونیت پہ ایک نظر ڈالیں، مریم بی بی نے جس خوبصورتی سے پنجاب کو ایک ماں کی آغوش میں آن سنبھالا ہے ان سے استدعا ہے کہ یہ بچے بھی آپ کے ہیں، یہ آپ کا مستقبل ہیں، ان کا مستقبل تاریک کرنے والوں سے اگر آپ سوال نہیں کریں گی تو کل شاید آپ کا پنجاب ان قابل ذہنوں سے محروم ہو جائے، نئی آسامیوں پہ بھرتی کرنے سے پہلے گزشتہ کامیاب امیدواروں کے مستقبل کا کوئی حل نکالئے۔ سب دی ماں کے ہوتے ہوئے ان بچوں کے ساتھ یتیموں سا سلوک ہونا زیب نہیں دیتا۔ 

مزیدخبریں