سیہون:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور اس نئی ترمیم کا کوئی مسودہ یا ڈرافٹ پارٹی سے شیئر نہیں کیا گیا۔ سیہون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ 28 ویں ترمیم کی باتیں صرف میڈیا میں ہی سنی جا رہی ہیں، تاہم یہ بات طے ہے کہ ہماری رضامندی کے بغیر اسمبلی سے کوئی بھی آئینی ترمیم پاس نہیں ہوسکتی۔
صوبائی بجٹ اور عوامی ریلیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا حتمی فیصلہ وفاق کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، البتہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بجٹ میں غریب عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے صوبے میں نئے انتظامی اضلاع کے قیام کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے صاف کہا کہ سندھ میں نئے اضلاع بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر شدید تشویش اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔