قربانی، ایثار و معاشرتی شعور کا عظیم پیغام

08:23 AM, 27 May, 2026

”اللہ تعالیٰ کو ہرگز نہ ان (قربانیوں) کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اسے تمہاری طرف سے تقویٰ (اخلاص اور پرہیزگاری) پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انہیں (جانوروں کو) تمہارے فرمانبردار کر دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو، اور (اے حبیب!) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دیں (سورة الحج آیت 37) اس آیت میں رب العالمین ریا کاری یعنی دکھاوے سے بچنے اور محض رضائے الٰہی کیلئے قربانی کا حکم دے رہے ہیں۔
عیدالاضحی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ یہ ایمان، قربانی، اطاعت اور انسان دوستی کا ایک عظیم درس ہے۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق ذوالحج کی دسویں تاریخ کو منائی جانے والی یہ عید حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں اور اپنے اندر ایثار، محبت اور اخوت کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں۔
عیدالاضحی کا سب سے اہم پہلو قربانی کی روح ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو قربان کرنے کا عزم ظاہر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم اطاعت کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیلؑ کی جگہ دنبہ عطا کر دیا۔ یہ واقعہ انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے ہر خواہش، ہر مفاد اور ہر تعلق کو قربان کرنا ہی اصل بندگی ہے۔ آج بھی مسلمان اسی سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کر رہے ہیں تاکہ اپنے اندر موجود لالچ، خود غرضی اور نفسانی خواہشات کو ختم کر سکیں۔
عیدالاضحی کا دوسرا اہم پہلو معاشرتی مساوات اور فلاح ہے۔ قربانی کا گوشت صرف اپنے لیے نہیں رکھا جاتا بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے معاشرے میں احساسِ محرومی کم ہوتا ہے اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ ایسے افراد جو پورا سال گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، عید کے موقع پر خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ تہوار معاشرتی انصاف اور اجتماعی خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔
عیدالاضحی ہمیں صفائی، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا درس بھی دیتی ہے۔ قربانی کے ایام میں اگر احتیاط اور صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات صفائی کو نصف ایمان قرار دیتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کے بعد آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے اور ماحول کو صاف رکھا جائے۔ شہری اداروں کے ساتھ تعاون اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا بھی ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔
اس عید کا ایک اہم پہلو معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ مویشی پالنے والے کسان، ٹرانسپورٹرز، قصاب، چارہ فروش اور دیگر متعلقہ شعبے ان دنوں میں معاشی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یوں عیدالاضحی نہ صرف روحانی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
عصرِ حاضر میں عیدالاضحی کے تقاضے صرف جانور قربان کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کی اصل روح کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ خود غرضی، بے حسی، کرپشن اور ناانصافی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ اگر ہم واقعی سنتِ ابراہیمی کو اپنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر موجود منفی رویوں کو قربان کرنا ہو گا۔ جھوٹ، حسد، نفرت، ظلم اور مفاد پرستی کو چھوڑ کر دیانت، محبت، خدمت اور انصاف کو فروغ دینا ہی عیدالاضحی کا حقیقی پیغام ہے۔
عیدالاضحی دراصل انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل مقصد صرف ذاتی خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کی خدمت ہے۔ اگر ہم اس عید کی حقیقی روح کو سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی عیدالاضحی کا اصل فلسفہ اور دائمی پیغام ہے۔

مزیدخبریں