بقا کا پروانہ یا معاشی آسودگی

08:19 AM, 27 May, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کی پل پل بدلتی صورتحال نے پورے خطے کو ایک ہولناک دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بارود کی بو اور جنگی بادلوں نے امن کی ہر امید کو دھندلا دیا ہے اس نازک ترین موڑ پر پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ایک مخلص ہمسائے اور ذمہ دار مسلم ملک کا کردار ادا کرتے ہوئے تباہی کا رخ موڑنے کی سنجیدہ ترین کوششیں تیز کر دی ہیں فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کا ہنگامی دورہ ایران اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا واحد مقصد برادر اسلامی ملک کو ایک ایسی بڑی تباہی سے بچانا ہے جو پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اگر یہ جنگ بند نہیں ہوتی تو امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کا مادی اور انسانی انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہو جائے گا جس سے لاکھوں بے گناہ جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی معطل ہو جائے گی جس سے ایسا بدترین عالمی معاشی بحران جنم لے گا جس کا بوجھ غریب ممالک برداشت نہیں کر پائیں گے مزید برآں اس جنگ کی چنگاریاں پڑوسی ممالک تک پھیلیں گی جس سے پناہ گزینوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سیلاب امڈ آئے گا اور دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملے گا پاکستان کی یہ مخلصانہ کوششیں دراصل اس خطے کو اسی خوفناک اور ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کی ایک آخری پکار ہیں۔
امریکہ اس وقت مشرق وسطی اور عالمی سیاست کے پس منظر میں انتہائی گہری اور خطرناک چالیں چل رہا ہے جس کے تحت اس نے سعودی عرب دبئی قطر اور بحرین سمیت خطے کے متعدد اہم ممالک کو اپنے سٹریٹیجک حصار میں لے کر ایک وسیع تر محاذ قائم کر لیا ہے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے امریکہ نے ہانگ کانگ میں اپنی مداخلت کو محدود کرتے ہوئے چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو ایک نئی نہج پر استوار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جبکہ پانچ ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد نیٹو اتحادیوں کو بھی پوری طرح اپنے ساتھ جوڑ لیا گیا ہے اس تمام تر عسکری اور سفارتی صف بندی کا واحد مقصد یہ دکھائی دیتا ہے کہ اگر ایران نے لچک نہ دکھائی اور معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہا تو امریکہ ان تمام ممالک کو ساتھ ملا کر ایران پر ایک فیصلہ کن اور بڑا حملہ کر دے گا اس ممکنہ تصادم کو جواز فراہم کرنے کے لیے امریکہ نے بنیادی طور پر دو اہم ترین مطالبات کو تنازع کی بنیاد بنا رکھا ہے جن میں پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی دوسرے ملک منتقل کر دے اور دوسرا یہ کہ عالمی تجارت کی شہ رگ یعنی بحیرہ ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھا جائے اب وقت اور حالات کی نبض یہ فیصلہ کرے گی کہ ایران ان سخت ترین شرائط پر کہاں تک متفق ہوتا ہے اور کیا وہ اپنی بقا کی خاطر کوئی درمیانی راہ نکالتا ہے یا پھر پورا خطہ ایک ایسی ہولناک جنگ کی آگ میں جھلس جاتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گے ہم سب اس بدلتی صورتحال کو دیکھ کر دنگ ہیں کیونکہ یہ کھیل اب صرف دو ممالک کا نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کی بقا اور غلبے کی ایک ایسی جنگ بن چکا ہے جس کا انجام تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی صدر کے اس چونکا دینے والے حالیہ بیان نے عالمی سیاست اور سٹریٹیجک حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جو ہر ذی شعور کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر ایران کا مقصد واقعی ایٹم بم بنانا نہیں تھا تو پھر اس نے افزودہ یورینیم کے اس وسیع ذخیرے کو کہاں استعمال کرنا ہے اور اگر ایٹمی طاقت بننا مقصود ہی نہیں تھا تو پھر گزشتہ چالیس سال تک عالمی پابندیوں اور مصیبتوں کی چکی میں پسنے کا یہ کٹھن دور کیوں کاٹا گیا جب امریکہ کی یہ واضح ڈیمانڈ ہے کہ ایران اگلے بیس سال تک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت سے دور رہے تو ایرانی سفارت کاری کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس مدت کو دس سال پر لے آتی مگر تہران کی ضد نے معاملے کو الجھا دیا ہے اب اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطے کو امریکی حملے کی صورت میں ہولناک ترین منظر نامے کا سامنا ہوگا جس کے نتیجے میں ایران کا تمام تر ایٹمی اور دفاعی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن سکتا ہے اور خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر تباہ ہو جائے گا مذاکرات کی یہ ممکنہ ناکامی ایران کو ایک ایسے بند گلی کے عسکری تصادم میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا اور یوں یہ چالیس سالہ بقا کی جنگ ایک عظیم تر المیے میں بدل جائے گی۔
اگر امریکہ اور ایران کے مابین جاری یہ طویل ترین سفارتی تعطل کسی منطقی انجام کو پہنچتا ہے اور مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو تہران کے لیے عالمی اقتصادیات کے بند دروازے یکسر کھل جائیں گے جس کے نتیجے میں اسے دنیا بھر میں اپنی پیٹرولیم اور گیس مصنوعات بلا روک ٹوک فروخت کرنے کی تاریخی اجازت مل جائے گی اگر ایران اپنے توانائی کے ان بے پناہ ذخائر کو بین الاقوامی منڈیوں میں لاتا ہے تو محض ایک سال کے قلیل عرصے میں اس کی پامال معیشت سنبھل جائے گی پانچ برسوں میں اس کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح کو چھونے لگیں گے اور آئندہ بیس سال میں ایران کا جدید انفراسٹرکچر اسے خطے کے امیر ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گا لیکن اس معاشی عروج کے پس پردہ ایک ایسا ہولناک سٹرٹیجک خلا بھی جنم لے گا جو بظاہر نظر نہیں آ رہا معاشی خوشحالی کے اس دور میں جب ایران کے پاس اربوں ڈالر ہوں گے تو اس کے پاس سب کچھ تو ہوگا مگر ایٹمی صلاحیت یعنی ایٹم بم کی وہ ناقابل تسخیر طاقت نہیں ہوگی جو کسی بھی ملک کی خود مختاری کی حتمی ضامن ہوتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ اس بے رحم دنیا میں جن ممالک کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے وہی آج دنیا کے محفوظ ترین اور باوقار ترین خطے سمجھے جاتے ہیں کیونکہ کوئی بڑی طاقت ان پر براہ راست جارحیت کی جرا¿ت نہیں کر سکتی ایٹم بم کی عدم موجودگی میں ایران کی یہ تمام تر دولت اور معاشی مٹھاس اس کے ازلی حریف اسرائیل کے لیے ہمیشہ ایک تر نوالہ بنی رہے گی اسرائیل تہران کی اس معاشی ترقی کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس پر روایتی ہتھیاروں یا سائبر حملوں کے ذریعے کسی بھی وقت دباو ڈال سکتا ہے اور ایٹمی دفاع سے محروم ایران اس وقت شدید پچھتاوے کا شکار ہوگا کہ کاش اس نے وہ مشکل وقت کاٹ لیا ہوتا لیکن ایٹم بم کی شکل میں مستقل بقا کا پروانہ حاصل کر لیا ہوتا کیونکہ معاشی طور پر مضبوط مگر دفاعی طور پر کمزور ملک ہمیشہ طاقتور ہمسایوں کے رحم و کرم پر رہتا ہے اب یہ فیصلہ ایرانی حکام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ وقتی معاشی آسودگی چنتے ہیں یا مستقل قومی سلامتی۔

مزیدخبریں