اقوام متحدہ کی اسرائیل پر تنقید، 12 سالہ بچوں کو عمر قید دینے کے قانون پر شدید تشویش

09:59 AM, 27 May, 2025

جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل میں منظور کیے گئے ایک نئے قانون پر سخت تشویش ظاہر کی ہے، جس کے تحت صرف 12 سال کے بچوں کو بھی عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ماہرین نے اس قانون کو بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ماہرین نے کہا کہ یہ قانون اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے اسرائیل نے اکتوبر 1991 میں تسلیم کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے نومبر 2024 میں قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد اگر کوئی بچہ کسی ایسے جرم میں ملوث ہو جو دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہو، جیسے قتل یا اقدام قتل، تو عدالت اسے عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے۔

ایک اور قانون بھی منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی بچہ دہشتگردی میں ملوث ہو تو اس کے خاندان کو دی جانے والی مالی امداد یا سوشل سیکیورٹی بھی بند کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے ہی اسرائیلی فوجی قوانین کے تحت 12 سالہ فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا رہا ہے، اور یہ نیا قانون ان مظالم کو مزید بڑھا دے گا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے قوانین فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو قانونی شکل دے رہے ہیں، جو کہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان قوانین پر فوری نظرِثانی کی جائے۔

مزیدخبریں