یعقوب الکندی! عظیم مسلم سکالر تھے، شاہی خاندان میں پیدا ہوئے، والد محمد اسحاق بصرہ کے گورنر تھے، کبھی حاکمانہ رویہ خود پر غالب نہیں ہونے دیا، طبیعت سادگی کی طرف مائل تھی۔ شاہی خاندان کا فرد ہونے کے باوجود عجز و انکساری اختیار کی۔ شروع سے ہی علم و تحقیق کا جنون تھا۔ ابتدائی تعلیم بصرہ میں ہی حاصل کی مگر علمی شوق و تجسس نے بغداد جانے پر مجبور کر دیا، علم و حکمت و تحقیق نے آپ کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے، عقل و دانش میں اپنا منفرد مقام پیدا کیا۔ ریاضی، طب، کیمیا، فلکیات، موسیقی کے ماہر تھے۔ جب علمی شہرت کا چرچا ہوا تو قدامت پسند علماء ان کی شہرت سے خائف ہو گئے، ان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرنے لگے، حاسدین کو ان کی جدید علمی تحقیق ہضم نہ ہوئی۔ عباسی خلیفہ متوکل کے حاشیہ بردار قدامت پسند عظماء نے خلیفہ کے کان بھرنا شروع کر دیئے کہ اس شخص کے نظریات ہمارے اقتدار کے لیے خطرہ ہیں۔ خلیفہ پہلے ہی الکندی کو سخت ناپسند کرتا تھا کہ اس کے خیالات خلیفہ کو پسند نہ تھے۔ خلیفہ نے اس کا کتب خانہ ضبط کر لیا، ساٹھ برس کی عمر میں کوڑے مارنے کا حکم صادر کیا۔ جب ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تو وہ تکلیف سے آہ و بکا کرتے تو تماش بین عوام قہقہہ لگاتے، انہیں زندان میں ڈال دیا گیا۔ 72برس کی عمر میں جدید علوم کا ماہر، عقل و دانش کا مینار، مختلف اذیتیں برداشت کرتے کرتے کسمپرسی میں اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا۔
ابن رشدعظیم جیورسٹ کے علاوہ جدید طب کے بانی بھی ہیں۔ ان کی طب پر لکھی گئی کتاب "AL-KULLIYAT FI AL-Tibb" میں میڈیسن کے جنرل اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بطور درسی کتاب پڑھائی گئی۔ اس کتاب کی افادیت و اہمیت کیلئے یہ کافی شہادت ہے کہ یورپ نے اس سے راہنمائی حاصل کر کے میڈیسن کے میدان میں ترقی حاصل کی۔ اس کتاب میں انہوں نے جدید طب کے جو اصول وضع کیے وہ ان کی خداداد صلاحیت، و قابلیت کا منہ بولتا ثبوت
ہیں۔ فقہ، حدیث، مختلف زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ فلسفے کو انہوں نے ایک نئی جہت سے متعارف کرایا۔ ارسطو کے نظریات کی نئے سرے سے تشریح کی۔ مختلف حیثیتوں میں جج کے فرائض بھی انجام دیئے۔ اسلامی جیورسٹ پر بہت عمدہ لکھا اور اس کی تشریح کی۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اس عظیم فلسفی سکالر کو اس کے مخالف مکتبہ فکر کے لوگوں نے بے دین قرار دے کر اس کا کتب خانہ نذر آتش کر دیا، اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اور اس کے منہ پر تھوکا جاتا۔ بدچلن، آوارہ، اوباش لڑکوں کے ایک گروہ کو اس کے اردگرد کھڑا کر کے، مختلف قسم کے گھٹیا فقرات کسے جاتے، ہر اوچھا اور قابل شرم حربہ اختیار کیا جاتا، انہیں ذلیل و خوار کرنے کیلئے نت نئے طریقے ایجاد کیے جاتے۔ ہر مہینے کے بعد ان کو بازار کا چکر لگایا جہاں اوباش نوجوانوں کا ایک جتھہ، ان کی نادر و نایاب کتب کی خاک ان کے اوپر پھینکتا۔ عقل و دانش، علم و حکمت کا چمکتا ستارہ، آخری عمر میں ذلت آمیز حالت میں جہان فانی سے کوچ کر گیا۔
ابن سینا! مشہور مسلم سکالر 980 میں پیدا ہوئے۔ جائے پیدائش بخارا موجودہ ازبکستان ہے، علم و حکمت ورثے میں ہی ملی تھی، ان کے والد محترم عبداللہ اپنے دور کے سکالر اور گورنر تھے۔ یہ وہ دور تھا جب اہل علم اور باصلاحیت افراد ہی اہم عہدوں پر فائز ہوتے، علم اور تحقیق کا جذبہ بے پایاں تھا، عجز و انکساری کا چلتا پھرتا عملی نمونہ تھے۔ چھوٹی ہی عمر میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ وہ ریاضی، منطق، طب، آسٹرالوجی کے بے تاج بادشاہ تھے۔ فزکس، ریاضی، آسٹرالوجی، منطق میں بے پایاں خدمات انجام دیں، ان کی کتاب القانون، مشرق اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں چھ سو سال تک بطور نصابی کتب پڑھائی گئی۔ ارسطو کے نظریات پر سیر حاصل بحث کی اور اسے ایک نئی جہت عطاء کی۔ اس عظیم سکالر کو بھی حاسدین اور حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے مخالفین نے گمراہی کا مرتکب قرار دے کر زندگی اجیرن کر دی۔
اہل علم اور باصلاحیت لوگ ہمیشہ خوددار اور بااصول ہوتے ہیں، وہ کسی کی بھی خوشامد نہیں کرتے۔ حق و باطل میں واضح تمیز کرتے ہیں، کسی کی بھی فرمائش پر صحیح کو غلط اور غلط کو درست نہیں کہتے، انہیں نا تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھکایا، انہی وجوہات کی بنا پر زندان ان کا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔
زکریا الرازی! عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب ایران میں پیدا ہوا۔ ''KITAB al-Hawifial-Tibb" علاوہ ازیں روح اور کائنات پر بہت ریسرچ کی، ان کی لکھی ہوئی کتابوں کو یورپ میں کئی سو سال تک پڑھایا جاتا رہا۔ بدقسمتی سے حاکم وقت کے ساتھ کسی مسئلے پر تنازع پیدا ہو گیا تو اس نے اس عظیم فلسفی، کیمیا دان کی خدمات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسے جھوٹا، کافر، ملحد قرار دے دیا گیا۔ حاکم وقت نے حکم دیا کہ اس کی کتاب کو اس کے سر پر اس وقت تک مارتے رہو جب تک اس کا سر پھٹ نہیں جاتا۔ وہ اسی دوران اندھا ہو گیا۔ بعد ازاں بڑی کسمپرسی کی حالت میں جیل ہی میں فوت ہو گیا۔
تاریخ کی ستم ظریفی ملاحظہ کریں، جب بھی کسی مفکر، فلسفی نے کوئی نیا نظریہ پیش کیا تو اس وقت کے قدامت پسند، اس کے خلاف ہو جاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے فتوے صادر کئے جاتے ہیں۔ بعد ازاں انہی کے فکر و نظریات کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
جابر بن حیان! یہ عظیم فلسفی ایران میں پیدا ہوا۔ مغربی دنیا اسے جدید کیمیا کا باپ کہتی ہے۔ جس نے کیمیا، طب، ریاضی، فلسفہ، فلکیات پر بہت ریسرچ کی اور اس کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں جس قدر ریسرچ ہو رہی ہے یا ترقی ہوئی وہ اسی کے ہی نظریات کے سبب ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید جابر بن حیات کا بہت قدردان تھا تاہم کسی وجہ سے اختلاف ہوا تو خلیفہ نے اس کا خراسان میں رہنا مشکل کر دیا، اس کی والدہ کو کوڑے مار کر شہید کر دیا گیا۔ جابر بن حیان اپنی کتابوں اور لیبارٹری کا مختصر سامان لیکر عراق کے شہر بصرہ چلا گیا۔ حاکم بصرہ کو بھی اس کی شہرت پسند نہ آئی، اسے کذاب قرار دے کر سزائے موت دیدی گئی۔ یوں علم و حکمت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر عاقبت نااندیش، جاہل، احمق لوگوں کی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ جابر بن حیات ایک ایسا گوہر نایاب تھا کہ صدیوں میں بھی ایسے افراد پیدا نہیں ہوتے۔
ستم ظریفی!
09:34 AM, 27 May, 2025