کتابوں کی دنیا میں آج بھی ایسے کردار مل جاتے ہیں جو نگینوں کی طرح چمکتے ہیں، اور ان کی شخصیت کی جھلک ان کے ماحول اور رویوں میں نظر آتی ہے۔ حکیم اجمل خان کے گھر کھانے کی ایک وقت کا منظر کا منظر ایک مکمل تہذیب کا عکاس ہے جہاں علم و حکمت کے خوشبودار پھل، انسانیت و شائستگی اور اعلیٰ ذوق کی جگلبندی نظر آئے گی وہاں ہر آنے والا، خواہ وہ مریض ہو یا مسافر، ایک نرالی دنیا میں قدم رکھتا ہے جہاں جسمانی شفا کے ساتھ ساتھ روحانی تسکین بھی ملتی ہے۔
جب دستر خوان چنا گیا پہلے تو سلفچیاں اور آفتابے لیے ملازم آئے اور انہوں نے سب مہمانوں کے بیسن سے ہاتھ دھلائے۔ نیچے کی نشست تھی اور سب آلتی پالتی مارے دستر خوان کے اطراف میں بیٹھے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھانے کی دعوت نہیں کسی مشاعرے کی محفل ہے۔ سب سے پہلے تو دو چاندی کی طشتریاں لائی گئیں اور دستر خوان کے بیچوں بیچے رکھ دی گئیں۔ ان طشتریوں میں سے ایک میں زردہ تھا اور ایک میں بالائی سب حیران تھے کہ پچاس آدمیوں میں یہ ایک ایک طشتری زردے اور بالائی کی کیا ہو گی۔
حکیم اجمل خاں اتنی دھیمی آواز میں بولتے تھے کہ نسخہ لکھواتے وقت پاس بیٹھا ہوا مریض بھی ان کی آواز نہیں سن سکتا تھا۔ صرف نسخہ لکھنے والے ہی ان کی آواز سنتے تھے اور ان کی بات سمجھ سکتے تھے مگر اس روز باآواز بلند مخاطب ہوئے اور کہا یہاں عام طور پر دعوتوں میں لوگ یا تو گھروں سے کھانا لے جاتے ہیں اور دعوتوں کا کھانا صرف چھو کر چلے آتے ہیں۔ تو یہ جو زردہ اور بالائی تم لوگ ان دو طشتریوں میں دستر خوان کے بیچ میں دیکھ رہے ہو یہ زرد سے اور بالائی کا کشتہ ہے۔ یہ ایک من چاولوں کا زردہ ہے اور من بھر دودھ کی بالائی ہے۔ اسے چھونے سے ہی تمہارا پیٹ بھر جائے گا۔ آدھے چمچ سے بھی کم ہر چیز لینا ورنہ خون آنے لگے گا۔ اس طرح کے کھانے قلعے میں تیار ہوتے تھے جس کی نقل میں لوگ تکلفاً کھانے کو چھو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دلی کے لال
قلعے میں لوگ تکلف کی وجہ سے کھانا کم نہیں کھاتے تھے، کھانے ہوتے ہی ایسے تھے کہ ان کی زیادہ مقدار ضروری نہیں ہوتی تھی۔
حکیم صاحب کی اس تقریر کے بعد ملازم سفید برف سے خانپوشوں سے ڈھکے ہوئے ایک ایک چاندی کی تھالی میں ایک ایک پرانٹھا لائے، جونہ پر انٹھا تھا، نہ شیر مال، نہ باقر خانی، نہ روغنی روٹی جس کا دَل ایک چائے کی پیالی کے برابر تھا اور قطر عم شیر مال یا میدے کے پرانٹھے سے کچھ بڑا۔ سب سے پہلے حکیم صاحب نے خود ایک پرانٹھے کا پرت اوپر کا اْتارا اور سارا دالان جواب تک مہمانوں کے کپڑوں کے عطر سے مہک رہا تھا۔ مشک عنبر اور زعفران کی خوشبو سے معطر ہو گیا۔ حکیم صاحب کی نقل میں سب مہمانوں نے بھی ان کی طرح اوپر کا پرت اس پرانٹھے کا اتارا اور دیکھا کہ اس پرت کے نیچے خانے سے بنے ہوئے ہیں اور ایک خانے میں قورمہ ہے۔ ایک میں بھنا ہوا مرغ اور ایک میں تلی ہوئی مچھلی اور ایک خانے میں نرگسی کوفتے۔ یہ تو تھے سالن کے خانے جو اس پرانٹھے کے پرت کے نیچے آدھے حصے میں تھے۔ باقی کے آدھے حصے میں بریانی تھی اور یہ سب کھانا ملا کر اس ایک جادو کی روٹی میں کوئی چار آدمیوں کے لیے تھا۔ اس روغنی روٹی کے ہر خانے میں سے مشک، عنبر اور زعفران کی لپٹیں آ رہی تھیں، کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس ترکیب سے کس تنور میں کس نانبائی نے یہ پر انٹھا سینکا ہو گا۔ اور کیسے یہ اتنی وضع کے سالن اور بریانی اس ہنرمندی سے خانے بنا کر اس میں رکھے۔ روٹی یا نان کی جتنی قسمیں ممکن ہیں ان میں سے یہ کوئی قسم نہیں تھی۔ مہمان حیران تھے کہ اس ایک پرانٹھے کے پرت سے جو چار پانچ روغنی نان کے برابر تھا، کیسے یہ سب سالن کھائے جائیں اور کسی سے بھی یہ سب کچھ باوجود بے حد لذیذ ہونے کے پورا نہ کھایا جا سکا۔ معلوم ہوا یہ سالن جو اس پرانٹھے کے ہر خانے میں تھے اس طرح پکائے گئے تھے کہ اگر انہیں سال بھر رکھ لو تو یہ سوکھ سکتے ہیں، سٹر نہیں سکتے اور ایسے زود ہضم کہ بیماری سے اْٹھے ہوئے مریض بھی اگر یہ کھا لیں تو کوئی نقصان نہ ہو، مرغن ہونے کے باوجود۔
بھنگی، چمار، سقے، بھٹیارے اور اسی قبیل کے اور لوگ تو حکیم صاحب کو سلام کرتے کرتے دہرے ہو ہو جاتے لیکن حکیم محمد احمد خاں صاحب ان کی کورنش کو خاطر میں لائے بغیر نسخہ نویسوں سے ان کے لئے بھن سے کچھ کہتے اور نسخہ نویس نسخے لکھ کھ کر انہیں دوائیں بتاتے جاتے۔ حکیم محمد احمد خان صاحب، حکیم محمد اجمل خان صاحب کے پوتے حکیم محمد نبی جمال سویدا کی طرح زیادہ تر امراض کا علاج مرکبات کی بجائے مفردات ہی سے کرتے۔ بس ایک دوا زیادہ سے زیادہ ایک پیسے یا دو پیسے کی۔ اگر اس دوا کے ساتھ کسی قیمتی غذا کی ضرورت ہوتی جیسے پھل یا مرغی کا شوریا وغیرہ جو ان غریبوں کی حیثیت سے زیادہ ہوتا تو دس دس پانچ پانچ روپے بھی ان مریضوں میں تقسیم کراتے۔
ایک دفعہ ایک جلاہا پیٹ کے درد کی شکایت لے کر آیا تو حکیم محمد احمد خاں صاحب نے کہا کہ چنے کھائو چنے اور جیسے اس مریض نے چنے کھائے، پیٹ کا درد جاتا رہا۔ مصاحبوں نے پوچھا، پیٹ کے درد میں چنے…؟ حکیم صاحب نے کہا یہ جلاہا تھا۔ ان لوگوں میں شادی بیاہ میں شکرانہ ہوتا ہے۔ شکرانہ۔ چاولوں کا خشکا ہوتا ہے جس پر لوٹے کی ٹونٹی سے گھی ڈالا جاتا ہے اور پھر بھر بھر کر پیالے شکر اور یہ گھی اور شکر ان ابلے ہوئے چاولوں پر اس وقت تک ڈالی جاتی ہے جب تک مہمان دونوں ہاتھوں سے بس بس نہ کرنے لگے چنانچہ حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ جلاہا زیادہ گھی کا شکرانہ کھا کر آیا تھا۔ یہ گھی اس کی آنتوں میں بیٹھ گیا تھا۔ چنوں نے جا کر وہ گھی جذب کر لیا اور پیٹ کا درد جاتا رہا۔ یہ سارے بلی ماروں کے حکیم۔ طبیب سے زیادہ قیافہ شناس تھے اور مریض کی نبض ہی نہیں دیکھتے تھے، اس کی حیثیت اور شخصیت بھی دیکھتے تھے۔ اچانک ایک دفعہ ایک چمار آیا اور کہا: حکیم صاحب! میرے سر میں درد ہے۔ حکیم محمد احمد خاں صاحب نے فرمایا جوتے لگائو اس کے سر پر۔ درد سر شرفا کی بیماری ہے۔ تیرے بغلی گند ہوتی، کوئی گندہ ناسور ہوتا۔ گاگن ہوتی تو میں علاج کر دیتا۔ سر کا درد اور چمار۔ کیا معنی۔ اس کے نطفے میں فرق معلوم ہوتا ہے!۔ لے جائو باہر، اور لگائو اس کے سر پر جوتے۔‘‘
نگینوں جیسے لوگ
09:33 AM, 27 May, 2025