بارش ، دھند اور کوزا گلی

09:32 AM, 27 May, 2025

شام سے ذرا پہلے غروب شمس کا وقت سرمئی ہوتی جاتی وادی کو لہو رنگ کر کے اداس کرنے ہی والا تھا کہ مصنوعی روشنیاں جلا دی گئیں۔ بلند پیڑوں کے بیچ ، برف چوٹیوں کے پار سورج اترا تو جاتے جاتے ایک اور سہانی شام عطا کر گیا۔
ہم گلگت بلتستان کی تنہا ترین بلندیوں میں جن عطاؤں کو تلاش کرتے تھے وہ خیبر پختونخوا کے مضافات میں کوزا گلی کا نواح تھا ، نتھیا گلی سے کچھ پہلے چار کلومیٹر اندر ایک چوٹی پر قائم سمر گرین اور سمر ری ٹریٹ ریسورٹ کی ٹیم نے جب ہمارا استقبال کیا تو بھول بھلیوں کے بعد ایک مستقیم محبت کا احساس ہوا۔ 
اندھیرا پھیلنے سے پہلے ، بیضوی ترتیب میں رکھی گئی کرسیوں کے نیچے دھل چکی گھاس اتنی شفاف تھی کہ پاؤں دھرنا گناہ محسوس ہوتا تھا۔ سامنے سٹیج سجا دیا گیا تو لوگ جمع ہونے لگے۔ دن بھر کی باہمی گفتگو نے ہوٹل انتظامیہ کو شام منقبت کے انعقاد پر تیار کیا تھا۔ محرم الحرام کی نسبت سے یہ سلام اور قوالی کی شام تھی۔ نتھیا گلی بازار سے ایک کلومیٹر مری روڈ سے بائیں جانب ایک راستہ بلند ہوتا ہوا نتھیا گلی کینٹ کی طرف جاتا ہے۔ کچھ راہ داریاں اور پھر مسلسل بلندی جھولوں اور بچوں کے بہلاووں سے گزرتی ہوئی ایک پارک کے پہلو سے جدا ہوتی ہیں۔ ٹاپ پر جو منظر ہیں وہ صرف قدرت کا شاہکار ہو سکتے ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی مصور اپنی تخلیق میں ایسے رنگ بھر دے جو باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے۔
مری سے صرف بتیس کلومیٹر دور ایبٹ آباد روڈ پر یہ علاقہ ایک تنہا ترین ہل اسٹیشن ہے جو گلیات کا بلند ترین مقام بھی ہے۔ گھوڑا گلی ، خیرا گلی ، رتی گلی ، جھیکا گلی ، ڈونگا گلی ، باڑہ گلی ، چھانگلہ گلی جیسا ایک مقام نتھیا گلی بھی ہے مگر یہاں کا ٹاپ ایک انوکھا احساس عطا کرتا ہے۔ گلیات کی یہ ایک تنگ پٹی تقریبا 50-80 کلومیٹر اسلام آباد، پاکستان کے شمال مشرق میں، جبکہ خیبر پختونخوااور پنجاب دونوں کی سرحد کے اطراف میں ایبٹ آباد اور مری کے درمیان واقع ہے۔ اس خطے کو  2023 میں یونیسکو کا اعزاز بھی دیا گیا۔
ہم پہلی بار ٹاپ پر پہنچے تو بلند و بالا پیڑوں کے درمیان گھری بلندی بوندا باندی کے ساتھ ہمارا استقبال کرتی تھی۔ ایسا حسن جو دھند میں ملفوف تھا اور ہمیں بالکونی سے کمرے کا دروازہ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ 
اسلام آباد سے صرف ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت ہمیں کن حیرت کدوں میں لے آئی تھی۔ اب سے پہلے تو ہم نتھیا گلی کے بازار اور آلودہ سے ماحول کو ہی نتھیا گلی سمجھتے رہے تھے مگر یہ تو ایک غلاف تھا جو بے ترتیب و بے ہنگم ہجوم نے گدلا کر ڈالا تھا۔ نتھیا گلی کا فطری حسن تو یہاں ہمارے سامنے بچھا تھا۔ 
ہوٹل منیجر شاہ جی نے ہمارا روایتی استقبال کیا اور ہمیں وسیع لینڈ اسکیپ کے سامنے بنی نو تعمیر شدہ عمارت میں کمرے دے دئیے۔ کمروں کے عقب میں راہ داری تھی جو پہاڑی مسافت کے فرہادوں کو شیریں کے عشق میں دودھ کی نہریں کھودنے کے لئے کہیں انجان بلندیوں کی طرف لئے جاتی تھی اور ہمارے سامنے چیڑھ کے درختوں پر اٹکایا گیا ایک تخت تھا جس پر بیٹھ کر ہم نے ڈنر کرنا تھا اور پھر جب جھولتے تخت پر ہمیں بٹھایا گیا تو ہم بھی چیڑھ کے درختوں کے ساتھ جھولنے لگے۔ 
شمال سے واپسی کے بعد نتھیا گلی ٹاپ کی یہ دو روزہ سیاحت بچوں کے لئے زیادہ پرلطف تھی اور بڑوں کے لئے تب رومانٹک ہو گئی جب بارش برسنے لگی۔ دو گھنٹے کی بارش نے شاخوں پر اٹی دھول کو اتارا تو آسمان نیلے کی بجائے سبز ہوتا گیا۔ ہمارے سامنے جو سبز گھاس کی چادر بچھی تھی وہ شفاف پانی کی روانی میں دب گئی۔ ندیاں ، جھرنے اور آبشاریں رواں ہوئیں تو راگ ملہار سنائی دینے لگا۔ بارش رکی تو پھر رات گئے تک اس وادی میں تال، سر، سنگیت اور ہم روبرو رہے۔ قصیدہ ، سلام ، گیت ، غزل اور ربائیاں الہام ہونے لگیں۔ اطراف سے لوگ جمع ہونے لگے اور دیکھتے دیکھتے یہ رات اپنے تیسرے پہر میں ڈھل گئی۔ جو دوست موسیقی میں مست تھے انہیں وجد میں دیکھا گیا اور جو پیٹ کے ہاتھوں مجبور تھے ان کے لئے فاسٹ فوڈ کا دور چلا۔ رات جتنی بھی پرلطف ہو سویرا اسے مات ضرور دیتا ہے۔ 
 صبح ناشتہ بھی برستی بوندوں میں سجایا گیا۔ چار سو پھول تھے ، خوشبو تھی اور بارش تھی۔ اس ٹھنڈی صبح کو ہم نے گرم چائے سے مات کرنے کی ناکام کوشش کی اور اسلام آباد واپس چلے آئے۔ یہ پہلا سفر تھا جب مری کے پاس سے بھی گزرے اور وہاں جانے کی تمنا بھی پیدا نہ ہوئی کیونکہ جو وجدان ہم پر فطرت نے طاری کیا تھا اسے صرف فطرت ہی شکست دے سکتی تھی۔

مزیدخبریں