بھارت کو مُنہ کی کھانا پڑی… !

09:30 AM, 27 May, 2025

2025 کا مئی کا مہینہ ہو یا ستائیس برس قبل 1998 کا مئی کا مہینہ ہو۔ یہ ہمارے لئے مشکلات ، آزمائش، امتحان اور معرکہ آرائی کے مہینے رہے ہیں۔ مئی 2025 جو ابھی ختم نہیں ہوا ۔ اس کے شروع میں ہمارا ازلی اور ابدی دشمن بھارت ہمارے خلاف ننگی جارحیت پر اُتر آیا۔ اس نے ہم پر اپنے میزائل داغے۔ ہماری سویلین آبادی جس میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل تھے کو نشانہ بنایا، بیک وقت اس کے 6درجن کے لگ بھگ لڑاکا طیارے حملہ آور ہوئے، ڈرونز کی اس نے بارش کئے رکھی، لیکن اللہ کریم کی مدد و نصرت سے ہم نے اسے ایسا دندان شکن جواب دیا۔ دنیا نے دیکھا اور تسلیم کیا کہ اُس کے تقریباً نصف درجن طیارے جہاں تباہ ہوئے وہاں اس کے اٹھائیس مقامات جن میں اس کے ائیر بیس، فوجی مراکز اور اسلحے کے ڈپو شامل ہیں راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے۔
مئی 2025 کے پہلے عشرے کے دوران بھارت کے خلاف پاکستان کی یہ کامیاب معرکہ آرائی جس میں بھارت کو شکست اور ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا، جہاں پاکستان کی تاریخ کا سنہری باب ہے وہاں ستائیس برس قبل مئی 1998 میں بھارت کے مقابلے میں ایک ایسی ہی معرکہ آرائی ہوئی تھی جس میں بھارت کو جہاں منہ کی کھانا پڑی تھی وہاں پاکستان ، اس کے عوام، اس کی حکومت اور مسلح افواج بفضلِ تعالیٰ سُرخرو رہے تھے۔ 28 مئی کا دن تھا جسے ہماری قومی تاریخ میں ایک یادگار دن کا درجہ ملنے والا تھا کہ اُس دن کی سہ پہر 3بج کر 13منٹ پر ہم نے چاغی کی پہاڑیوں میں 7کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے سامنے نہ صرف باضابطہ طور پر اپنی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت مہیا کر دیا بلکہ اپنے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کو بھی یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ پاکستان اس کے مقابلے میں جہاں بڑھ کر ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے وہاں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں برتر ایٹمی صلاحیت بھی حاصل ہے۔ 
 بھارت 13 مئی 1998ء کو پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا ۔ اُس کے تنگ نظر رہنما اور حکومتی عہدیدار پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اُنگلیاں اُٹھ رہی تھیں ۔ وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت پر اندرونی طور پر بڑا دبائو تھا کہ وہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں۔ عالمی رائے عامہ ، جاپان سمیت G-8 ممالک ، یورپی یونین اور امریکہ برطانیہ وغیرہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے کے سخت مخالف تھے۔ پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لیے ترغیب، تحریص اور دبائو کے سبھی حربے آزمائے جا رہے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن بذاتِ خود وزیرِ اعظم نواز شریف پر دھماکے نہ کرنے کے لیے دبائو ڈال رہا تھا۔ بل کلنٹن کی طرف سے دھماکے نہ کرنے کی صورت میں اربوں ڈالر امداد کی پیشکش ، بصورتِ دیگر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ہر دو آپشن موجود تھے۔ غرضیکہ یہ ایک بڑا نازک اور مشکل وقت تھا۔ 
وزیرِ اعظم نواز شریف نے دھماکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا ۔ میاں صاحب نے مشورے کے لیے اخبارات کے مدیران اور سینئر صحافیوں کا اجلاس بھی بلایا ۔ اس موقع پر نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مرحوم مجید نظامی نے میاں نواز شریف کے استفسار پر اُنھیں جواب دیا کہ میاں صاحب ایٹمی دھماکے کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ اور پھر 28 مئی 1998ء کا دن آن پہنچا جب سہ پہر کے 3:13 منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلنا شروع ہوا۔ پاکستان سات کامیاب ایٹمی دھماکے کر چکا تھا۔زیرِ زمین دھماکوں کے نتیجے میں بے پناہ توانائی اور حرارت کے اخراج سے پہاڑیوں کا رنگ پہلے کالا، پھر سُرخی مائل اور آخر میں سفید ہو گیا۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت ساری دُنیا کے سامنے آ چکا تھا۔ 
 حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پاکستانیوں کے لیے ہمیشہ سے ایک رومانس کی حیثیت اختیار کیے رہا ہے اور وہ اس کے لیے اپنا تن ، من ، دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں۔ اس کے لیے انھیں بے پناہ مصائب ، مشکلات ، رکاوٹوں اور دھمکیوں کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا رہا ہے بلکہ اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کئی برس تک لگاتار اور پیہم کوششیں اور جدوجہد بھی کرنا پڑی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زیرِ سرکردگی ہمارے سائنسدانوں اور ایٹمی ماہرین کی کوششیں بار آور ہوئیں اور 1984کے وسط تک ہم مطلوبہ معیار تک یورینئم کی افزودگی حاصل کرنے اور اسے ایٹم بم بنانے میں استعمال کرنے کے قابل ہو گئے۔ دُنیا کو ہماری ان کوششوں اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی لگن کا پورا علم تھا۔ سچی بات ہے ہم مانگ کر ، چھین کر ، چرا کر ، خرید کر ہر صورت میں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر اور ہائی ٹیکنالوجی کے حامل پرزاجات اور دیگر سازوسامان مہیا کرنے کے مشن پر گامزن تھے۔ ہمیں اس مشن پر آگے بڑھنے سے روکنے میں کوئی دھمکی ، کوئی ترغیب اور کوئی تحریص کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ بلاشبہ اس میں ہمارے ایٹمی سائنسدانوں سے لے کر ہماری سول اور عسکری قومی قیادت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز افراد سے لے کر پوری قوم کی ہمت، جرأت ، دلیری، عزم اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا جنون اور یقین سب کچھ شامل تھا۔ 
یہ درست ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے مشن پر گامزن تھا تو اسے قدم قدم پر رکاوٹوں، مخالفتوں اور دُشمنوں کی سازشوں کا سامنا تھا۔امریکہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سخت مخالف تھیں تو بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اس کے مرکز کہوٹہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پر تولتا رہا۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں کہ بھارت نے اسرائیلی طیاروں کی مدد سے کہوٹہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رکھی ہے۔ اسرائیلی طیاروں اور ہوا بازوں کی سری نگر پہنچنے کی خبریں بھی چھپتی رہیں لیکن ہمارے مضبوط دفاعی نظام اور ایٹمی پروگرام سے ہماری لازوال کمٹمنٹ کی بنا پر ایسا کچھ نہ ہوا۔
 محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سرکردگی میں ہم نے اپنے ایٹمی پروگرام کو پایہ ٔ تکمیل تک پہنچانے کے اپنے مشن کو جاری رکھا اور 28 مئی 1998 کو ہم دنیا کے سامنے اپنی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت بہم پہنچانے میں اس طرح کامیاب ہوئے کہ دنیا کو بھارت کے مقابلے میں ہماری برتر ایٹمی صلاحیت کو تسلیم کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے نزدیک اس کا ایٹمی پروگرام ایک مقدس مشن رہا ہے جس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پوری قوم کی دعائیں، ولولہ، جذبہ اور قربانیاں جہاںشامل رہی ہیں۔
پاکستان کے لئے بلا شُبہ اپنے ایٹمی پروگرام کو پروان چڑھانا اور کامیابی سے ہمکنار کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ رہا ہے۔ دسمبر 1971 میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کو بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں اگر اس نے اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہے تو اسے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا ہو گی۔ بھارت نے 1974 میں اپنے ایٹمی تجربے کئے تو وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہو گیا جو بالآخر مئی 1998 میں پاکستان ایک ایٹمی قوت کے طور پہ سامنے آ گئی۔

مزیدخبریں