ہائی پاور پروموشن بورڈ کی زیادتی

09:08 AM, 28 Mar, 2026


بیوروکریسی کے حوالے سے میرا عمومی تاثر یہی ہے ”مجیں مجوں کی بہنیں ہوتی ہیں“، مطلب یہ کہ بیوروکریٹ ایک دوسرے کو فائدے تو پہنچا سکتے ہیں، اپنے ”پیٹی بند بھائیوں“ کو نقصان پہنچانے کا کوئی تصور اُن کے ہاں نہیں ہوتا، اگر کوئی سیاسی یا اصلی حکمران اُن کے کسی پیٹی بند بھائی کو نقصان پہنچانا بھی چاہے اُس کے بچاو¿ کا کوئی نہ کوئی راستہ وہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں، جیسے احد چیمہ اور اُن جیسے کچھ افسران کے لیے ڈھونڈ لیا گیا اور آج وہ افسران اپنی ”خصوصی خدمات“ کے باعث اپنے پسندیدہ سیاسی حکمرانوں کے اتنے قریب ہیں عام تاثر یہی ہے اُن کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مارتی، البتہ کُتوں کو اِدھر اُدھر منہ مارنے کی پوری آزادی ہے، اس ماحول میں یہی ہونا تھا کچھ بہترین افسروں کو گریڈ بائیس میں جو کہ اُن کی جائز پروموشن بنتی تھی سے محروم رکھا گیا اور اُنہیں اپنا حق لینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جانا پڑا، پولیس سروس کے عامر ذوالفقار خان بھی اُن میں شامل ہیں، وہ اس وقت گریڈ اکیس میں ہیں، جبکہ اُن سے جونیئر کچھ افسروں کو جن ”خصوصی خدمات“ کے صلے میں گریڈ بائیس دے دیا گیا عامر ذوالفقار کا واحد قصور شاید یہی ہے وہ ”خصوصی خدمات“ کے اُس لیول تک نہیں جا سکتے، جا سکتے ہوتے تو اُنہیں آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹایا جاتا نہ ہی اُنہیں گریڈ بائیس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا، کچھ افسران کسی صورت میں اپنی گریس متاثر نہیں ہونے دیتے، اس کے نتیجے میں اُن کا ضمیر تو ظاہر ہے مطمئن رہتا ہے مگر سروس میں جو نقصانات اُنہیں ہوتے ہیں اُن سے نمٹنے کے لیے بہت عرصے تک وہ بےچارے دربدر ہی رہتے ہیں، جیسے عامر ذوالفقار خان اور اُن جیسے کچھ اور متاثرہ افسران کو ہائی کورٹ جانا پڑا، ہماری عدالتیں چونکہ ابھی مکمل طور پر سیاسی و انتظامی جتھوں کے تھلے نہیں لگی ہوئیں سو کچھ معاملات میں انصاف کی چھوٹی موٹی موم بتی جلتی رہتی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس انعام منہاس نے اُس ہائی پاور پروموشن بورڈ کی ساکھ پر کئی سوالیہ نشان اُٹھا دئیے جس نے کچھ اچھی شہرت کے حامل افسران کو اُن کی جائز ترقیوں سے محروم رکھا اور کچھ پسندیدہ افسران کو اس طرح نوازا اور شہبازا جس کی مثال نہیں ملتی، عامر ذوالفقار خان کو نہ صرف یہ کہ گریڈ بائیس میں ترقی نہیں دی گئی پچھلے کئی ماہ سے اُنہیں او ایس ڈی بھی رکھا ہوا ہے جو اس حوالے سے شاید اُن کا ”حق“ بھی بنتا ہے وہ جہاں تعینات ہوتے ہیں ایسی اہلیت کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے جس کا فائدہ عوام کو ہوتا ہے، جبکہ ہمارے اکثر بیوروکریٹوں یا ”خالی کریٹوں“ کو عوام کا فائدہ کرتے ہوئے موت پڑتی ہے، اُن کی ساری سروس خود کو خود بخود فائدے دینے میں گزر جاتی ہے، جس پالیسی سے اُنہیں کوئی فائدہ نہ ہو رہا ہو اُس پالیسی کو وہ عوام کے لیے نقصان دہ بنا دیتے ہیں، سیاسی یا اصلی حکمرانوں کے ہاتھوں سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچنے کا تاثر بالکل غلط ہے، پاکستان کو اصل نقصان اس مُلک کی بیوروکریسی نے پہنچایا، یہ منحوس سلسلہ ہنوز جاری ہے، آٹے میں نمک کے برابر کوئی اچھا افسر اگر نکل ہی آئے اُس کی راہ میں ایسے ایسے روڑے اٹکائے جاتے ہیں اُن روڑوں کو راہ سے ہٹانے کے لیے اُنہیں عدالتوں کے دھکے کھانا پڑتے ہیں، عدالتیں وہ روڑے ہٹاتی ہیں تو نئے روڑے اٹکا دئیے جاتے ہیں، عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے پھر اُن ہی ظالم لوگوں کے رحم و کرم پر جانا پڑتا ہے جن کے فیصلوں کے خلاف کوئی عدالت میں گیا ہوتا ہے، چھوٹی موٹی عدالتیں ویسے ہی ختم کر دینی چاہئیں کہ اُن کے اکثر فیصلوں کو ہمارے سرکاری ادارے خاطر میں ہی نہیں لاتے، مجھے نہیں معلوم اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ بائیس سے ناجائز طور پر محروم افسران کو انصاف فراہم کرنے کا جو فیصلہ دیا ہے اُس پر من و عن عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں؟ میں تو گزارش ہی کر سکتا ہوں عدالتی احکامات کو توقیر یا توقیر شاہ دے کے خود کو مزید ذلیل ہونے سے بچا لیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی فرمایا ”حکومت کسی کو ایک مہینے سے زیادہ او ایس ڈی نہیں رکھ سکتی، یہ ال لیگل اور آن لاءفُل ہے“، پاکستان میں کیا کیا ال لیگل اور ان لاءفُل نہیں ہوتا؟ کس کس کا ہم ماتم کریں؟ عامر ذوالفقار خان نے تو اپنے عرصہ او ایس ڈی کو بھی عوام کے لیے اس طرح سُود مند بنا دیا اس دوران ایسے ایسے زبردست آرٹیکل اُنہوں نے لکھے جن کا کسی نہ کسی طرح فائدہ عوام کو ہی ہوا، میری اُن سے گزارش ہے اس عرصے میں لکھی گئی خوبصورت تحریروں کو کتابی شکل دیں، یہی اثاثہ انسان کو زندہ رکھتا ہے، مختار مسعود کے بارے میں کوئی نہیں جانتا وہ سینئر بیوروکریٹ تھے، یہ سب جانتے ہیں وہ ایک خوبصورت کتاب ”آواز دوست“ کے مصنف تھے، ایسی کئی مثالیں ہمارے پاس ہیں، عامر ذوالفقار خان واحد افسر ہیں جنہوں نے سٹاف کالج اور نیپا ٹاپ کیے، اُنہوں نے بطور اے ایس پی ہی قائداعظم میڈل حاصل کر لیا تھا جو بعض پولیس افسروں کو آئی جی کے عہدے پر پہنچ کر بھی نہیں ملتا، بوسنیا میں بیسٹ سٹیشن کمانڈر کا اعزاز بھی اُنہیں ملا، مختلف ادوار میں تین انتہائی اہم پوزیشنوں پر میرٹ پر اُن کی تعیناتیاں ہوئیں، نگران حکومت میں اُنہیں آئی جی موٹر ویز لگایا گیا، پی ٹی آئی کی حکومت میں اُنہیں آئی جی اسلام آباد لگایا گیا اور نون لیگ کی حکومت میں آئی جی پنجاب بنایا گیا، اب پتہ نہیں اچانک ایسی کون سی خرابی اُن میں نکل آئی ہے یا کچھ انتقامی مزاج کے بدفطرت لوگوں کو ایسی کیا زد اُنہوں نے پہنچائی ہے اُنہیں کسی عہدے کے قابل نہیں سمجھا جا رہا، نہ ہی اُن کے حق کے مطابق گریڈ بائیس میں اُنہیں ترقی دی جا رہی ہے، اگر کُچھ بدفطرت یہ طے کر کے یا یہ سمجھ کر بیٹھے ہیں چند اہل لوگوں کو گریڈ بائیس میں ترقی نہ دے کر یا اُنہیں مسلسل او ایس ڈی رکھ کے اُن کا ”نظام“ بہتر چل رہا ہے پھر اس نظام پر پوری دُنیا سے جو لعنتیں برس رہی ہیں اُس کے ذمہ دار یہی بدفطرت لوگ ہیں، اس نظام کی تھوڑی بہت ساکھ اگر بحال کرنی ہے پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے متاثرہ افسروں کی ترقیوں کے حوالے سے جو ہدایات دی ہیں بغیر مزید کسی بغض کے اُن پر عمل کیا جائے، عدالتوں کو بھی چاہیے اُن کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی ڈنڈی اگر مارے آگے سے ڈنڈا مار کر اپنی عزت آبرو تھوڑی بہت بحال رکھنے کی تھوڑی بہت کوشش ضرور کر لیا کریں۔

مزیدخبریں