کیا ایران کا پلڑا بھاری ہے....؟

09:04 AM, 28 Mar, 2026

 کوئی چار ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو اپنی یلغار کا نشانہ بنانا شروع کیا تو عام خیال یہی تھا کہ ایران جدید ترین امریکی اور اسرائیلی اسلحے کا سامنا نہیں کر سکے گااور جلد ہی امریکہ اور اسرائیل کی من مانی شرائط تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اسے عجیب بات ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ بر سر زمین صورتِ حال اس کے بر عکس سامنے آئی ہے۔ ایران نہ صرف پوری دلیری، ثابت قدمی اور عزم و حوصلے کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے بلکہ اس نے امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ شرائط کو جہاں مسترد کر دیا ہے وہاں اس نے اب تک کے اپنے اقدامات سے عالمی برادری کو ایک طرح کی نتھ ہی نہیں ڈال رکھی ہے بلکہ اس کے جوابی حملوں سے اسرائیل کے مختلف مقامات نشانہ بن ہی رہے ہیں تو اس کے ہمسایہ عرب ممالک جن پر ایران کی طرح اسلامی ممالک ہونے کا لیبل بھی چسپاں ہے کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں۔
یہ درست ہے کہ ایران کو اسرائیل اور امریکی جارحیت کے نتیجے میں بے پناہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے، جہاں اس کے سٹریٹیجک اثاثے ، تیل کے ڈپو اور ذخائر، بحری جہاز، جنگی کشتیاں اور دوسرے اثاثے تباہی و بربادی کا شکار ہوئے ہیں وہاں اس کے ہاں بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ جس میں اُس کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اس کی عسکری اور سویلین قیادت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کے سر براہ بھی شامل ہیں۔ایران نے ان انتہائی قیمتی جانوں کے ضیاع کو برداشت ہی نہیں کیاہے بلکہ بر وقت فیصلے کرتے ہوئے ان کی جگہ پر نئے عہدیداران اور ذمہ داران سامنے لاتے ہیں بھی کسی طرح کے تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ بلا شبہ ایران نے اپنے ملکی اور قومی تحفظ اور دفاع کے لیے ایک ایسی زندہ، جاندار ، باوقار اور کسی حد تک ضدی قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے جس کے نزدیک قومی اور ملکی مفاد کو سب سے بڑھ کر فوقیت حاصل ہے اور ہمسائیگی کے حقوق اور اسلامی بھائی چارے کے جذبات و احساسات کی کچھ بھی اہمیت نہیں۔ 
ایران کی دورِ حاضر کی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور اس کے دوسرے ملکوں اور 
قوموں جن میں اس کے ہمسایہ اسلامی ملک سرِ فہرست ہیں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو پرکھا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ایران اور ایرانیوں کے نزدیک اپنے ملکی، قومی اور ملکی مفاد عزیز تر ہیں تو اس کے ساتھ غیر ممالک میں بسنے والے اپنے ہم مسلک لوگوں یعنی شیعہ مسلک کے لوگوں کے مفاد بھی عزیز ہیں۔ اس کے لیے انہیں اگر دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت یا پراکسیز کا سہارا لینا پڑے تو یہ بھی ان کے لیے جائزہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ہم بلا شبہ ایران کے ساتھ اپنے ہمسائیگی اور اسلامی بھائی چارے کے تعلقات کو ہمیشہ فوقیت دیتے رہے ہیں لیکن یہاں کئی مواقع پر ایران کی شہ پر شیعہ مسلک کے بعض حلقوں کی ایران سے ہمدردیاں اور لگاو¿ اس طرح سامنے آتے رہے ہیں کہ ان سے پاکستان کے مفادات اور حب وطن کے جذبات پر زد پڑتی رہی ہے۔ اس ضمن میں ۲۸ فروری کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اسرائیلی حملوں کے نتیجہ میں شہادت کا حوالہ یا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ خبر پہنچی تو یہاں کراچی، اسلام آباد اور سکردو میں پُر تشدد ہنگامے شروع ہو گئے اور ایک خاص مسلک سے وابستہ مظاہرین نے جو کچھ کیا، قومی اور ملکی املاک کوجس طرح نقصان پہنچایا۔ قیمتی جانوں کا ضیاع الگ ہوا یقینا یہ سب کچھ انتہائی تکلیف دہ ، پریشان کُن اور قومی اور ملکی مفاد کے خلاف تھا۔ خیر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر الگ سے اظہارِ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ فی الحال دیکھنا یہ ہے کہ ایران کس طرح اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا سامنا اور عالمی دباﺅ کا مقابلہ کر رہا ہے۔ 
امریکہ و اسرائیل بمقابلہ ایران اور ایران بمقابلہ اسرائیل و عرب ممالک تنازع یا ڈرونز اور میزائل حملوں اور بمباری کی تازہ ترین معروضی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ایران نے بڑی کامیابی سے اپنے کمزور پہلوﺅں کو اپنے لئے طاقت اور مدافعت کا ذریعہ بنایا ہے۔ ایران کا اسرائیل کے مختلف شہروں اور مقامات پر حملے کرنا اُس کے لےے ہر لحاظ سے جائز سمجھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے اُسے اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے تو اُس کا جواب دینا ایران کے لئے ضروری بنتا ہے۔ اسی طرح امریکی بحری بیڑے یا اُس کے حملہ آور طیاروں کو نشانہ بنانا بھی ایران کے لئے ہر لحاظ سے جائز اور ضروری سمجھا جاسکتا ہے۔ تاہم ایران کے لئے خلیج کی ہمسایہ عرب ریاستوں اور سعودی عرب میں مختلف مقامات کو اپنے ڈرونز اور میزائلوں کا نشانہ بنانا اتنا آسان نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ایک تو ان تمام ممالک یا ریاستوں پر اسلامی ممالک ہونے کا لیبل چسپاں ہے اور پھر یہ ریاستیں ایران کی ہمسایہ ریاستیں بھی شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان ریاستوں کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی براہِ راست جارحیت بھی نہیں کی گئی لیکن ایران نے ان پہلوﺅں کی پروہ کرنے کی بجائے اپنے مفاد کو فوقیت دی اور ان ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں کی آڑ میں کئی ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جو ان ریاستوں کے لئے دُکھتی رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح جہاں ایران کی ایک طرح دھاک قائم ہوئی وہاں ان ممالک میں خوف و ہراس کی فضا بھی قائم ہوئی اور دُنیا بھی خبردار ہوئی کہ ایران اپنے دفاع میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ 
کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنے دفاع میں ایسا رویہ اپنا رکھا ہے جسے ہر چہ بادا باد کا رویہ یا خود تو مرے ہیں تمہیں بھی لے ڈوبیں گے صنم کا رویہ کہا جاسکتا ہے جو اُس کے لئے ایک لحاظ سے بچاﺅ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین ، چار دن قبل ایران کو دھمکی دی کہ ایران کے بڑے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا تو ایران نے فی الفور جواب دیا کہ وہ اس کے جواب میں ہمسایہ خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب میں پینے کے صاف پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ ایران کی یہ دھمکی ان ممالک کے لئے ایک طرح سے اُن کی دُکھتی رگ کو نشانہ بنانے کی بات تھی چنانچہ تشویش کی لہر دوڑنا ضروری تھا جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر ِ اعظم نتن یاہو بھی کسی حد تک خوف کا شکار ہوئے اور اُس کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملہ کرنا ہی ملتوی نہ کر دیا بلکہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی ثالثی میں امریکہ و اسرائیل اور ایران میں مصالحت کا ڈول بھی ڈالا جانے لگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی اپنے حق میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا ہے ۔ اس بندش کی وجہ سے جہاں دُنیا میں خام تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا دباﺅ کا شکار ہوئی اور انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان مصالحت کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز کی بندش کو ختم کیا جاسکتا ہے اس طرح ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان مصالحت کے لئے کی جانے والی عیاں و نہاں کوششوں کو کسی حد تک تقویت ملی ہے جو ایران کے لیے بطورِ خاص حوصلہ افزائی کا پہلو ہے۔

مزیدخبریں