قرارداد پاکستان 1940 سے استحکام پاکستان 2026تک

09:04 AM, 28 Mar, 2026


ہمارے ہاں ایسے افراد کی شدید کمی ہے جو معاملات پر تنقید و تنفیص کی بجائے اپنے حصے کا تعمیراتی و فلاحی اور اصلاحی کام کرتے ہوں جنہیں سیاست کی الف بے کا پتہ نہیں ہوتا وہ سیاست پر سقراط کی طرح گفتگو کرتے ہیں اور جنہیں معیشت بارے رائی کے برابر سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ہے، وہ معیشت پر بقراط بنے بات کرتے پائے جاتے ہیں۔ ہم سننے کی بجائے سنانے اور سناتے ہی چلے جانے پر ایمان رکھتے ہیں۔ اختلاف رائے برداشت کرنا تور دور کی بات ہے ہم تو مخالف رائے کے حاملین کو صفحہ ہستی سے مٹانے والوں کی تحسین کرتے ہیں۔ اختلاف رائے چاہے سیاسی و سماجی نوعیت کا ہو یا معاشی و مذہبی ہم اختلاف رائے کو کسی سطح پر بھی سننے، ماننے اور اسے قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ ایسے ہی رویوں نے ہمارے مذہبی اور سیاسی ماحول کو پراگندہ کر رکھا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تنقید و تنفیص کی بجائے اپنے حصے کا کام کرنے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے معاشرے میں بہتری اور بڑھوتی کے لئے کوشاں رہتے ہیں، جی ہاں ڈاکٹر آصف محمود جاہ ہمارے ایسے ہی چنیدہ قومی شخصیات میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی مثبت، تعمیراتی و فلاحی کاموں میں گزاری ہے۔ آپ سول سروس کے اعلیٰ ترین منصب سے ریاٹئرڈ ہونے کے بعد ٹیکس محتسب پاکستان کے آئینی منصب جلیلہ سے حال ہی میں فارغ ہونے کے بعد ایک دن بھی فارغ نہیں بیٹھے ہیں۔ آپ کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے پیٹرن ان چیف بھی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں 23 مارچ 1940ءکے یادگار دن کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا جس میں سابقہ فیڈرل سیکرٹری، چیئرمین بی بی سی اور چیئرمین ٹیوٹا خالد محمود صاحب، سینئر صحافی و آبروئے صحافت جناب مجیب الرحمن شامی، سیاسی رہنما میاں وحید احمد، عبدالباسط خان، محمد ذکی باصر اور معروف شعر اور دانشوروں کو مدعو کیا تاکہ وہ اس حوالے سے گفتگو کریں اور لوگوں کو تاریخی تسلسل سے پاکستان کی موجودہ صورتحال سے باخبر کریں۔ اس تقریب کی خوبصورتی یہ بھی تھی کہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب نے خود دانشوری دکھانے کی بجائے مہمانان گرامی کو بولنے اور خیالات ظاہر کرنے کا موقع دیا۔ یہ تقریب ڈاکٹر صاحب کی بامقصد زندگی کے عملی تسلسل کا ایک اظہار تھی۔ شرکاءمحفل نے انتہائی ذوق اور ضبط کے ساتھ مہمانان مقررین کی تقاریر سنیں اور استحکام پاکستان اور 
قرارداد پاکستان کے حوالے سے مقررین کے خطاب کے دوران دادِ تحسین بھی دی۔ مقررین کے ساتھ ساتھ سامعین کا جذبہ قابل ستائش تھا۔ مجیب الرحمن شامی صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ سیکڑوں ہزاروں صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور پاکستان کے فکری و نظری تشخص کا دم بھرنے والوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ ہم نے لکھنے کی ابتدا ہی ان کی زیرادارت نکلنے والے ہفت روزہ زندگی سے کی۔ ان کی صحبتوں نے ہمیں لکھنے کا سلیقہ اور حوصلہ عطا کیا۔ آج بھی مجیب الرحمن شامی کا قلم محبان دین و وطن کے لئے ایک تلوار کی مانند موثر و محترم جانا جاتا ہے، ان کی تقاریر کے جوہر تو اب الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے زمان و مکاں کی حدود پار کر چکے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بیرون ممالک میں بھی ان کی گفتگو دیکھی بھی جاتی ہے اور سنی بھی جاتی ہے۔ پروگرام کی نظامت کے دوران ہم ان کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے شامی صاحب محترم کے بارے میں میرے بیان کردہ خیالات کو سمیٹتے ہوئے انہیں امام صحافت قرار دیا تو حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ شامی صاحب نے قرارداد پاکستان 1940ءکے حوالے سے انتہائی مدلل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کا تقاضا ہے کہ آج ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں کیونکہ پاکستان کے خمیر میں ترقی کرنا، آگے بڑھنا اور قائدانہ کردار ادا کرنا شامل ہے، اس لئے قومی یکجہتی کے ذریعے ہم تعمیر و ترقی کے نحمل کو مہمیز دے سکتے ہیں اور اقوام عالم میں اپنا مطلوب مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان کے وقت جس قسم کی مشکلات درپیش تھیں انہیں دیکھتے ہوئے ہندو قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان خودبخود بھارت کی گود میں گر جائے گا، واقعتا معاشی مسائل، مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل، وسائل کی تقسیم کے سلسلے میں ہندو لیڈرشپ کا متعصبانہ رویہ اور ایسے دیگر مسائل کے باعث نوزائیدہ ریاست کا چلنا اور قائم رہنا مشکل نظر آرہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان قائم رہا اور آگے بڑھتا رہا لیکن ہمارے معاملات درست نہیں ہوئے۔ ہماری بے اعتدالیوں نے ہمیں سقوط ڈھاکہ کے سانحے سے دوچار کر دیا لیکن ہم پھر بھی آگے بڑھتے رہے۔
خالد محمود صاحب نے اپنے خطاب میں بڑے احسن انداز میں ایسی کمزوریوں کی نشاندہی کی، انہوں نے سیاسی ناہمواریوں، معاشی بے اعتدالیوں اور نظام انصاف کی کمزوریوں کا ذکر کیا، ان کی بات درست تھی کہ ہم بڑی قوم بننے کے راستے پر گامزن نہیں ہیں۔ ہمارے معاملات اس انداز میں نہیں چل رہے ہیں، جس طرح چلنے چاہئیں۔ ہم ایک انبوہ کے طور پر چل رہے ہیں۔ ہمارے معاشی معاملات مکمل طور پر ہمارے قرض خواہوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کس طرح چلنا ہے، کون سا ٹیکس، کتنی شرح سے لاگو کرنا ہے۔ ہمارے سالانہ قومی ترقیاتی بجٹ کا حجم کیا ہو گا۔ ٹیکس کتنا جمع کرنا ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو شاید قبول ہوتی، اب تو عالمی ادارے ہمارے نظام تعلیم اور اس میں پڑھائی جانے والی کتب کی تفصیلات بھی طے کرتے ہیں۔ ہماری آزادی و خودمختاری نجانے کہاں تک ایسے اداروں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔
ہم عالمی سطح پر قابل ستائش کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ افغان جنگ ہو یا امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف افغان جنگ ہم ہراول کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس بارے میں دو آراءہو سکتی ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا لیکن ہمارے عالمی کردار کے بارے میں دو آراءنہیں ہیں۔ اب ایران اور امریکہ و اسرائیل جنگ نے جب پوری دنیا کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ شدید خطرات میں گھر چکا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی ہو یا سٹاک مارکیٹیں، سب کچھ الٹ پلٹ ہو رہا ہے تو پاکستان کا صلح جوئی کا کردار نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ دنیا اس جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ امریکی صدر وزیراعظم پاکستان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر رہا ہے۔ اسلام آباد امن مذاکرات کے حوالے سے ہائی الرٹ پر ہے، ممکن ہے جب یہ کالم شائع ہو تو امریکی و ایرانی نمائندگان کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہو رہے ہوں، اس کے علاوہ پاکستان، ہندوستان جیسے کمینے دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ سقوط ڈھاکہ اپنی جگہ لیکن اب تو ہم بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ کو شرمناک عسکری شکست دے کر فاتحانہ انداز میں کھڑے ہیں۔ دنیا ہماری عسکری فعالیت اور برتری کی قائل ہو چکی ہے۔ مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ صہیونی قیادت شرمندگی کا شکار ہے۔ ہماری تمام کمزوریاں و خامیاں اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن ہمیں شرمندہ شرمندہ ہونا اور اپنے آپ کو کوستے رہنا بھی درست نہیں ہے۔ ہم 350 ارب ڈالر کی معیشت کے ساتھ ساتھ 260 ملین نفوس پر مشتمل ملک ہیں جس میں 67 فیصد نوجوان ہیں۔ مجیب الرحمن شامی صاحب کے بقول ہمارے خمیر میں ترقی کرنا اور آگے بڑھنا شامل ہے، اس لئے ہمیں مثبت سوچ کے ذریعے آگے بڑھنے اور اپنے حصے کا تعمیری کام کرنے کی جستجو کرنی چاہئے۔ باقی اللہ بہتر کرے گا، ان شاءاللہ۔
ط
ہمارے ہاں ایسے افراد کی شدید کمی ہے جو معاملات پر تنقید و تنفیص کی بجائے اپنے حصے کا تعمیراتی و فلاحی اور اصلاحی کام کرتے ہوں جنہیں سیاست کی الف بے کا پتہ نہیں ہوتا وہ سیاست پر سقراط کی طرح گفتگو کرتے ہیں اور جنہیں معیشت بارے رائی کے برابر سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ہے، وہ معیشت پر بقراط بنے بات کرتے پائے جاتے ہیں۔ ہم سننے کی بجائے سنانے اور سناتے ہی چلے جانے پر ایمان رکھتے ہیں۔ اختلاف رائے برداشت کرنا تور دور کی بات ہے ہم تو مخالف رائے کے حاملین کو صفحہ ہستی سے مٹانے والوں کی تحسین کرتے ہیں۔ اختلاف رائے چاہے سیاسی و سماجی نوعیت کا ہو یا معاشی و مذہبی ہم اختلاف رائے کو کسی سطح پر بھی سننے، ماننے اور اسے قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ ایسے ہی رویوں نے ہمارے مذہبی اور سیاسی ماحول کو پراگندہ کر رکھا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تنقید و تنفیص کی بجائے اپنے حصے کا کام کرنے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے معاشرے میں بہتری اور بڑھوتی کے لئے کوشاں رہتے ہیں، جی ہاں ڈاکٹر آصف محمود جاہ ہمارے ایسے ہی چنیدہ قومی شخصیات میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی مثبت، تعمیراتی و فلاحی کاموں میں گزاری ہے۔ آپ سول سروس کے اعلیٰ ترین منصب سے ریاٹئرڈ ہونے کے بعد ٹیکس محتسب پاکستان کے آئینی منصب جلیلہ سے حال ہی میں فارغ ہونے کے بعد ایک دن بھی فارغ نہیں بیٹھے ہیں۔ آپ کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے پیٹرن ان چیف بھی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں 23 مارچ 1940ءکے یادگار دن کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا جس میں سابقہ فیڈرل سیکرٹری، چیئرمین بی بی سی اور چیئرمین ٹیوٹا خالد محمود صاحب، سینئر صحافی و آبروئے صحافت جناب مجیب الرحمن شامی، سیاسی رہنما میاں وحید احمد، عبدالباسط خان، محمد ذکی باصر اور معروف شعر اور دانشوروں کو مدعو کیا تاکہ وہ اس حوالے سے گفتگو کریں اور لوگوں کو تاریخی تسلسل سے پاکستان کی موجودہ صورتحال سے باخبر کریں۔ اس تقریب کی خوبصورتی یہ بھی تھی کہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب نے خود دانشوری دکھانے کی بجائے مہمانان گرامی کو بولنے اور خیالات ظاہر کرنے کا موقع دیا۔ یہ تقریب ڈاکٹر صاحب کی بامقصد زندگی کے عملی تسلسل کا ایک اظہار تھی۔ شرکاءمحفل نے انتہائی ذوق اور ضبط کے ساتھ مہمانان مقررین کی تقاریر سنیں اور استحکام پاکستان اور 
قرارداد پاکستان کے حوالے سے مقررین کے خطاب کے دوران دادِ تحسین بھی دی۔ مقررین کے ساتھ ساتھ سامعین کا جذبہ قابل ستائش تھا۔ مجیب الرحمن شامی صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ سیکڑوں ہزاروں صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور پاکستان کے فکری و نظری تشخص کا دم بھرنے والوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ ہم نے لکھنے کی ابتدا ہی ان کی زیرادارت نکلنے والے ہفت روزہ زندگی سے کی۔ ان کی صحبتوں نے ہمیں لکھنے کا سلیقہ اور حوصلہ عطا کیا۔ آج بھی مجیب الرحمن شامی کا قلم محبان دین و وطن کے لئے ایک تلوار کی مانند موثر و محترم جانا جاتا ہے، ان کی تقاریر کے جوہر تو اب الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے زمان و مکاں کی حدود پار کر چکے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بیرون ممالک میں بھی ان کی گفتگو دیکھی بھی جاتی ہے اور سنی بھی جاتی ہے۔ پروگرام کی نظامت کے دوران ہم ان کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فخر بھی محسوس کر رہے تھے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے شامی صاحب محترم کے بارے میں میرے بیان کردہ خیالات کو سمیٹتے ہوئے انہیں امام صحافت قرار دیا تو حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ شامی صاحب نے قرارداد پاکستان 1940ءکے حوالے سے انتہائی مدلل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کا تقاضا ہے کہ آج ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں کیونکہ پاکستان کے خمیر میں ترقی کرنا، آگے بڑھنا اور قائدانہ کردار ادا کرنا شامل ہے، اس لئے قومی یکجہتی کے ذریعے ہم تعمیر و ترقی کے نحمل کو مہمیز دے سکتے ہیں اور اقوام عالم میں اپنا مطلوب مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان کے وقت جس قسم کی مشکلات درپیش تھیں انہیں دیکھتے ہوئے ہندو قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان خودبخود بھارت کی گود میں گر جائے گا، واقعتا معاشی مسائل، مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل، وسائل کی تقسیم کے سلسلے میں ہندو لیڈرشپ کا متعصبانہ رویہ اور ایسے دیگر مسائل کے باعث نوزائیدہ ریاست کا چلنا اور قائم رہنا مشکل نظر آرہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان قائم رہا اور آگے بڑھتا رہا لیکن ہمارے معاملات درست نہیں ہوئے۔ ہماری بے اعتدالیوں نے ہمیں سقوط ڈھاکہ کے سانحے سے دوچار کر دیا لیکن ہم پھر بھی آگے بڑھتے رہے۔
خالد محمود صاحب نے اپنے خطاب میں بڑے احسن انداز میں ایسی کمزوریوں کی نشاندہی کی، انہوں نے سیاسی ناہمواریوں، معاشی بے اعتدالیوں اور نظام انصاف کی کمزوریوں کا ذکر کیا، ان کی بات درست تھی کہ ہم بڑی قوم بننے کے راستے پر گامزن نہیں ہیں۔ ہمارے معاملات اس انداز میں نہیں چل رہے ہیں، جس طرح چلنے چاہئیں۔ ہم ایک انبوہ کے طور پر چل رہے ہیں۔ ہمارے معاشی معاملات مکمل طور پر ہمارے قرض خواہوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کس طرح چلنا ہے، کون سا ٹیکس، کتنی شرح سے لاگو کرنا ہے۔ ہمارے سالانہ قومی ترقیاتی بجٹ کا حجم کیا ہو گا۔ ٹیکس کتنا جمع کرنا ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو شاید قبول ہوتی، اب تو عالمی ادارے ہمارے نظام تعلیم اور اس میں پڑھائی جانے والی کتب کی تفصیلات بھی طے کرتے ہیں۔ ہماری آزادی و خودمختاری نجانے کہاں تک ایسے اداروں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔
ہم عالمی سطح پر قابل ستائش کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ افغان جنگ ہو یا امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف افغان جنگ ہم ہراول کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس بارے میں دو آراءہو سکتی ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا لیکن ہمارے عالمی کردار کے بارے میں دو آراءنہیں ہیں۔ اب ایران اور امریکہ و اسرائیل جنگ نے جب پوری دنیا کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ شدید خطرات میں گھر چکا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی ہو یا سٹاک مارکیٹیں، سب کچھ الٹ پلٹ ہو رہا ہے تو پاکستان کا صلح جوئی کا کردار نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ دنیا اس جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ امریکی صدر وزیراعظم پاکستان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر رہا ہے۔ اسلام آباد امن مذاکرات کے حوالے سے ہائی الرٹ پر ہے، ممکن ہے جب یہ کالم شائع ہو تو امریکی و ایرانی نمائندگان کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہو رہے ہوں، اس کے علاوہ پاکستان، ہندوستان جیسے کمینے دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ سقوط ڈھاکہ اپنی جگہ لیکن اب تو ہم بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ کو شرمناک عسکری شکست دے کر فاتحانہ انداز میں کھڑے ہیں۔ دنیا ہماری عسکری فعالیت اور برتری کی قائل ہو چکی ہے۔ مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ صہیونی قیادت شرمندگی کا شکار ہے۔ ہماری تمام کمزوریاں و خامیاں اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن ہمیں شرمندہ شرمندہ ہونا اور اپنے آپ کو کوستے رہنا بھی درست نہیں ہے۔ ہم 350 ارب ڈالر کی معیشت کے ساتھ ساتھ 260 ملین نفوس پر مشتمل ملک ہیں جس میں 67 فیصد نوجوان ہیں۔ مجیب الرحمن شامی صاحب کے بقول ہمارے خمیر میں ترقی کرنا اور آگے بڑھنا شامل ہے، اس لئے ہمیں مثبت سوچ کے ذریعے آگے بڑھنے اور اپنے حصے کا تعمیری کام کرنے کی جستجو کرنی چاہئے۔ باقی اللہ بہتر کرے گا، ان شاءاللہ۔

مزیدخبریں