بدزبان جے شنکر

09:03 AM, 28 Mar, 2026

پنجابی کی ایک ضرب المثل کے معنی ہیں جس گاو¿ں جانا نہ ہو اس کا راستہ کیوں پوچھیں۔ اس مثل کے مصداق ہمیں بھی بھارت پر بات کرنے کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارا اس سے کچھ لینا دینا ہی نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ شومئی قسمت سے وہ ہمارا ہمسایہ بھی ہے اور دشمن بھی اور ان دونوں حوالوں سے اسے ہماری ہر خوشی پر بہت تکلیف رہتی ہے اور پھر گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد تو اس کی یہ تکلیف دو چند ہو گئی ہے۔ اس کا صدمہ ہے کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا، دکھ کسی طور کم ہی نہیں ہو رہا، ہزیمت کا داغ جو اس کے سینے پر لگ چکا ہے اسے کسی کل چین ہی نہیں لینے دیتا جس کا اظہار وہ اپنی غلیظ زبان اور قبیح افعال سے وقتاً فوقتاً کرتا بھی رہتا ہے۔
دو روز قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کے بارے میں انتہائی نازیبا لفظ استعمال کیا۔ یہ لفظ ایک ایسے عمل کا حوالہ دینے کے لیے استعمال کیا جو تاریخی، تہذیبی اور مذہبی ہر حوالے سے ایک بہترین عمل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ہے ثالثی کرنے اور مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کا کہ دو لڑنے والوں میں صلح کرانے کا کو ایک بہترین کام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مذہب میں تو اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس پر بہت بڑے اجر و ثواب کے مواعید بھی ہیں۔ یوں بھی ثالث بننا کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی۔ ثالث اس سے بنایا جاتا ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے ہوں اور جس کی بات بھی مانتے ہوں۔ ہماری روایت میں ثالث ہمیشہ ایسی شخصیات کو بنایا جاتا رہا ہے جو غیر متنازع ہوتی تھیں اور جن کا سماجی کا سماجی مقام و مرتبہ متحارب فریقین سے بلند ہوا کرتا تھا۔
یہ سب بیان کرنے کا مقصد واضح کرنا ہے کہ ثالث یا صلح کرانے والے کا منصب چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ بہت عزت والا مرتبہ ہے اور خدا کے فضل و کرم سے یہ مرتبہ اس وقت پاکستان کو عطا ہوا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ میں نہ صرف دونوں فریق بلکہ پوری دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان بھی اس ضمن میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور اعلیٰ حکام دنیا کے مختلف ممالک سے رابطے کر کے اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان کو یہ منصب معرکہ حق میں حاصل ہونے والی شاندار فتح کے نتیجے میں ملا ہے جبکہ اسی معرکے میں پاکستان کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد بھارت پوری دنیا میں بے توقیر ہو چکا ہے اور اسے کوئی گھاس ڈالنے کو بھی تیار نہیں۔ یہی وہ جلن اور ذلت و بے توقیری کا احساس ہے جس نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پاکستان کے بارے میں ہذیان بکنے پر مجبور کیا۔ جے شنکر نے جو کہا اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں کہ سب لوگ اس کی ہرزہ سرائی سے بخوبی واقف ہیں۔ جے شنکر بھول گیا کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں بھارت خود بھی یہی کردار ادا کرتا رہا ہے لیکن پاکستان کے کردار پر مودی سرکار اور اس کے نمائندوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔
جے شنکر شاید بھول گیا کہ اس نے جو لفظ پاکستان کے لیے استعمال کیا ہے بھارت کا اپنا تعلق اسی پیشے سے ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ وہ تو پیشے کا مرکزی کردار ہے۔ اس کردار کو طوائف بھی کہا جاتا ہے اور فاحشہ بھی بلکہ اس کے لیے اس سے زیادہ سخت الفاظ بھی موجود ہیں اور یہی بھارت کا اصل چہرہ ہے۔ نہ جانے پاکستان پر انگلی اٹھاتے ہوئے جے شنکر کو اپنی یہ شناخت کیوں یاد نہیں رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جے شنکر نامی یہ نمونہ بھارت کا سفارت کار بھی رہ چکا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے سفارتی کیرئیر کے دوران دنیا میں کس قسم کی سفارت کاری کی ہو گی جو سفارتی آداب ہی سے ناواقف ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو اکتوبر2024 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان بھی آیا تھا اور اس کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے جنازے پر ڈھاکا میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے بھی ملاقات کر چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بھارت کی مودی سرکار نے دنیا کے ساتھ روابط بڑھانے کی ذمہ داری ایک ایسے نادان شخص کے کندھوں پر ڈال رکھی ہے جسے بات کرنے کا سلیقہ ہی نہیں۔
نہ جانے مودی سرکار کے حصے میں سارے کے سارے ایسے نمونے ہی کیوں آئے ہیں حالانکہ سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے لیے بھارت کے پاس اس سے کہیں بہتر لوگ موجود ہیں۔ بی جے پی کی مخالف اور بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگرس کے سیاستدان ششی تھرور اس کی ایک بہترین مثال ہیں جنہیں سفارت کاری اور خارجہ پالیسی جیسے محاذ پر استعمال کیا جانا چاہیے کہ وہ واقعی دنیا میں بھارت کا امیج بہتر کر سکتے ہیں۔ ششی تھرور ایک سلجھے ہوئے شخص ہیں اور بات کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔ جے شنکر کی خرافات سے صرف ایک روز قبل انہوں نے بھی پاکستان کی مخالفت میں ایک بیان دیا تھا لیکن ایسے خوبصورت انداز میں کہ سن کر دل خوش ہوا۔ انہوں نے وہ بات اگرچہ مودی سرکار کے مخالفت میں کی لیکن قرینہ اتنا اچھا تھا کہ اسے سن کر کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہوتی۔
ششتی تھرور کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی ڈپلومیسی بھارت سے کئی گنا بہتر ہے۔ چین ، پاکستان اور روس پہلے سے بہت قریب آچکے ہیں۔ پاکستان کی سفارتکاری پچھلے 70سال میں سب سے کامیاب اور مضبوط ہوئی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت زوال کا شکار ہے۔ 
مودی نے اگر جے شنکر جیسے احمق ہی کو وزارت خارجہ دینا تھی تو کچھ عرصے کے لیے اسے ششی تھرور جیسے کسی سلجھے ہوئے شخص کی شاگردی میں بھیجتا تاکہ وہ بات کرنے کی تہذیب تو سیکھ لیتا۔

مزیدخبریں