بھارتی خارجہ پالیسی کا بحران: عالمی محاذ پر تنہائی اور پاکستان کی سفارتی برتری پر نئی دہلی میں کہرام

04:14 PM, 27 Mar, 2026

نئی دہلی:بھارت کی مودی حکومت کو اس وقت بدترین داخلی تنقید کا سامنا ہے جہاں سیاسی رہنماؤں اور عالمی امور کے ماہرین نے موجودہ خارجہ پالیسی کو "ناکام اور غیر مؤثر" قرار دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی ہندوتوا پالیسیوں کے بوجھ تلے دب کر عالمی سطح پر اپنا وقار کھو رہا ہے، جبکہ پڑوسی ملک پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے بھارتی ایوانوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
کانگریس کے سینیئر لیڈر پون کھیڑا نے حکومت کی متضاد پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے عالمی مذاکراتی عمل میں مکمل ناکام قرار دیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا "مودی حکومت کی سفارتکاری ایک معمہ بن چکی ہے۔ یوکرین کے معاملے پر ثالثی کا ڈھونگ رچانے والے اب عالمی منظرنامے سے غائب کیوں ہیں؟ بھارت اپنی مرضی سے ثالث بنتا ہے اور جب ذمہ داری کا وقت آتا ہے تو راہِ فرار اختیار کر لیتا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کے کلیدی اور مؤثر کردار نے بھارت کو سفارتی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں پاکستان کی اہمیت نے بھارتی وزیر خارجہ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی حکام کی جانب سے غیر مناسب اور گمراہ کن بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت اپنی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اب سخت الفاظ اور جھوٹے بیانیے کا سہارا لے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی انتہا پسندانہ سوچ نے بھارت کے عالمی تشخص کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس کا نتیجہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے محدود ہوتے ہوئے کردار کی صورت میں نکل رہا ہے۔

مزیدخبریں