بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے جنوبی اضلاع میں تباہی مچا دی، 4 جاں بحق

12:51 PM, 27 Mar, 2026

کوئٹہ/گوادر: بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں 25 مارچ سے جاری موسلادھار بارشوں کے طاقتور سلسلے نے شدید سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے اور متعدد علاقے پانی میں گھر گئے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی رپورٹ کے مطابق، سیلابی ریلوں اور مکانات گرنے کے واقعات میں اب تک ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ایک بچے سمیت 2 افراد زخمی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث اب تک 18 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے بیشتر کچے مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔
    ضلع کیچ اور گوادر  بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں دشت اور بگدر کے مقامات پر برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔
    گوادر اور پسنی میں 'اربن فلڈنگ' (شہری سیلاب) کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ سیلابی پانی سڑکوں اور شہریوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے، جس سے نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔ سیلابی ریلوں میں فصلوں اور مال مویشیوں کے بہہ جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے مقامی زمینداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں، تاہم مسلسل بارش اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور افتادہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ برساتی نالوں اور سیلابی راستوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔

مزیدخبریں