تدریسی خدمات کے 36سال

09:16 AM, 28 Mar, 2025


1989کی رات کا چاند اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ،بغداد الجدید ریلوے اسٹیشن بہاولپور کے گردریت سراب کا منظر پیش کررہی تھی،کالج میں جوائننگ کے بعدریل کی پٹڑی پر بیٹھے ہم محو گفتگو تھے،لاہور کو چھوڑنے کا تذکرہ ،گھر سے دوری کا غم سگریٹ سے اٹھتا دھواں ماحول کو اداس کررہا تھا۔
راولپنڈی کے باسی نے کہا کہ آپ تو ویک اینڈ پر گھر بھی جا سکتے ہیں، یہ پہلا تعارف نیاز احمد سے تھا، جن کا تبادلہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی لاہور سے جی سی ٹی بہاول پور ہوا تھا، سیلانی مزاج کے بہترین انسان لگے یہ ملاقات اچھی دوستی میں بدل گئی،ہم ہاسٹل میں اکھٹے رہتے ، شام کو پیلیکان سینماءمیں فلم بینی کرنا، شاہی بازار کے تکے کھانا اور بہاولپور اسٹیشن کی کڑک چائے پینا معمول ٹھہرا، چچا فیض مرحوم ریڈیو پرپرانے نغمے چلاتے ،چائے کا دور چلتا، کیرم بورڈ کاکھیل دیر تک جاری رہتاہاسٹل میں جب سکوت ہوتا تو ہم بھی سو جاتے، فرمان چوکیدار نیاز احمد ہاسٹل وارڈن حکم دیتے، کوئی طالب علم بغیر اجازت اندر نہ آئے۔ موصوف جی سی ٹی اٹک سے بطور پرنسپل ریٹائرڈ ہوئے،آبائی علاقہ گجرات سے تعلق رکھنے والے کولیگ محمد طارق خان ہنس مکھ تھے ، سردی کی رات دونوں مکان پر جارہے تھے، ہاتھ میں مونگ پھلی تھی، طارق خان نے سگریٹ سلگایا ہوا تھا، میںنے غیر ارادی طور پر مونگ پھلی کھانا شروع کی ،بولے سڑک پر چھلکے پھینکناغیراخلاقی بات ہے،میں کچھ شرمندہ ہوا اور مونگ پھلی جیب میںرکھ لی آخری کش لیتے ہوئے کہا ، لاﺅ مونگ پھلی، بھر پور قہقہہ فضا میں بلند ہوا، گورنمنٹ سویڈش کالج گجرات سے یہ ریٹائرڈ ہوئے ،نعیم مرزا،رانا ثناءاللہ ڈائریکٹر سپورٹس اچھے دوست تھے، انجینئرجاوید افضل رومیٹ ،سحری کے وقت بارش تھی، نعیم مرزااور راقم دہی لینے نکلے ،سلپ ہوتے ڈبہ چھوٹ گیا،ٹک ٹک کی موسیقی نے عجب ماحول پیدا کیا،دہی کے بغیر روزہ رکھنا پڑا۔
 جامعہ بہاول پور لاءمیں داخلہ لیا پروفیسر غلام رسول مہاروی،اشرف ناصر کولیگ تھے کلاس فیلو بن گئے اسی وساطت سے ضیاءالحق اعوان اچھے دوست بنے جو انگریزی کے استاد بھی تھے، 
ایس ای کالج سے ریٹائرڈ ہوئے۔
1994- 95 میںنیشنل انسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آبادمیں زیر تربیت رہا،سفارتی صحافت سے وابستہ عنصر محمود بھٹی سے یاد اللہ بھائی کی وساطت سے ہوئی جو ان کے استاد تھے،جمعہ، ہفتہ کی چھٹی اخبارات کے دفتر، امریکن سنٹر، برٹش کونسل میں گذارتا۔ دسمبر1995 میں جی سی ٹی بہاول پور سے ملتان میں تبادلہ ہوا، کچھ مدت کے بعد اساتذہ کرام کی ایسوسی ایشن کے انتخابات تھے،ہم بھی میں کود پڑے،جنرل سیکرٹری کی نشست اپنے نام کی،ملتان ڈویژن اور پنجاب کی سطح کی ذمہ داری ادا کی، یونائیٹڈ ٹیچرز ایسویسی ایشن کے مرکزی قائد ین سید قوسین نقوی، پروفیسر ڈاکٹر عمران اشرف، پروفیسر محمد طارق ملک پروفیسر، عبدالحق، پروفیسر یوسف خالد ،پروفیسر رخسانہ انجم نے چار درجاتی فارمولا کی منظوری اور اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑی، بطور صدر پروفیسر غلام شبیر سنگم کا گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی پنجاب کے قریباً 300 سول سرونٹس اساتذہ کو ترقی دلوانے میںاہم رول ہے جبکہ اختر عباس بھروانہ سنیئر ڈائریکٹر جنرل ٹیوٹا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ فنی تعلیمی بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام ڈی اے ای سالانہ امتحانات منعقد تھے، پروفیسر محمد طارق ملک سیکرٹری، انجینئر اسد بٹ کنٹرولرامتحانات تھے، پرچے آﺅٹ ہورہے تھے،ان دونوں سے یاد اللہ تھی،راقم نے توجہ دلائی، حکم صادر ہوا کھوج لگائیں، اس پر خفیہ کام کیا، شام کو گیس پیپر کے نام پر پرچہ ملا، یہ کیمسٹری کا پرچہ تھا،صبح سنٹر کھلا تو حرف بہ حرف وہی پرچہ تھا، ریکی کی ،دونوں کو مطلع کیا، رات ہم سی پی اوآفس ملتان تھے، ریڈ کے نتیجہ پورا گینگ پکڑا گیا راقم کو بھی دھمکی آمیز کال آئیں، دونوںآفیسران نے مافیا کا صفایا کردیا۔
پرنسپل چوہدری ذوالفقار گجرکی معاونت اور انتہائی ایماندار ڈپٹی کنٹرولر امتحانات چوہدری خرم مراد کی کاوش سے عملی امتحانات کے معاوضہ جات کی اساتذہ کرام کو ادائیگی ممکن بنائی جو کئی سال سے درد سر تھی،جنرل سیکرٹری کے طور پر اصولی اختلاف کیاکبھی پرنسپلز کوبلیک میل کیا نہ ہی سرکاری حکم عدولی کی ،انکی عزت اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھا، پرنسپلز انجینئرظہور احمد خاں اور محمد بلال بپی جی سی ٹی ملتان نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اپنی پروموشن” فار گو“ کر دی، نیاز بھٹی مرحوم کی تقرری بطور پرنسپل میرٹ سے ہٹ کر تھی، انھوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی، موجودہ سربراہ ادارہ انجینئر عبد الوسع کی رفاقت کم میسر آئی،البتہ چوہدری محمد حنیف جی سی ٹی بہاولپور دبنگ پرنسپل سمجھے جاتے ۔ پروفیسر محمد امین،پروفیسر مامون رشید، ہمایوں مرزا، انجینئر خالد محمود بہاولپور جبکہ ملتان سے انجینئراعجاز بھٹی،حق نواز، مشتاق طاہر،محمد ارشد تیجاکی دوران ملازمت وفات کا بہت دکھ ہوا۔
راقم نے تدریس کے علاوہ بطور انفارمیشن آفیسر، تعمیر کردار سوسائٹی کے انچارج، ڈینگی کے فوکل پرسن،کالج میگزین ”صناع“ کے چیف ایڈیٹر،ادبی پروگرامات کے سربراہ، مقامی اور صوبائی اداروں اور کالج کے مابین ایکسٹرنل کوارڈینیٹر۔ویمن یونیورسٹی ملتان کے ٹیکنیکل ممبر کے طور بھی خدمات انجام دیں۔ ٹیوٹا کو فنی تعلیم کی ترقی کا انڈیا ماڈل اپنانا چاہئے، جہاں بی اورایم ٹیک کے علاوہ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرائی جاتی ہے، مقام افسوس ہے کہ کالجز آف ٹیکنالوجی پنجاب میں چھ ماہ کے شارٹ کورسز پر فوکس ہے،ٹیوٹا کوعالمی اداروں سے ملنے والی امداد اور اصلاحات کا میزانیہ بنایا جائے تو سوالات جنم لیں گے ،سابقہ چیئرمین جو خواتین کے لئے نرم گوشہ رکھتے انھوں نے بعض کا لجز میں بلا مقصد ٹیلی پرزنس لیب قائم کر کے بھاری بھر قومی سرمایہ ضائع کیا ۔ موجودہ چیئرمین ٹیوٹا بریگیڈیئر(ر) محمد ساجد کھوکھر بہت ویژنری ہیں، انھوں سائینو پاک پروگرام کے تحت طلباءکی چین میں عملی تربیت کے نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔
راقم کی36سالہ تدریسی خدمات کا اختتام 20مار 2025کو ہوا,جڑواں بھائی پروفیسر ڈاکٹر جاوید اصغر بھی اسی روز ایسوسی ایٹ ڈگری کالج جہانیاں سے ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے،ہم شکل ہونے کی خفت مجھے اُس وقت اٹھانا پڑی جب جامعہ بہاولپور میںتنظیم کے طلباءنے ہاسٹل میں بند کردیا ، برادر محترم جامعہ ذکریا میں ان دنوں اسلامی جمعیت طلباءکے ایگزیکٹو باڈی کے ممبر تھے، انھیں بتایا کہ جی سی ٹی بہاولپور میں تدریس کے فرائض انجام دیتا ہوں تو خلاصی ہوئی، بعد ازاں راقم اسی جامعہ میں شعبہ سیاسیات میں پی ایچ ڈی میں زیر تعلیم بھی رہا۔ ریٹائرمنٹ پر اسلم انصاری مرحوم کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں ۔حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں۔

مزیدخبریں