ایلون مسک کا خواب تھا کہ انسان ایک "ملٹی پلینٹری اسپیشیز" (Multi-Planetary Species) بنے، یعنی انسان صرف زمین تک محدود نہ رہے بلکہ دوسرے سیاروں پر بھی اپنی دنیا بسائے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر کوئی قدرتی آفت (جیسے ایٹمی جنگ، ماحولیاتی تباہی یا کسی بڑے سیارچے کا زمین سے ٹکراو¿) زمین پر انسانی تہذیب کو ختم کر دے، تو مریخ پر ایک بیک اپ کالونی ہونا ضروری ہے۔ اس خواب میں مریخ کے انتخاب کے پیچھے بعض اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً مریخ زمین کے بعد وہ واحد سیارہ ہے جہاں انسانوں کے زندہ رہنے کے کچھ امکانات ہیں۔ یا مریخ پر موجود برف کو پانی میں بدلا جا سکتا ہے جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح وہاں سورج کی روشنی موجود ہے، جس سے توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ مریخ کا ماحول سخت ہے لیکن ٹیکنالوجی کی مدد سے وہاں زندگی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ایلون مسک کا خواب اس سیارے سے اونچا تھا اور اس کے لیے اسباب پیدا کرنا بھی اتنا ہی مشکل۔ مریخ پر آکسیجن، پانی اور خوراک پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔وہاں کی کم کشش ثقل اور سخت موسم میں رہائش کے لیے محفوظ ڈھانچے بنانا ہوں گے۔مریخ پر جانے کے لیے انتہائی طاقتور اور سستا راکٹ درکار تھا۔ اسٹارشپ (Starship) راکٹ اسی مقصد کے لیے بنایا جا رہا ہے لیکن مریخ پر انسان کو بھیجنے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔
ایلون مسک دیوانوں کی طرح اپنے خواب کے پیچھے پھرا۔ روس گیا، وہاں سے راکٹ کے اخراجات کا پتا لگتے ہی واپس لوٹ آیا اور اپنے تئیں اس جہت میں پڑھنا اور تحقیق کرنا شروع کر دی۔ انسان کے نئے تصور اور نئے سیارے پر ہجرت کے خواب دیکھنے والے اس عاشق دیوانے نے اپنی کمپنی متعارف کرائی اور ہزاروں سیٹلائٹ خلا میں پھیلا دیئے۔ اسے سستے راکٹ بنانا تھے اور اس مقصد کے لیے کچھ الگ سوچنا تھا۔ کچھ ایسا جو دنیا میں موجود کوئی سرکاری یا نجی کمپنی نہیں سوچ رہی تھی۔ اس کی کمپنی اسپیس ایکس نے فالکن 9 اور فالکن ہیوی جیسے راکٹس متعارف کرائے
جو دوبارہ قابل استعمال ہیں، جس سے خلائی سفر کی لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ ایلون مسک کی کمپنی" اسپیس ایکس" کو اس فنڈنگ کے لیے "اسٹارلِنک انٹرنیٹ" جیسے بڑے منصوبے بنانا پڑے جو اسپیس ایکس کے اخراجات کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اسپیس ایکس نے NASA کے لیے کامیابی سے خلابازوں کو ISS بھیجا، جو پہلی بار کسی پرائیویٹ کمپنی نے کیا۔
اسٹارشپ راکٹ مستقبل میں چاند اور مریخ مشنز کے لیے بنایا جا رہا ہے۔اسپیس ایکس کا سب سے بڑا مقصد اسٹارشپ راکٹ کے ذریعے مریخ پر انسانوں کو لے جانا اور وہاں ایک خودمختار بستی قائم کرنا ہے۔کمپنی مستقبل میں عام شہریوں کے لیے خلائی سفر کو ممکن بنانے پر کام کر رہی ہے۔موجودہ دور میں اس نے راکٹ ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کر دیا ہے، اور اس کے اگلے اہداف میں نہ صرف چاند اور مریخ کی تسخیر شامل ہے بلکہ زمین پر انٹرنیٹ کی فراہمی اور خلائی سفر کو مزید سستا اور عام بنانا بھی شامل ہے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ 2030 کی دہائی میں مریخ پر پہلے انسان بھیجنا چاہتا ہے اور 2050 تک وہاں ایک خودمختار بستی قائم کرنے کا خواب بھی رکھتا ہے۔ اسپیس ایکس کی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نظر آتا ہے، لیکن اس میں ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
بات یہاں بھی نہیں رکتی۔ ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی نئی تکنیکوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ گاڑیوں، موبائل فون، ربورٹ سے لے کر انسان تک کے وجود میں اس کے ثمرات کی منتقلی کو ممکن کر دکھایا ہے۔
ایلون مسک نے 2016 میں دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر ایک امریکی کمپنی نیورالنک (Neuralink)، کی بنیاد رکھی جو نیوروٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔ اس کا مقصد انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطے کے لیے امپلانٹیبل برین-کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) تیار کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر، نیورالنک کا ہدف معذور افراد کو اپنے کمپیوٹر اور موبائل ڈیوائسز کو محض سوچ کے ذریعے کنٹرول کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ 2024 میں، کمپنی نے "بلائنڈسائٹ" نامی ایک امپلانٹ کے لیے FDA سے "بریک تھرو ڈیوائس" کا درجہ حاصل کیا، جس کا مقصد نابینا افراد کو دوبارہ دیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اسی سال، نیورالنک نے ایک 29 سالہ معذور شخص، نولینڈ آربا، کے دماغ میں کامیابی سے چپ امپلانٹ کی، جس سے وہ اپنے ذہن سے کمپیوٹر کنٹرول کرنے کے قابل ہوا۔ نیورالنک کا طویل مدتی مقصد انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں انسانوں کی علمی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔
حیرت انگیز طور پر ایلون مسک نے گاڑیوں کی صنعت میں بھی انقلابی جدتیں متعارف کرائی ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں کو عام فہم بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔ ٹیسلا کے ذریعے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی لمبی رینج بیٹریاں اور تیز رفتار ماڈلز نے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا متبادل فراہم کیا، جبکہ Autopilot اور Full Self-Driving جیسی ٹیکنالوجیز نے نیم خودکار ڈرائیونگ کو حقیقت کا روپ دیا۔ مزید برآں، ہر سال سافٹ ویئر اپڈیٹس کے ذریعے گاڑیوں کی کارکردگی کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔ گیگا فیکٹریوں کے قیام سے سستی اور مو¿ثر لیتھیم آئن بیٹریوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے الیکٹرک گاڑیوں کی دستیابی میں بھی بہتری آئی ہے۔ Tesla Cybertruck کا منفرد ڈیزائن اور فِیوچرِسٹک انداز صارفین کو متاثر کرتا ہے۔ ان کے ڈیزائن میں سولر پینلز اور پاور وال سسٹم کے ذریعے تجدید توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس سے گاڑیوں کی صنعت میں ماحول دوست اقدامات کو فروغ ملا ہے۔ علاوہ ازیں، ہائپر لوپ اور The Boring Company کے ذریعے زیرِ زمین ٹرانسپورٹ کے نئے نظریات کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان ساری باتوں کے بعد آخر میں آپ کے سامنے ہمارے ٹی وی چینلز پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال رکھتا ہوں "کون سا فرقہ جنت میں جائے گا"؟؟؟ آج کل اس جدید اور اہم موضوع پر دن رات بحث کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے آپ کسی نتیجے پر پہنچ چکے ہوں۔
کون سا فرقہ جنت میں جائے گا
09:15 AM, 28 Mar, 2025