سابق بھارتی وزیر اعظم آئی کے گجرال کے حوالے سے میں کہیں پڑھ رہا تھا کہ ان کے مطابق ہمارے ہاں کی حقیقی جمہوریت ہمارا اثاثہ ہے۔ ہمارے ہاں جمہورےت مضبوط ہے اس لئے تمام ادارے بھی مضبوط ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بھارت اگر کسی بات پر فخر کر سکتا ہے تو وہ وہاں جمہوریت کا تسلسل ہے۔ ہماری آزادی کا سفر تقسیمِ ہند سے شروع ہوا، پاکستان اور بھارت دو راستےں وجود میں آئیں۔ برطانیہ میں رائج جمہوری پارلیمانی نظام دونوں ممالک کا طرزِ حکمرانی قرار پایا۔ بھارت نے اگلے سال ہی اپنا دستور بنا لیا ہم تجربات کی آماجگاہ بن کر رہ گئے۔ 23 برس کے بعد بالغ رائے دہی کی بنےاد پر پہلے عام انتخابات ہوئے ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔آج برِ صغیر کو آزاد ہوئے تقریباً 8 دہائیاں ہونے کو آئی ہیں لیکن بھارت میں ایک بار بھی کبھی جمہوریت سے انحراف نہیں کیا گیا وہاں شروع دن سے ہی آئین و جمہوریت کا راج ہے۔ بھارت آج دنےا کا ترقی کرتا ہوا ملک ہے جب کہ ہم کہاں ہےں اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہےں ہے۔ سوائے اس کے کہ ایٹمی قوت بن گئے ہم نے اداروں کو مضبوط نہیں کیا۔ اس کی تباہی میں ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا۔ ہمارے ہاں سب سے کمزور ہے تو جمہورےت اور پارلےمنٹ ہے۔ پاکستان مےں سےاست کا محور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کی بجائے حصولِ اقتدار ہے اور ےوں سےاست ارتقا پذےر ہونے کی بجائے مسلسل ایک گول دائرے میں گھوم رہی ہے۔ سیاست دان ہمہ وقت اس کوشش مےں رہتے ہےں کہ وہ ووٹرز کے بجائے کسی اور کے فےورٹ بن جائےں اور کسی نہ کسی طرح انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیں خواہ انہیں عوامی حمایت اور پذیرائی نہ ہی حاصل ہو۔ سیاست دان اپنے اقتدار کو طول دےنے کے لئے ہر شرط مان لےتے ہےں۔
سنجےدگی سے جائزہ لےا جانا چاہئے کہ ہم ابھی تک تماشا کےوں بنے ہوئے ہےں اور 77 برس کے بعد بھی ہمارا شمار ناکام "رےاستوں" مےں کےوں ہوتا ہے اور اسی سوال کے تحت ضمنی سوال کے طور پر اس نکتے کی گرہ کشائی بھی لازم ہے کہ اتنی ہی عمر والے بھارت کا منظر نامہ مختلف کےوں ہے؟ کم از کم سےاسی نظم کے طور پر بھارتی جمہورےت اپنے پاو¿ں پر استوار ہو چکی ہے۔ اس نے بےسےوں نسلی، لسانی، مذہبی، سماجی اور ثقافتی تضادات کے باوجود دو درجن سے زائد صوبوں کو وفاق کی لڑی مےں پرو رکھا ہے۔ آزادی اور شورش کی کی کئی تحرےکوں کے باوجود اس کی وحدت کسی بڑے خطرے سے دو چار نہےں۔ جمہوری عمل کے تسلسل اور سےاسی استحکام کی بدولت بھارت کی معیشت بھی تیزی سے نمو پا رہی ہے اور اس کا شمار دنیا کے بڑوں میں ہونے لگا ہے۔ آج بھارت جس بھی مقام پر ہے اس نے یہ سب کچھ جمہوریت کے ارفع اصولوں سے حاصل کیا ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم مثالی جمہوریت سے ہمکنار کےوں نہےںہو رہے؟ ہمارے ہاں اےسی اےسی کتابی جمہورےت کےوں نہےں آ رہی جس مےں کوئی جھول نہ ہو؟ ہمارے سیاست دانوں کے ہاتھوں سے پاکبازی کا نور کےوں نہےں پھوٹ رہا؟ ۔
جمہورےت کے اسی عدم تسلسل سے آج ہم طرح طرح کے مسائل و مشکلات کا شکار ہےں اےک مسئلہ جاتا ہے تو دوسرا سر اٹھا کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال انتہائی کشےدہ ہے، جمہوریت کے تسلسل کے نہ ہونے کی وجہ سے آپسی بھائی چارے کا بھی بہت فقدان ہے۔ دہشت گردی، بھوک، بےروزگاری، مہنگائی وغرہ وغیرہ کونسا مسئلہ ہے جو وطنِ عزےز کو درپےش نہےں ہے۔ دہشت گردی نے تو گزشتہ تین چار دہائےوں سے ملک کی چولیں ہلا دی ہےں، جب کہ اےک بار پھر سے نئے سرے سے اسی دہشت گردی نے ڈےرے ڈال لئے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح کی صورتحال کی اےک ہی وجہ ہے کہ جب کسی کو اقتدار مل جاتا ہے تو وہ اقتدار کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، ملک میں امن و امان کی حالت مخدوش ہے، آئے روز تلخیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اورجو صورتحال آج ہے وہ پہلے کبھی نہےں تھی۔ مچھ مےں جو ٹرےن سانحہ ہوا اس نے ملکی استحکام کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور اب اس پر زور شور سے بحث و تمحےص جاری ہے اور کچھ عرصہ جاری رہنے کے بعد ےہ واقعہ بھی ماضی کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ ہم نے کبھی کسی واقعہ سے کچھ نہیں سےکھا بلکہ اکثر ہم انہی غلطیوں کو دہراتے رہتے ہیں بلکہ آج کل بھی دہرا رہے ہےں جس سے وطنِ عزےز ماضی مےں بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔اس مےں کوئی شک نہےں ہے کہ گزشتہ 77 سال میں پاکستان نے مختلف مےدانوں مےں بہت سی کامےابےاں حاصل کےں، صفر سے سفر کا آغاز کر کے ہم اےک اےٹمی قوت بن چکے ہیں لیکن ہماری کمزورےوں، کوتاہےوں اور ماےوسےوں کا گراف بھی تشوےشناک حد تک بلندےوں کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے۔ معاشی ناہمواری، آئےن اور قانون کی پامالی، سےاسی عدم استحکام ہمیں ہمارے اصل مقاصد سے دور کرتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی غلطےوں سے سبق سےکھےں، ہماری بقاءاسی مےں ہے کہ ہم آئےن کے اندر رہتے ہوئے اس کی اصل روح پر عمل کریں اور آئن کی من مانی تشرےحات سے اجتناب برتےں جن کا جو کام ہے انہےں ہی کرنے دیں۔
آج جو صورتحال بلوچستان اور خےبر پی کے مےں ہے اس نے بڑا خطرناک رخ اختےار کر لےا ہے۔ اب اگر اس گمبھیر مسئلے سے وطنِ عزیز کو نکال کر قومی سطح پر ملکی استحکام بڑھانا ہے تو پھر سےاست دانوں کو آگے آنا ہو گا اور پاکستان کی بقاءکا تقاضا ہے کہ پاکستان پےپلز پارٹی، مسلم لےگ (ن) اور پاکستان تحرےکِ انصاف اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ےہ معاہدہ کرےں کہ آئندہ وہ کبھی غےر جمہوری طرےقوں سے اقتدارمےں نہےں آئےں گے اور جو بھی پارٹی عوامی پذےرائی کے بغےر کسی دوسری مدد کے تحت جےتے گی اسے حکومت بنانے سے باز رکھیں گے اور ےہ کہ وہ اپنی سےاست کا محور غرےب عوام کے مسائل کو بنائےں گے اور محکوم قوموں اور گمشدہ افراد کی بازےابی کے لئے سےاسی اقدامات پر زور دےں گے تاکہ پاکستان میں جمہوری تسلسل اور وفاقیت جڑیں پکڑ سکے۔ آج بھی اگر عقل کے ناخن نہ لئے گئے تو خدانخواستہ پاکستانی سماج ایسی دلدل مےں پھنس جائے جس سے نکلنا ناممکن ہو گا۔
جمہوریت، آئین اور وفاقیت
09:14 AM, 28 Mar, 2025