رمضان المبارک کے آخری عشرے کے یہ آخری ایام ہیں ، دل اْداس ہے بہت اْداس کہ اللہ نے ایک اور رمضان ہماری زندگی میں داخل کیا اور ہم نے اسے بھی اْسی طرح گزار دیا جیسے پہلے رمضان گزار دئیے ، یہ مبارک مہینہ ہمارے پاس ایک مہمان کی طرح آتا ہے ، اس کی رخصتی پر دل اْسی طرح اْداس ہوجانا چاہئے جیسے گھر میں آپ کا کوئی انتہائی پیارا اور عزیز مہمان آئے وہ کچھ روز آپ کے ساتھ قیام کرے اْس کی وجہ سے آپ کا گھر رونقوں سے بھرا رہے، اور جب وہ رخصت ہونے لگے آپ کا دل اْداسیوں سے بھر جائے ، اب ہماری یہ کیفیت نہیں ہوتی ، اپنے’’مہمانوں‘‘ کی تکریم کے سارے طریقے اب ہم بھول چکے ہیں ، پہلے ہم سوچتے تھے رمضان المبارک کب آئے گا اب سوچتے ہیں رمضان المبارک کب جائے گا ؟ اس مبارک مہینے کی تمام رحمتوں اور فضیلتوں کو نظر انداز کر کے کچھ دیر کے لئے صرف بھوکا پیاسا رہنے کو ہی ہم سب سے بڑی فضیلت سمجھتے ہیں ، باقی سارے معمولات زندگی ہمارے ویسے ہی رہتے ہیں بلکہ جھوٹ اور منافقت جیسی لعنتوں سے پہلے سے زیادہ مضبوطی سے ہم جْڑ جاتے ہیں ، کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے رمضان المبارک میں پوری دْنیا کے شیطانوں کو قید کر کے پاکستان لا کر کْھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، ناجائز یا حرام کمائی کے لئے رمضان المبارک کو کچھ لوگ ایک’’بہترین مہینہ‘‘ سمجھتے ہیں ، مہنگائی میں ہوش رْبا اضافہ ہو جاتا ہے ، دیگر جرائم بھی بڑھ جاتے ہیں ، ابھی کل لاہور کا ایک ایس ایچ او مجھے بتا رہا تھا ’’رمضان المبارک میں قبحہ خانوں یا گیسٹ ہاؤسز میں ہونے والی ’’حرام کاریاں‘‘ عام دنوں سے بڑھ جاتی ہیں کیونکہ بدقماشوں اور عیاشیوں کا یہ خیال ہوتا ہے رمضان میں بھلا کون اْن پر شک کرے گا ؟ مگر ہمارا’’کاروبار شک‘‘ چلتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں ہماری اچھی خاصی ’’عیدی‘‘بن جاتی ہے‘‘ ، اللہ والوں کے معاملات مگر اور طرح کے ہوتے ہیں ، رمضان المبارک جب رخصت ہورہا ہوتا ہے وہ بہت اْداس ہو جاتے ہیں ، ابھی پہلا روزہ تھا اور آج آخری عشرہ گزرنے کے قریب ہے ، جتنی تیزی سے وقت گزر رہا ہے یہ قیامت کی نشانی ہے ، مگرہم نہیں سمجھ رہے کیونکہ ہم موت سے زیادہ زندگی پر یقین رکھتے ہیں ، اْس زندگی پر جس کی حقیقت یہ ہے
آئے ٹھہرے اور روانہ ہوگئے
زندگی کیاہے سفر کی بات ہے
جنازوں کو کاندھا دیتے ہوئے بھی ہم یہی سوچ رہے ہوتے ہیں یہ تو مرگیا ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے ، قدرت نے ہماری اس سوچ کا انتقام ہم سے یہ لیا موت کے خوف سے آزاد کر کے ہمیں زندگی کے خوف میں مبتلا کر دیا ، اب ہم یہ سوچ کر خوفزدہ نہیں ہوتے مرنے کے بعد ہمارا کیا حشر ہوگا ؟ اب ہم یہ سوچ کر خوفزدہ رہتے ہیں زندگی میں ہمارا کیا حشر ہوگا ، لوگ اب اس خوف میں مبتلا نہیں وہ مر جائیں گے بلکہ اس خوف میں مبتلا ہیں اپنی مرضی سے وہ زندہ کیسے رہیں گے ؟ یہ ہماری بدقسمتی ہے ہم رمضان المبارک میں اْترنے والی رحمتوں سے استفادہ نہیں کرتے ، اس سے بڑھ کر رحمت کیا ہوگی قرآن پاک کا نزول اسی مبارک مہینے میں ہوا ، مگرہم نے قرآن پاک کو بس گھر کی الماریوں میں محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ سمجھ لیا ، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا’’اگر مجھے آپ کی اْمت کو آگ میں جلانا ہوتا میں کبھی اْس پر رمضان نازل نہ کرتا‘‘ ، جب رمضان المبارک کا چاند دکھائی دیتا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ فرماتے ’’یہ چاند خیر و برکت کاہے ، میں اْس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے ( چاند) کو پیدا کیا‘‘ ، اسی طرح حضرت جبرائیل نے دعا فرمائی ’’ہلاک ھو جائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے‘‘ ، اس دعا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’رمضان کی پہلی رات کو شیاطین کو بند کر دیا جاتا ہے اْنہیں مضبوط باندھ دیا جاتا ہے ، سرکش جنوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے حتی کہ دوزخ کے دروازے بھی بند کر دئیے جاتے ہیں ، اس کا کوئی دروازہ کْھلا نہیں رہتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، اور بار بار آواز آتی ہے’’اے نیکی کے طالب آگے بڑھ آگے بڑھ یہ نیکیاں سمیٹنے کا وقت ہے اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رْک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کر لے کیونکہ یہ وقت توبہ کاہے اور گناہوں کو چھوڑنے کا ہے اور خدا کے لئے ہے‘‘ ، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’میری اْمت کو ماہ رمضان میں پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بنی کو نہیں عطا کی گئیں ، پہلی چیز یہ پہلے رمضان المبارک کو اللہ پاک میری اْمت کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے کہ اْسے کبھی عذاب نہیں دے گا ، دوسری چیز یہ شام کے وقت اْن کے منہ کی جو بو اْن کی بھوک پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے وہ مْشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہوتی ہے ، تیسری چیز یہ فرشتے رات دن اْس کی مغفرت کی دعا فرماتے ہیں ، چوتھی چیز یہ اللہ پاک جنت کو حکم دیتے ہیں میرے نیک بندوں کے لئے تیار ہوجا عنقریب وہ دْنیا کی مشقت سے آزاد ہو کر جنت میں راحت پائیں گے اور پانچویں و آخری چیز یہ رمضان کی آخری رات اللہ مغفرت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے‘‘ ، رحمتوں کے تمام دروازے آج کل کْھلے ہیں مگر ہمارے دل بند ہیں ، ہمیں سچی توبہ کی توفیق شاید اس بار بھی نہیں ہوئی ،ہم صرف بھوکے پیاسے رہے جیسے ہمارے لئے یہ صرف’’ڈائیٹنگ‘‘کا مہینہ ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضع طور پر فرمایا’’جو جھوٹی بات کہنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اْس کے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی حاجت نہیں‘‘ ، ہم جھوٹ کی لعنت سے اس قدر جْڑے ہوئے ہیں اب اسے اپنے روزے کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں ، اگلے روز سودی کاروبار سے وابستہ ایک شخص بتا رہا تھا ’’اس بار پہلے رمضان المبارک کو میں نے اپنی مقررہ حد سے زیادہ زکوٰۃ دی جس کے نتیجے میں میرے کاروبار میں کئی گنا ’’برکت‘‘ ہوگئی‘‘ ، میں نے عرض کیا ’’برکت نہیں ہوئی ، قدرت نے تمہاری زکوٰۃ اضافے کے ساتھ تمہارے منہ پر ماری ہے‘‘۔
الوداع رمضان المبارک
10:36 AM, 27 Mar, 2025