ماں باپ کے لاڈلے آہ وبکا کر رہے ہیں ہائے بابا’’ روزے ‘‘گزرگئے عید بھی آنے والی ہے کئی دن سے گھر میں کھانے کوکچھ نہیں ،بہت بھوک لگتی ہے بابابچے تو من کے سچے ہوتے ہیں پھر دنیا یہ بات کیوں نہیں سمجھتی کیوں ہمارے اچھے دن نہیں آ رہے کیوں ہمیں بارود کی بارش کی نذر کردیا گیاکیوں بن کھلے ہی ہمیں مسل دیا گیاکہا جاتا ہے کہ انسان آزاد پیداہوا ہے تو پھرہم سے آزادی کیوں چھینی جا رہی ہے کیوں دنیا اسرائیل کی دہشت گردی پر خاموش ہے کیوں کوئی نہیں سوچ رہا کہ رمضان المبار ک میں کہ سو رحمتوں کی بارش ہو رہی ہے اور غزہ والوں پر بارود کی بارش جارہی ہے کھانے پینے کی اشیاء کو روک لیا گیا ہے ایسے میں بابا ہم کدھر جائیں آخر ہمارا قصورکیا ہے گھروں کے آس پاس ہر طرف خون ہی خون ہے ،ہمارے سکول جلا دیئے ہیں پناہ گاہیں بھی صیہونیوں سے محفوظ نہیں علاج گاہیں بھی ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں ایسے ہی کئی باپ کے جگر کے ٹکڑے زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلاء ہیں کوئی باپ کو پکار رہا ہے تو کوئی ہائے ماں ہائے ماں کا ورد کر رہا ہے کوئی بہن سے بچھڑ گیا تو کوئی بھائی منوں مٹی تلے جا سویا غزہ میں جنگ بندی اورجنگ بندی کے بعد بھی موت کا رقص جاری ہے بھیڑیے اسرائیل نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدہ توڑتے ہوئے غزہ پٹی میں سحری کے وقت فضائی حملے کر دیئے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 560 سے زائد زخمی ہوگئے زمانہ ایک پھر مذمتوں میں لگ گیا ہے ہر دور میںزمانے نے زندگی کو اپنے ہی رنگ میں رنگ کر چلایا ہے جس کی وجہ سے انسان کو روز اول سے ہی مسائل کا سامنارہا ہے،غزہ کی رہائشی خاتون سے جب پوچھا گیا آپ اس سال رمضان کی تیاری
کیسے کر رہی ہیں توانھوں نے اداس لہجے میں کہا کہ کاش اس سال غزہ میں رمضان نہ آتا ہم کھا، پی بھی نہیں سکتے غزہ میںاکثریت کے لیے رمضان استقبال، روایتی خوشیوں اور ماہ مبارک کی شایان شان تیاریوں کے بغیر ہی گزررہا ہے افطاریوں پر دستر خوان بھی نہیں سج پائے، خاندانوں کے خاندان جاری جنگ میں مارے گئے، کچھ نقل مکانی کر گئے کچھ پیاروں سے بچھڑ گئے،اس کے باوجودبھوک سے نڈھال بے گھر فلسطینی اسرائیلی بمباری میں کھنڈر بنے گھروں میں رمضان کا قابل دید استقبال کیا جا رہا ہے، غزہ میں ہر طرف بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، پناہ گزین کیمپ میں مقیم لاکھوں فلسطینیوں کے پاس کھانے کو کچھ ہے نہ تن ڈھانپنے کے لیے مناسب لباس اس کے باوجود فلسطینیوں نے بوسیدہ کیمپوں میں دیے جلائے دئیے، چراغاں کیا اور سجاوٹ کرکے نعمت خداوندی کا شکر ادا کیا جو امریکہ اور اسرائیل کو برداشت نہ ہوا ، غزہ میں بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو مسلسل تشدد اور نقصان کا سامنا ہے۔ خیموں میں مقیم لوگوں کو اسرائیلی فوج کے حملوں سے کوئی تحفظ حاصل نہیں،رسائی کے مسائل کی وجہ سے ہزاروں لوگ انسانی امداد وصول نہیں کر پاتے، مظلوموں کو کئی طرح کے نفسیاتی مسائل لاحق ہیں بھڑیے بچے کھچے مظلوموں کو کھا جانے کے موڈ میں ہیں اس کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں جھکنے کو تیار ہیں نہ ہی کسی نیتن،ٹرمپ ناپاک منصوبے کو ماننے کو تیار ہیں غزہ میں فلسطینیوں کو صاف پانی اور شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، اسرائیل نے غزہ میں کمبل اور خیموں کی سپلائی بھی روک دی وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ اپنے لیے یا اپنے بچوں اور اہل خانہ کے لیے گرم کپڑوں کی خریداری ممکن بنا سکیں، علاج معالجے کی سہولتوں کا فقدان اور خوراک، صاف پانی کی قلت کے سبب غزہ میں بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے اس کے باوجود دنیا خاموش ہے،غاصب اسرائیل نے غزہ کی سرنگوں میں سمندر کا پانی بھرنا شروع کر دیا ہے، حماس کے جانباز میدان میں اسرائیل کا مقابلہ کر رہے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو پورے غزہ میں اس وقت پہلے سے زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ کوئی دنیا کی طاقت ان کے حوصلے کو مات نہیں دے سکی پوری دنیا ایک طرف اور حق سچ کا علم بلند کرنے والے ایک طرف طاغوت کا مقابلہ کر رہے ہیں،غزہ کی طرح مغربی کنارے میں بھی بچوں کو اس جنگ کے بدترین اثرات کا سامنا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تعمیر نو منصوبے کے خلاف عرب لیگ کا متبادل منصوبہ سامنے آگیا، چین اور یورپی ممالک نے بھی عرب منصوبے کی حمایت کردی، عرب منصوبے پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا، سربراہ او آئی سی نے فلسطینی عوام کی جبراً نقل مکانی جیسے بیانات کو مسترد کردیا ہے جبکہ فلسطینیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اے آئی سے بنائی گئی متنازع ویڈیو ٹرمپ غزہ کا جواب غزہ ہمارا ہے سے دے دیا ہے ویڈیو کے پس منظر میں ایک گانا ہے جس کے بول کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ غزہ ہمارا ہے، ہمیشہ سے مضبوط، امید کی سر زمین، جہاں ہم رہیں گے، غزہ ہمارا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون اور کیسے، ہم غیر متزلزل ڈٹے رہیں گے، ہم یہیں ہیں، ہم رہیں گے، غزہ اس مشکل سے نکلے گا مظلوموں کا پیغام بے حس دنیا کے نام ہے کہ جنہوں نے سوائے مذمتوں کے کچھ نہ کیا بچے بڑے بوڑھے خواتین خاندان کے خاندان موت کے منہ میں چلے گئے پھر بھی حوصلے بلند ہیں اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے لیکن وہ وقت دور نہیں کہ ہم سب بھی پکڑ ہو گی اور پوچھا جائے گا تم نے مصیبت کے ماروں کیلئے کیا کیا؟؟؟۔
غزہ میں سسکتی بلکتی سحری اور افطاری…
10:28 AM, 27 Mar, 2025