زمانہ قدیم کی تاریخ پر ایک نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت آشکار ہو گی کہ ان ادوار میں تجارت پر اور تجارتی راہ داریوں پر قبضہ کرنے کے معاملات پر جنگیں ہوتی تھیں۔آج بھی جو ملک خود کو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے بہتر اور مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ معیشت اور تجارت پر ہی سب سے زیادہ اپنی توجہ مبذول کیے ہوئے ہیں کیونکہ معاشیات بہتر ہو گی۔اکانومی بہتر ہو گی تو ملک میں بے روزگاری ختم ہو گی۔ بے روزگاری ختم ہو گی تو جرائم کی شرح میں کمی واقع ہو گی۔ جرائم کی شرح کم ہو گی تو ملک میں امن و سکون ہو گا، ملک میں امن و سکون ہو گا تو نہ صرف مقامی سرمایہ کار نئے منصوبوں پر پیسہ لگائیں گے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کسی بھی ملک یا فرد کے تمام تر معاملات کی بنیاد اکانومی ہے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا پڑا ہے۔ ہماری جو بیس (Base) یعنی بنیاد ہے وہ ساری کی ساری کرپشن سے شروع ہوتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی بنیاد ہی کرپشن پر ہے کیونکہ قانون کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز، جو ملک اور قوم کے لیے قانون سازی کرتے ہیں ، ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کا جس طرح چنائو ہوتا ہے میرے خیال میں وہ بنیاد ہی غلط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب قانون ساز اسمبلی بنتی ہے تو عوامی نمائندے ملک اور عوام کا سوچنے کے بجائے اپنی تنخواہوں پر نظر رکھتے ہیں۔ اپنی سہولتوں اور مراعات پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ صرف وہ قانون سازی کرتے ہیں جس سے انہیں تحفظ ملے۔ اس صورت حال کی وجہ سے دوسرے معاملات نظر انداز ہو رہے ہیں۔
میرا حکومت سے سوال ہے ، میں بیورو کریسی و اسٹیبلشمنٹ سے بھی سوال پوچھتا ہوں، عدلیہ اور ججوں سے پوچھتا ہوں کہ کون سا ایسا گھر، صوبہ یا ملک ہے جو بنا کسی کاروبار کے چلتا ہو؟ جب سے دنیا بنی ہے تجارت،نئی منڈیاں، نئے علاقے دریافت ہوتے رہے ہیں۔سلطنت عثمانیہ دیکھ لیں، مغل عہد دیکھ لیں،تجارتی راہداری کے لئے جنگیں لڑی جاتی تھیں لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس راہداری موجود ہے لیکن اگر نہیں موجود تو ہمارے سیاست دانوں میں بصیرت نہیں۔
کاروباری افراد بصیرت والے ہوتے ہیں، کسی کا دروازہ نہیں کھولتے، ٹکٹ لینے کے لئے کسی کی گاڑی کے آگے نہیں لیٹتے۔کاروباری افراد ایسے سیاسی ہتھکنڈوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے کاروبار سے ملک کو مستحکم کرتے ہیں۔اس وقت پاکستان کی کاروباری برادری کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان اکنامک موومنٹ میں ملک کے تمام چیمبر آف کامرس کے صدور شامل ہیں،ہم دو سال سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا ہدف ہمیں سونپیں ،ایک ارب ڈالر کے لئے حکومت عالمی اداروں کی منتیں کرتی ہے تو
ہمیں شرم آتی ہے۔ہماری پیشکش سے سیاسی قیادت بے اعتنائی کیوں برت رہی ہے؟
چین کی مثال لے لیتے ہیں جس نے گزشتہ تین چار دہائیوں میں قابلِ رشک ترقی کی ہے۔ اس نے اپنی رفتار کم نہیں کی بلکہ بڑھائی ہے۔ اگر آپ پاکستان کو واقعی ترقی دینا چاہتے ہیں تو چین کو کاپی کر لیں۔ کوریا کو معاشی ترقی کا روڈ میپ پاکستان کے ایک سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے دیا تھا۔ وہ پاکستان کا پانچ سالہ منصوبہ تھا جس کو مشعل راہ بنا کر کوریا آج ترقی کی معراج پر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر محبوب الحق کی تصویریں آج بھی کوریا کے معاشی و اقتصادی دفاتر میں نظر آتی ہیں۔ ہم نے کوریا کا تو بھلا کر دیا، لیکن ہم خود وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
آپ یہاں کے سیاسی نظام پر ایک نظر دوڑا لیں، وہی لوگ وزیر، مشیر بنتے ہیں جو فنکاری میں ماسٹر ہوتے ہیں۔ میں ان کو فنکار اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ لوگ جلسوں میں اپنا چہرہ دکھانے اور اپنے لیڈر کو خوش کرنے کے لیے کفن تک پہن لیتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مطمع نظر ہوتا ہے کہ ہم نے کسی بھی صورت وزارت لینی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے لیڈروں کے آگے پیچھے، دائیں بائیں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اور جب وہ وزیر بن جاتے ہیں تو ان کے پیش نظر ایک ہی ہدف ہوتا ہے کہ اپنے لیے پیسے کیسے بنانے ہیں۔
میں یہاں سیاسی نظام کی بات اس لے کر رہا ہوں کہ یہ سیاسی نظام ہی ہے جو ملک میں بڑی اور واضح تبدیلی لا سکتا ہے اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، لیکن اس نظام پر وہ لوگ آ کر قابض ہو جاتے ہیں جو اپنے قبیلے، برادری اور گروہ کے بڑے ہوتے ہیں۔ انہیں خود کو اور اپنے قبیلے کو تحفظ دینا ہوتا ہے چنانچہ ان کی جانب سے قانون سازی کی کوششیں اس تحفظ تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ ان کو اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ جب تک کوئی ٹھیک سسٹم نہیں بنایا جائے گا یہ معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سسٹم ٹھیک کیسے ہو گا؟ جنہوں نے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے وہ خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک آگے نہیں بڑھ رہا۔ مسلسل پیچھے کی طرف ہی جا رہا ہے۔ جاہلیت کی انتہا دیکھیں کہ 2020ء میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اسمبلی میں یہ کہہ دیا کہ ہمارے 150 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں جس کے بعد مشتبہ لائسنس کے معاملے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی تھی۔ پائلٹس کے 'مشکوک لائسنسز' کے بیان سے پی آئی اے، سی اے اے اور خود پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس پر کارروائی ہونی چاہیے تھی، انہیں نشان عبرت بنایا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ایسے معاملات اگر ہوں بھی تو ملک و قوم کے وقار کی خاطر انہیں سیکرٹ رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی مثال لے لیں۔ وہاں اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو وہ اسے چھپاتے ہیں۔ ہمارے یہاں محض فوٹو بنوانے کے لیے انہیں کھولا جاتا ہے۔ یہ سارا کچھ وژن کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نظام کو درست کرنے کے لیے وژنری لوگوں کا آگے آنا ضروری ہوتا ہے۔ وژنری لوگ سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ تماشا نہیں لگاتے کہ جلوس نکلا ہوا ہے، تو آگے کفن باندھ کر لیٹ جائیں تاکہ لیڈر کی نظروں میں آ جائیں اور ہمیں پارٹی کا ٹکٹ مل جائے۔ اندر سے ان کا مقصد ہوتا ہے کہ پیسے کیسے اکٹھے کرنے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ ایسے تماشائیوں کو اگر کوئی جینوئن آدمی کوئی اچھی پروپوزل یا منصوبہ بتا دے کہ اوپر اعلیٰ قیادت تک پہنچا دو تو وہ آگے سے پیسے مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ مجھے کیا دو گے؟ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ملک کے تمام سرکاری اداروں میں اگر ٹھیک طریقے سے اور میرٹ پر کام نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ اسی قسم کے خود غرض لوگ ہیں جو صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی اپنی کمپنیاں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہوتی ہیں جبکہ سرکاری اداروں اور وسائل کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہوتا۔
اس ساری گفتگو کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ٹھیک جگہ پر ٹھیک آدمی کام کرے تو ہی نتائج اچھے نکل سکتے ہیں۔ بل گیٹ (Bill Gate)کا سادہ سا فارمولا ہے: رائٹ مین فار دی رائٹ جاب، اگر ہم اس فارمولے پر عمل کر لیں تو کوئی وجہ نہیں زوال کی جانب پھسلتا ملک کا پہیہ ترقی کی جانب گامزن نہ ہو جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بیووکریٹ ملک کی تجارتی اور معاشی پالسیاں بناتے ہیں جنہوں نے خود کبھی کاروبار نہیں کیا ہوتا۔ ہم نے پاکستان اکنامک موومنٹ ففتھ پلر کے حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک فورم رکھا ہے جہاں دنیا بھر سے بزنس کمیونٹی کے لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیںکہ بزنس کمیونٹی کو ساتھ بٹھا کر اکنامک پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ بزنس کمیونٹی نہیں ہو گی تو راستے نہیں کھلیں گے، ملک ترقی نہیں کرے گا۔ ایک بار پھر کہوں گا کہ چین کے حالات پر نظر دوڑا لیں۔ 1970ء کی دہائی میں چین کے حالات یہ تھے کہ پاکستان نے چین کے صدر مائوزے تنگ کو طیارہ گفٹ کیا تھا۔ وہ ساری قوم جو سائیکل پر تھی آج اکنامک جائنٹ بن چکی ہے۔ یہ سب کچھ معاشی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ذرا سوچیے ، ہم کہاں بیٹھے ہیں؟
جس طرح محاورہ مشہور ہے کہ بھینسوں کی زبان بھینسیں ہی سمجھ سکتی ہیں اسی طرح بزنس کمیونٹی بھی ایک دوسرے کو سمجھتی ہے اور ایک دوسرے کو سمجھا کر مشترکہ متفقہ فیصلے کر سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ بزنس کمیونٹی کی ایک مشاورتی کونسل بنا کر اس کو اختیارات دیئے جائیں۔ یہ مفت کی فورس وہ کام کر سکتی ہے جو لاکھوں روپے لینے والے معاشی کنسلٹنٹ بھی نہیں کر سکتے۔ اس کونسل کو صرف اختیارات اور عزت کی ضرورت ہو گی۔ اس کو نہ تو پروٹوکول کی ضرورت ہے، نہ گاڑیوں کی، نہ ٹی اے ڈی اے کی، نہ الائونسز کی۔ یہ لوگ محب وطن ہیں، ان کو تلاش کریں۔ ان کو ساتھ بٹھائیں۔ یہ لوگ حکمرانوں کی گاڑیوں کے شیشے تو صاف نہیں کر سکتے، پارٹی کا ٹکٹ لینے کے لیے ان کے آگے پیچھے بھی نہیں ہو سکتے' لیکن اقتصادی مشورے بہترین دے سکتے ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس اثاثے کو ضائع نہ جانے دیا جائے۔
معاشی ایمرجنسی ۲
10:27 AM, 27 Mar, 2025