پچھلے چند روز میں سرگودھا اور کراچی میں کمسن بچیوں کے زیادتی کے بعد قتل ،پشاور میں ایک پندرہ سالہ بچی کے مبینہ گینگ ریپ اور جرگہ کی جانب سے معاملہ کو بگاڑنے کی کوششوں اور سرگودھا میں ہی میں ایک لڑکے کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی اور پھر اسے زندہ دفن کرنے کی کوشش جیسی خبروں نے ملک کے ہر باشعور اور درد دل رکھنے والے شہری کو ہلا کر رکھ دیاہے۔
ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر غصے کا طوفان آتا ہے، ٹی وی چینلوں پر بحث ہوتی ہے، پولیس حرکت میں آتی ہے، کچھ گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں، بعض اوقات پولیس مقابلے میں کسی ملزم کی ہلاکت کی خبر بھی آ جاتی ہے، لیکن چند ہی دنوں میں سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے اور پھر کوئی نیا واقعہ جنم لے لیتا ہے۔
یہاں یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا پاکستان میں جنسی جرائم واقعی بڑھ رہے ہیں یا ان کی رپورٹنگ پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے؟ اگر جرائم بڑھ رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا صرف یہ جرم سرزد کرنے والے قصوروار ہیں یا ہمارا پورا معاشرہ، ہمارا قانونی نظام، ہماری حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنی ذمہ داری ٹھیک سے ادا نہیں کر پا رہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ۔ پوری دنیا میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں،لیکن ترقی یافتہ ممالک اور ہم میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں جرم ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ جرم ہونے سے پہلے بھی اس کی روک تھام کے لیے مضبوط نظام موجود ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا پورا نظام ردعمل پر چلتا ہے۔ جرم ہو جائے تو پولیس حرکت میں آتی ہے، میڈیا شور مچاتا ہے، سیاست دان بیانات دیتے ہیں، لیکن جرم ہونے سے پہلے خطرات کو کم کرنے پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی، سماجی اور خاندانی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی بدولت اگربات معلومات تک آسان رسائی کی حد تک رہتی تو بہت اچھا تھا لیکن اس نے تو فحش اور غیر اخلاقی مواد کو بھی ہر عمر کے لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک کم عمر بچہ بھی سیکنڈوں میں ایسے مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جو اس کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کئی برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ مسلسل پرتشدد یا جنسی مواد دیکھنے سے بعض افراد میں جارحانہ رویے پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ جیسی بنیادی باتیں سکھانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ ایسی گفتگو نامناسب ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خاموشی بچوں کو محفوظ نہیں بناتی بلکہ انہیں کمزور بنا دیتی ہے۔ اگر ایک بچہ یہ جانتا ہی نہیں کہ کون سا رویہ غلط ہے تو وہ بروقت مدد بھی نہیں مانگ سکے گا۔
اسی طرح بہت سے والدین بچوں کو بغیر کسی نگرانی کے گلیوں، بازاروں، ہوٹلوں، ورکشاپوں یا دیگر جگہوں پر بھیج دیتے ہیں۔ بعض بچے کم عمری میں مزدوری کرتے ہیں، بعض مدارس یا ہاسٹلز میں رہتے ہیں، بعض گھروں میں ملازم ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی بچے ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں ان کی حفاظت کے لیے کوئی موثر نگرانی موجود نہیں ہوتی۔
حالات جو بھی ہوں لیکن ریاست کسی بھی طور اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شہری، خصوصاً بچوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام بالخصوص بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا تسلسل برقرار رہے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کا حفاظتی نظام اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟
پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مختلف قوانین تو موجود ہیں، بعض معاملات میں سزائیں بھی سخت ہیں لیکن اصل مسئلہ قانون کی موجودگی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ رشوت خوری اور سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کے علاوہ اکثر اوقات پولیس کے پاس جدید فرانزک سہولتیں بروقت دستیاب نہیں ہوتیں۔ بعض اضلاع میں فرانزک شواہد جمع کرنے کی تربیت بھی ناکافی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عدالت میں مضبوط کیس پیش نہیں ہو پاتا۔
اسی طرح متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کےلئے نفسیاتی اور قانونی مدد کا بھی کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ ایک بچہ جو پہلے ہی ظلم کا شکار ہوا ہو، پولیس،ہسپتال، عدالت اور مختلف سماجی مراحل سے گزرتے ہوئے وہ دوہری اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہر بڑے واقعے کے بعد ایک اور مطالبہ زور پکڑتا ہے کہ ملزم کو فوری پولیس مقابلے میں مار دیا جائے یا سرعام پھانسی دی جائے۔ اس قسم کے مطالبہ کا جذباتی پہلو تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ریاست کا نظام جذبات پر نہیں چل سکتا۔ اگر ہر مقدمے کا انجام پولیس مقابلہ بن جائے تو پھر عدالتوں، تفتیش اور انصاف کے پورے نظام کی کیا ضرورت رہ جائے گی؟ اس سے ایک اور خطرناک رجحان بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اصل حقائق کبھی سامنے ہی نہ آپائیں۔
ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اس قسم کے انتظامات کیے جائیں کہ بچوں کے خلاف جرائم ہونے ہی نا پائیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں کئی سمتوں میں بیک وقت کام کرنا ہو گا: سب سے پہلے ہر ضلع میں بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی یونٹس کو مضبوط کرنا ہوگا، سکولوں میں بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذاتی حفاظت کی تعلیم دینی ہو گی اور والدین کو بھی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت دینی ہو گی۔دوسرا، جن افراد کو عدالتیں اس قسم کے جرائم کے تحت سزا دے چکی ہوں ان کی رہائی کے بعد بھی ان کی قانونی ڈھنگ سے نگرانی کا نظام موثر بنانا ہو گا تاکہ دوبارہ جرم کے امکانات کم ہوں۔تیسرا، ہر شہر میں سیف سٹی منصوبوں، جدید کیمروں، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور ڈیجیٹل کرائم میپنگ کو مزید م¶ثر بنانا ہو گا۔چوتھا، پولیس کی تفتیش کو جدید فرانزک سائنس سے جوڑنا ہو گا اور ہر ضلع میں فرانزک شواہد محفوظ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانی ہو گی۔پانچواں، بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنا ہوں گی جو چند ہفتوں یا مہینوں میں فیصلہ سنائیں ۔چھٹا، متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو صرف مالی امداد نہیں بلکہ نفسیاتی علاج، قانونی معاونت اور سماجی بحالی کی سہولت بھی فراہم کرنا ہو گی۔ ساتواں، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف جدید سائبر نگرانی کو مزید موثربنانا ہو گا۔اور آخر میں، ہمیں بطور معاشرہ اپنی سوچ بھی بدلنی ہوگی۔ بچوں کی حفاظت صرف پولیس یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، علمائ، میڈیا، مقامی کمیونٹی اور ہر ذمہ دار شہری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور افراد کو کتنا محفوظ بناتا ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ محفوظ نہیں تو پھر ہماری ترقی، ہماری معیشت اور ہمارے بڑے بڑے منصوبے بھی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔
بچوں کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کرنا ہونگے
09:36 AM, 28 Jun, 2026