دنیا میں دو تقویمات (کیلنڈر) ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ارب مسلمانوں کی ہجری تقویم اور باقی گلوب پر بالعموم عیسوی تقویم غالب ہے ۔ ہجری تقویم چونکہ اہم ترین تاریخی موڑ، عبادات(رمضان، حج) ساتھ لاتی ہے ، لہٰذا اس پر توجہ ہمراہ چلتی ہے۔ ہم عظیم تاریخ اور عظیم شخصیات ( انبیاءاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم) کے وارث ہیں ، سو یہ تذکرے اہم ترین ہیں ، خواہ دنیا چار ماہ سے ٹرمپی جنگ کی قلابازیوں کے کرتب ہی کیوں نہ دیکھ، سہ رہی ہو۔
یکم محرم سے نئے سال کی ابتدا ہو چکی ۔ اس دعا کے ساتھ کہ ’ہم اللہ سے نئے سال کے نور و برکت کے طلب گا ر ہیں ۔ ہم پناہ مانگتے ہیں اس کے شرور وفتن ، تنگی ، سختی، خوف اور ہلاکتوں سے۔ (آمین) ہجری تقویم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے باہم مشورے سے طے پائی ۔ تاریخ میں ہجرت اہم ترین باب ہے جس سے اسلامی حکمرانی کا آغاز ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کے حکمران ، خاتم المرسلین تھے۔ مسجد ِ نبوی کی امامت سے لے کر جہاد فی سبیل اللہ کی سپہ سالاری ، سود سے پاک اسلامی معیشت، پاکیزہ اسلامی معاشرت بھی قرآنی نصاب کی روشنی میں آپ کے تابع تھی۔ ہجرت کا مقصد ہی :لیظہرہ علی الدین کلہ تھا۔ قرآن میں 3 مرتبہ دہرائے جانے والی تاکیدی آیت مقصدِ بعثت بیان کرتی ہے ۔ اللہ کے ’دین‘ یعنی آئین ( ترجمہ شاہ ولی اللہؒ) ، اللہ کی حاکمیت (Sovereignty)، خالق و مالک کائنات کے واجب الاطاعت قانون کو دنیا میں غالب کرنا مقصودتھا۔ یہ مشن 23 سالہ نبوت میں پہلے قدم کے طور پر جزیرہ نمائے عرب پر مکمل ہوا اور اسلامی ریاست کی سرحدیں سلطنت روم کے دروازے تک جا پہنچیں ۔ بعد ازاں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ریاست کو مستحکم بنیادوں پر قائم کیا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے22 لاکھ مربع میل تک پہنچا کر یکم محرم 23 ہجری کو شہادت پائی۔ ہماری تاریخ بقول اقبال:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ، ابتدا ہے اسماعیل ؑ
آج قدس کی حرمت اسرائیلی بوٹوں تلے پامال ہے اور مسلمان امریکہ اسرائیل کو راضی کرنے میں مصروف ہیں۔ذی الحج میں داستانِ حرم کے عظیم خانوادہ¿ ابراہیمی ؑ کے نقشِ قدم پر 18 لاکھ حاجی حج کر کے لوٹے ہیں ۔ہم یکم محرم ، سید نا عمرؓ کی شہر نبوی میں شہادت سے نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔ ام المومنین سیدہ حفصہؓ کے والد، خلیفہ¿ راشد، مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش پارہنما ہیں ۔ عاشورہ ، 10 محرم کی قدیمی تقدیس لیے آتا ہے۔ انبیاءسے منسوب خصوصاً فرعون کی غرقابی ، اصحاب الفیل کے لشکر کی (قبل از نبوت صلی اللہ علیہ وسلم) تباہی کے واقعات۔ عجب اتفاق ہے کہ ٹرمپ کی پارٹی کا نشان
بھی ہاتھی ہی ہے جو اصحاب الفیل جیسے دجالی عزائم ہی کے حامل ہیں۔ غزہ کا حال دیکھ لیں۔ عربوں کے ہاں پہلے ہی سے عاشورے کا روزہ رکھا جاتا تھا ۔ مسلمان بھی رکھتے رہے تاآنکہ رمضان کے روزے فرض ہونے پر اس روزے کی فرضیت ختم اور اجر باقی رہا موسوی براہیمی نسبت سے ۔ البتہ یہود سے مشابہت (غیر المغضوب علیہم.... کی دعا کے تناظر میں) سے بچنے کو 9 محرم یا11 محرم کا روزہ ساتھ ملانے کا حکم ہوا ۔ ان نسبتوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے عاشورے کو رنگین تر کر دیا۔ اسلامی سیاست کی حقیقی صورت کو نبوت کی تعلیمات سے قریب ترین رکھنے کے لیے ،جو خلافتِ راشدہ کا خاصہ تھی۔نواسہ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا علی المرتضیٰ ؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے لخت جگر سیدنا حسینؓ نے طرزِ حکومت بدلنے کے اندیشے پر خلافت ہی کے برحق ہونے کی مہر اپنے خون سے ثبت کردی۔
اس عظیم تاریخ کے وارث کے2 ارب مسلمان کہاں ، کس حال میں ہیں ؟ ہم عند اللہ شرمسار ہیں ! امریکہ اور اسرائیل نے مل کر مسلم سرزمینیں اجاڑ ڈالیں ، لہو لہان کر دیں اور امت پارہ پارہ، لخت لخت ہے! امت کے لخت ہائے جگر دیکھنے کی ہمت ہو تو غزہ میںہمارے جسد واحد کے بکھرے لوتھڑے دیکھ لیجیے ۔ پورے گلوب پر بھیڑیے ٹوٹ پڑے۔ کون سا گناہ ہے جو شریعت کا ملہ عطا کرنے والے کے احکام توڑ نے میں خود ہمی سے سرزد نہ ہوا ہو ۔ باہمی انتشار و بے حسی سے بڑھ کر ظلم و فساد کیا ہو گا ۔ زمین ، آسمان دیوانے ہو اٹھے ۔ گرج ، برس رہے ہیں۔ سورج شعلے برسا رہا ہے ۔ بدترین گرمی کی لہر کا سامنا ہے ۔ بحر الکاہل ، جسے پرسکون اور کاہل جانا جاتا تھا ، وہ بھی بھڑک اٹھا۔ اس میں سے ایل نینو (El-Nino) پھوٹ پڑا۔ سطح سمندری درجہ¿ حرارت بڑھنے سے (چونکہ وہ چھوٹا سا جوہڑ نہیں وسیع و عریض سمندر ہے) دنیا بھر میں ریکارڈ توڑ گرمی پیدا ہوتی ہے۔ مون سون کا توازن، دائرہ بدل جاتا ہے۔ قحط سالی، جنگلوں میں آگ ، کم بارش، پانی کی کمی۔ غزہ پر 3500 درجہ سینٹی گریڈ کے انسان تحلیل کر دینے والے بم مارے گئے۔ موسم غصے سے دیوانے ہو اٹھے ۔ اب بھگتو ۔
امریکی فارم معیشت کے سر پر بدترین زرعی تباہی کی تلوار تنی کھڑی ہے ۔ ٹرمپ ٹیرف لگانے میں جو دنیا کو اذیت دے کر مزے لے رہا تھا ، اس سے امریکی تجارت میں اہم دھاتوں پر جواباً ٹیکس بہت بڑھ گئے ۔زرعی مشینری پر گہرے اثرات پڑے ۔ امریکی سویا بین بر آمدات جو 2022 ءمیں 18 ارب ڈالر تھیں ، 2025 ءمیں صرف 3 ارب ڈالر رہ گئیں۔ ایران جنگ سے ڈیزل اور کھاد نے بھی تارے دکھا دیئے ۔ فارمنگ کا دیوالیہ پٹ گیا۔ ایل نینو سے اب مزید دو تین سال تک خشک سالی رہنا متوقع ہے ! تم دنیا اجاڑو ۔ فلسطین، اقصیٰ کے خون اور حرمت سے کھیلو۔ خالقِ کائنات کے مظاہر تم سے بد لے چکا لیں گے !
سوئٹرز لینڈ میںایران امریکہ مذاکرات کے بعد اگلے 60دن فیصلہ کن ہوں گے! پس منظر میں اصل کام جاری و ساری ہے یعنی گریٹر اسرائیل ایجنڈہ ! اس کے لیے غزہ اور مغربی کنارہ ، اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا مرکز ہے۔ شہداءاور بے دخل ہونے والوں میں مسلسل اضافہ ۔ لیکن اس کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ لبنان میں بھی عوام الناس مسلسل اجاڑے مارے جارہے ہیں۔ حزب اللہ نشانہ بنے تو ایران فوری مذاکرات سے اٹھ جاتا ہے۔ مذاکرات کیا رہے؟ 90 دنوں میں 40 مرتبہ ٹرمپی نعرہ لگا:’ ڈیل تیار ہے‘ ۔ اور پھر غبارے میں اسرائیل نے سوئی چبھودی یا ایران نے اور کہانی ختم ۔’ کانی منجی‘ مذاکرات! تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قدیمی لکڑی کی چارپائی ،پٹ سن کی رسی سے بنی ہوتی ۔ اس پر بارش پڑ جائے تو لکڑی کا فریم پانی پی کر پھیل جاتا ہے اور رسی سکڑ جاتی ہے۔ چارپائی ٹیٹرھی ہو جاتی ہے۔ پھر اسے دھوپ میں سکھا نا پڑتا ہے یا آخر میں لگی رسی ڈھیلی کر کے مزاج ٹھکانے لگائے جاتے ہیں۔ سو یہ مذاکرات بھی کا نے ہی ہیں۔ آئے روز ٹیڑھ لاحق!آگے اللہ خیر کرے!
بڑی طاقتوں کے مقابل ایران ہو یا پاکستان، نتیجہ یہ ضرور واضح ہے کہ ہم اخباروں کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان کی واہ واہ ہے۔ ایران کا رعب داب ہے کہ امریکہ کو زچ کر دیا ۔ مگر ہمارے داخلی حقائق کا تلخابہ ہمی کو پینا بھگتنا ہے۔ معاشی ،سیاسی حالات ، عوام کی کسمپر سی! غریب آدمی کا جینا نہایت مشکل ہو گیا۔ ایک کمرے میں ٹھنسے خاندان کا کرایہ ، ٹرانسپورٹ ، بجلی ،گیس ، تعلیم، روزگار سبھی دسترس سے باہر! وہ آپ کی غیر ملکی یا بین الاقوامی واہ واہ پر کیا سر دھن سکتا ہے ۔ ہیں تلخ بہت بندہ¿ مزدور کے اوقات! زرداری ہوں، شریفین یا کوئی اور.... اپنے عوام کی کسمپرسی کا مداوا نہیںکر پا رہے ۔ آزاد کشمیر میں تحریک ، عوام الناس کی سیاسی جماعتوں کی سیاست سے بیزاری کی تحریک ہے ۔ کیو نکہ ان کے پاس عوام کے مسائل کا نہ ادر اک ہے نہ حل - بنگلہ دیش کی (کامیاب ) طلباءتحریک ہو یا بھارت میں اٹھ کھڑے ہونے والی CJP ، جنتا پارٹی کے مقابل ۔ اور اب عوامی ایکشن کمیٹی !
دنیا کے حکمرانوں کو سنجیدہ ہونا ہوگا۔ ورنہ جا بجا پھر انقلاب ابھریں گے ۔ بڑی طاقتیں بھی ناکام رہیں وہ بھی سن لیں۔ روس اور امریکہ بمقابلہ نہتے افغان، امریکہ بمقابلہ ویتنام ، روس، یوکرین کے مقابل۔ انقلابات عزم و استقلال کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں ۔ امراءجہازوں کے پھیرے اورلنچ ڈنر مناتے رہ جاتے ہیں۔ فتح یاب آخر اجالا ہی ہوگا ! جو خونِ جگر دے کر چراغ فلسطینیوں نے جلائے ہیں۔ روشنی یہیں سے پھوٹے گی ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ غزہ مسلسل اسرائیل کی بمباری سہہ رہا ہے۔ ہم نوٹس نہیں لے رہے ! اپنی اہمیت کا فیض انہیں نہیں پہنچا پائے!
داستانِ حرم
09:33 AM, 28 Jun, 2026