بھارتی معاشرے میں ذات پات کی تقسیم عام بات ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ مگر حیرت کی بات یے کہ اب بھارت میں سرکاری ادارے اور سیاسی منظر نامے میں بھی اونچی ذات کے ہندو اور نچلی ذات کے ہندو کی تفریق کی جاتی ہے۔ بھارت میں ایک ایسا شخص سامنے آیا ہے جس نے ایک سوال کیا۔ اس شخص نے سوال تو کر ڈالا مگر توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس نے یہ سوال کسی عام شخص سے یا کسی عام شہری سے نہیں کیا۔ بلکہ سوال کیا بھارت میں ہندوو¿ں کی مذہبی انتہا پسندی کی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے۔ جو اسکا قصور بن گیا ہے۔ بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس سے انکے ٹیکس گوشوارے، تنظیم کی فنڈنگ اور بین الاقوامی عطیات کی تفصیل طلب کی ہیں۔ بس یہی سوال انتہا پسندی کی سوچ رکھنے والوں کو چبھ گیا ہے۔ ریاست کرناٹک نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ سو سالہ تنظیم آر ایس ایس آج بھی بھارت میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔ غیر قانونی مذہبی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کھلے عام مسلمانوں کے خلاف تنظیمی کاروائیاں کر رہی ہے اور اسے بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی حکومت کی حمایت حاصل ہے بلکہ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی آر ایس ایس کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے بھارت میں مذہبی منافرت پھیلا رہی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بھارت میں کئی ہزار شاخیں ہیں مگر نہ یہ تنظیم ٹیکس نیٹ میں آتی ہے اور نہ ہی اپنی رجسٹریشن کرواتی ہے۔ باوردی ڈنڈا برادر فورس ہر شہر ہر گلی کوچے میں آزادی سے مارچ کرتی ہے۔ اپنی تنظیم کے سیمینارز اور اجتماعات کرواتی ہے جن کے لئے کوئی اجازت نامہ بھی نہیں مانگا جاتا ہے۔
گزشتہ سال کرناٹک ریاست جہاں کانگریس کی حکومت ہے اس نے بھارت کی تاریخ میں پہلی بار آر ایس ایس کے مارچ پر امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پابندی عائد کی تھی۔ اس حکم نامے کو ہائی کوٹ نے خارج کر دیا تھا۔ آج ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی کی تنظیم آر ایس ایس نے ایک دلت ذات سے تعلق رکھنے والے شخص کے براہمن ہندو سے سوال کرنے پر سخت اعتراض اٹھایا ہے۔ ہندو مذہب میں چار طبقات مانے جاتے ہیں۔ جنہیں مختلف ورنوں کی تقسیم کہا جاتا ہے۔ ان میں براہمن ، کشتری، ویشیا اور شودر شامل ہیں۔ انکو درجے کے حساب سے مذہب اور معاشرے میں اعلیٰ اور ادنی مقام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں اچھوت یعنی دلت قوم بھی پائی جاتی ہے۔ انہیں ہر مذہب سے باہر اور معاشرے سے بھی بے دخل کیا جاتا ہے۔
کرناٹک کے وزیر داخلہ و وزیر آئی ٹی پریانک کھرگے حزب اختلاف کی سیاسی جماعت کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے کے بیٹے ہیں۔ ملیکارجن کھرگے راجیہ سبھا یعنی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ممبر بھی ہیں۔ مگر پریانک کھرگے کا سیاسی گھرانہ، سرکاری عہدہ، وزارت سب انکی مذہبی شناخت پر آ کر رک گئی ہے۔
ریاستی وزیر داخلہ نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کو سرکاری خط لکھا ہوا ہے۔ جس میں اس تنظیم کی مبینہ فنڈنگ کی تفصیلات مانگی گئیں ہیں۔ فی الحال خط کا جواب نہیں آیا اور اگلے چند ہفتوں میں جواب آنے کی امید بھی نہیں ہے۔ بھارتی معاشرہ اور ہر ادارہ پستی کا شکار ہے۔ کیونکہ حکومت اور وزارت کو جواب بھی انکی ذات پات دیکھ کر دیا جاتا ہے۔ کرناٹک ریاست نے آر ایس ایس کی فنڈنگ کی تفصیلات مانگیں تو اس کے جواب میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران نے جواب میں کہا کہ ہماری تنظیم سے دلت کا کیا لینا دینا ہے۔ ہم سے دلت کیسے سوال کر سکتا ہے۔ ایسے بیانات خود بھارت کی سب سے پرانی تنظیم آر ایس ایس کے لئے باعث شرمندگی ہونے چاہیے۔ سیکولر بھارت کا آئین تو تمام شہریوں کو برابری کا درجہ دیتا ہے۔ مگر اس آئین اور قانون کی کس کو پرواہ ہو گی جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکا سربراہ ادارہ آر ایس ایس کسی بھی ادارے کو جواب دہ نہیں ہے۔ غریب اور امیر کی تفریق ، اونچی ذات اور نچلی ذات کی تقسیم ہی بھارت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تباہی کے دہانے پر کھڑے بھارت کے سیاست دانوں اور دانش وروں کو سوچنا چاہیے کہ یہ بوسیدہ سوچ اور روایات بھارت کے ابتر حالات کی ذمہ دار ہیں۔ کبھی بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ کبھی کرسمس کے موقع پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کئے جاتے ہیں۔ منی پور ریاست میں تیں سال سے ہندو کرسچن فسادات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بھارت دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کے ممالک کی فہرست میں اول درجے پر ہے۔ آر ایس ایس، ہندو رکشا دل، بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، اور نہ جانے کن کن ناموں سے ہندوتوا کے ٹھیکیدار بھارت کو مذہبی تقسیم در تقسیم سے توڑ رہے ہیں۔ بھارت ایسا ملک ہے جو سیکولر ہے مگر وہاں مذہب کے نام پر خون بہایا جاتا ہے۔ دلت وزیر کا سوال تو ایک واقعہ ہے جبکہ مذہبی عدم برداشت لاکھوں لوگوں کی زندگیاں نگل رہی ہے۔ جسے بڑھاوا دینے کےلئے بی جے پی حکومت اور اسکی سرگردہ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پیش پیش ہے۔
بھارت میں سوال کرنا جرم
09:32 AM, 28 Jun, 2026