آج کل بر سر اقتدار دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسری پر طعنہ زنی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اصول قانون اور آئین کی باتیں بھی ان کی زبان سے سننے کو مل رہی ہیں۔ عوام کو اختیارات دینے کا بھی با آواز بلند کہا جا رہا ہے۔ پھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار چوبیس کے عام انتخابات ایک جیسے ہوئے لہٰذا ان کے ”نتائج“ کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ان سیاسی جماعتوں کے کڑوے کسیلے اور جوشیلے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ بڑی حق گو اور بااصول ہیں در اصل ان سے وہ اقدامات نہیں ہو سکے۔ جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا لہٰذا اب انہیں شرمندگی کا سامنا ہے تو انہوں نے سیاسی پینترے بدلنے شروع کر دئیے ہیں۔ وہی انداز سیاست جو وہ عام انتخابات سے پہلے اختیار کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چونکہ زیادہ تر عوام ان پڑھ ہیں اور حکمت و دانائی کو پزیرائی نہیں دیتے لہٰذا ان کے کلچر کو ملحوظ رکھتے ہوئے گفتگو کی جائے ایک حد تک ان کی یہ بات درست بھی ہے کہ عوام میں ایسے بھی ہیں جو سلطان راہی ٹائپ بڑکوں، مکالموں اور جملوں کو پسند کرتے ہیں مگر اب یہ کلچر تبدیل بھی ہو رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا اور اٹھہتر برس پر محیط مشاہدات و تجربات انہیں بڑی حد تک حقائق پسندی کی جانب بھی لا رہے ہیں لہٰذا اس وقت جب یہ سیاسی جماعتیں ”کھری کھری“ ایک دوسرے کو سنا رہی ہیں تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اب تمہاری طرز سیاست سے بہت کم لوگ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ یہ نورا کشتی کرتے ہیں کہ ان میں سے جب کچھ اقتدار میں آجاتے ہیں اور کچھ حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھ جاتے ہیں تو پھر وہ گ±ھل مل بھی جاتے ہیں۔ آپس میں جپھیاں بھی ڈالتے ہیں اور پھر قومی خزانہ پر جھپٹ بھی پڑتے ہیں انہوں نے جو مسائل کے خاتمے کے وعدے کیے ہوتے ہیں انہیں بھول جاتے ہیں۔
اب یہ اپنے تئیں چاہ رہے ہیں کہ وہ عوام کی نظروں میں سرخرو ہوں۔ انہیں مظلوم تصور کریں کہ انہیں تو با امر مجبوری میدان میں اترنا پڑا تھا اسی لئے وہ ان کی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکے۔بیرونی سرمایا کاروں کو نہیں لا سکے۔ صنعتی زون قائم نہیں کر سکے یہ کہ قانون و جمہوریت کا بول بالا نہیں کر سکے۔ انہیں یہ بات ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ وہ (اقتداری سیاستدان) اب اور آئندہ عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکیں گے کہ چڑیاں کھیت چگ چکی ہیں۔
انہوں نے برسوں اقتدار میں رہنے کے باوجود غربت‘ افلاس‘ بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو نہیں پایا۔ ناانصافی کے لئے کچھ نہیں کیا گیا‘ ووٹ کے تقدس کا تحفظ نہیں کر سکے عوام کو شریک اقتدار بھی نہیں کیا جا سکا انہیں ہمیشہ اندھیرے میں رکھا گیا گیا۔ اب جب عوامی مینڈیٹ کا احترام ایک طرف رکھتے ہوئے اقتدار کی خواب گاہوں میں چلے آئے ہیں تو اقرار کرنے لگے ہیں کہ یہ سب درست ہے کیونکہ دوہزار اٹھارہ میں بھی ٹھیک تھا۔ اس حوالے سے ضرور کوئی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ دودھ کا اور پانی کا پانی کر سکے؟
چلیے جیسے بھی ہوا اقتدار میں آگئے لہذا عوام کا درد محسوس کیا جاتا انہیں الم و مصائب سے چھٹکارا دلوانے کا کوئی حل کوئی راستہ ڈھونڈا جاتا مگر ایسا کرنے کے بجائے وہی انداز سیاست اپنا لیا گیا کہ کھاو¿ پیو عیش کرو۔ عوام جائیں بھاڑ میں مگر اب جب تھوڑی سیاسی ہلچل ہوئی ہے تو سچ بولا جانے لگا ہے اس بدلتی سیاست کا مقصد لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔
وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اچھے ب±رے کی پہچان آ چکی ہے۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ اگر ان کے حکمران ان کے ہمدرد ان پر ترس کھانے والے ہوتے تو وہ جنگ کی آڑ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرتے کہ جس سے ان کی نیندیں حرام ہو گئیں اب جب جنگ رک چکی ہے ایران امریکا امن معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت نیچے آچکی ہیں تو بھی تا دم تحریر اس کی پہلے والی قیمتیں بحال نہیں ہو سکیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ان سیاسی رہنماو¿ں اور اہل اقتدار کو عوام کا احساس نہیں لہذا کوئی فائدہ نہیں ان ہوشیار یوں کا‘ جو دونوں اقتداری جماعتوں کے سربراہ دکھا رہے ہیں۔ ہم تو حیران اس بات سے بھی ہیں کہ مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند روز پہلے ایوان زیریں میں انہوں نے جو کہا اس پر یقین نہیں آیا کہ وہ یہ سب کہہ سکتے ہیں؟ ویسے کبھی کبھی وہ مدبرانہ و دلیرانہ باتیں کر جاتے ہیں مگر جب ان پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو ان کی راہ میں کوئی نہ کوئی ”مصلحت“ آن کھڑی ہوتی ہے مگر یہ بات بھی ہے کہ لوگ ان کی باتوں سے تھوڑا اثر بھی لے لیتے ہیں۔
بہر کیف اب بھی اگر ارباب اختیار اپنی پچھلی کمزوریوں خامیوں کوتاہیوں اور غلطیوں کو بھلا کر ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا چاہیں تو موجودہ حالات ان کے لئے بے حد سازگار ہیں کہ انہوں نے جو ایران امریکا کو قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے وہ لائق توجہ ہے اور لائق تحسین بھی لہذا ایران سے بجلی گیس اور تیل نسبتاً ارزاں قیمت پر خریدا جا سکتا ہے۔ اگر وہ یہ کام کر جاتے ہیں تو ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ عوام ان کے تکلیف دہ روایتی طرز عمل کو بھول جائیں گے اور جن حکومتی جماعتوں کی مقبولیت کا گراف نیچے آچکا ہے وہ اوپر جانا شروع ہو جائے گا اگر وہ ایسا نہیں کرتیں تو عوام بیوقوف نہیں کہ ان سے چمٹے رہیں لہذا انہیں چاہیے کہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں بصورت دیگر ٹیکسوں قرضوں اور امدادوں پر انحصار کرنا پڑے گا جو نہ تو غربت پر قابو پا سکتے ہیں اور نہ ہی بڑھتی ہوئی خوفناک بے روزگاری کو روک سکتے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں اسی طرح افراتفری بے چینی اور سراسیمگی پھیلی رہے گی؟ مکرر عرض ہے کہ اگر وہ گزرے تلخ لمحات سے جان چھڑا کر اپنی آخری سانسوں کو بہتر اور آسان بنانا چاہتے ہیں تو ڈکٹیشن سے اپنا رخ موڑ لیں کیونکہ اب امریکا سپر پاور نہیں رہا ایران نے اس کی سپر میسی کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ سپر پاور اگر کوئی ہے تو وہ چین ہے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ امریکا کی طرف سے ایران کو کئی
ملکوں سے تجارت کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کیونکہ ایران کو اب امریک کی اجازت کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ اپنی مرضی میں آزاد ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس حوالے سے سوچنا ہو گا اور اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور وہی کرنا ہے جو ہمارے مفاد میں ہے۔
بدلے بدلے سے نظر آتے ہیں ہمارے سیاسی رہنما ؟
09:32 AM, 28 Jun, 2026