برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے قانونی راستوں کا اعلان

07:15 PM, 27 Jun, 2026

لندن: برطانیہ نے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک نیا اور منظم قانونی فریم ورک متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد محفوظ اور قانونی راستوں کو فروغ دینا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ رواں برس کے اختتام سے پناہ گزینوں کے لیے محدود اور کنٹرولڈ قانونی آپشنز فراہم کیے جائیں گے، جن کے تحت مختلف اداروں کو اسپانسر شپ کا اختیار دیا جائے گا۔

نئے منصوبے کے تحت یونیورسٹیاں، نجی ادارے، آجر اور سماجی تنظیمیں اقوام متحدہ یا منظور شدہ اداروں کے ذریعے منتخب حقیقی پناہ گزینوں کی معاونت کر سکیں گی اور انہیں برطانیہ منتقل کرنے میں کردار ادا کریں گی۔

برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل کینیڈا کے کمیونٹی اسپانسر شپ نظام سے متاثر ہے، جس کا بنیادی مقصد غیر قانونی اور خطرناک راستوں، خصوصاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آمد کو روکنا اور ضرورت مند افراد کو محفوظ طریقے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حکومت کی جانب سے تین مختلف قانونی راستے متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں کمیونٹی اسپانسر شپ، یونیورسٹی اسپانسر شپ اور ورک اسپانسر شپ پروگرام شامل ہیں۔ ان کے تحت فلاحی ادارے پناہ گزینوں کی کفالت کریں گے، جامعات تعلیم کے مواقع فراہم کریں گی جبکہ مخصوص آجر ملازمت کی بنیاد پر اہل افراد کو برطانیہ بلا سکیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یونیورسٹی اسپانسر شپ کے لیے درخواستیں سال کے آخر میں شروع ہوں گی اور پہلے مرحلے میں منتخب افراد 2027 تک برطانیہ پہنچ سکیں گے۔ اسی طرح ورک اسپانسر شپ پروگرام بھی اگلے سال مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ ان پروگراموں کے تحت صرف محدود تعداد میں افراد کو قبول کیا جائے گا اور ہر درخواست کی سخت سیکیورٹی اور اہلیت کی جانچ کے بعد ہی منظوری دی جائے گی۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ حکومت حقیقی پناہ گزینوں کے لیے قانونی راستے کھول رہی ہے تاہم امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنی انسانی ہمدردی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ، ظلم اور بحران سے متاثر افراد کو تحفظ دے گا، لیکن امیگریشن نظام کو منظم اور شفاف بنانا ضروری ہے۔

نئی پالیسی کے ساتھ حکومت نے امیگریشن قوانین میں مزید سختی کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت انسانی حقوق اور جدید غلامی سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں متوقع ہیں تاکہ جعلی اور بے بنیاد درخواستوں کی روک تھام کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ اسکیم عام ویزا یا ورک پرمٹ کے خواہشمند افراد کے لیے نہیں بلکہ صرف بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ پناہ گزینوں کے لیے مخصوص ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 


 

مزیدخبریں