اگلے روز جب ایران پر ٹرمپ نے حملہ کیا، ابھی اس کے نتائج اور بات آگے کس طرف بڑھتی ہے کا دنیا کے عام انسانوں کو انتظار بلکہ فکر تھی تب ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ حملہ سین کی ڈیمانڈ ہے، سکرپٹ کا حصہ ہے۔ میں ہائیکورٹ سے فارغ ہو کر گھر جانے کے لیے نکلا تو سیٹھ شہباز نور صاحب کا فون آ گیا کہ آپ میری طرف آئیں لہٰذا میں نے کینٹ کے بجائے گلبرگ کی طرف سے ہوتے ہوئے ڈیفنس اپنے گھر جانے کا روٹ اختیار کیا۔ راستے میں معروف دکان عاشق پان شاپ لبرٹی پر گاڑی روکی اور عاشق کے بیٹے شہباز کو اشارہ کیا۔ اس نے پان بھجوا دیئے مگر مجھے رکنے کا اشارہ کیا جب وہ قریب آیا تو میں گاڑی سے باہر نکل کر اس کو گلے ملا کہ اس نے اپنے پان بنانے والے چونا کتھہ سے لتھ پتھ ایپرن لگا رکھا تھا۔ اس وجہ سے گلے لگایا کہ ایک محنت کرنے والا خوش اخلاق اور اپنے باپ کے کاروبار کو آگے بڑھانے والا نوجوان ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ مجھے کوئی تھانے کچہری کا کام کہے گا مگر وہ فکرمندی میں مبتلا تھا کہ سر! یہ جو ٹرمپ نے حملہ کیا ہے اس کا کیا بنے گا؟ اب کیا جنگ پھیل جائے گی، اب کیا ایٹم بم چلیں گے، کیا دنیا تیسری عالمی جنگ سے دوچار ہو گی۔ مجھے اس کے تفکر، حب الوطنی اور انسان دوستی نے زبردست متاثر کیا۔ میں نے اس سے کہا آپ یہ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ سر آپ کا کالم پڑھتا ہوں۔ آپ کا ویلاگ دیکھتا ہوں۔ کالم آپ کے صوفی ازم اور محبت پر آ رہے ہیں۔ ویلاگ آپ نے پاک بھارت جنگ کے بعد ابھی تک نہیں کیا تو میں کچھ خبر چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ ہمارے منصور خان بھائی اور مزمل سہروردی آج کل بڑی اندر کی باتیں کر رہے ہیں، میں کیا بات کروں؟ بہرحال میں نے اس سے کہا کہ یہ حملہ جو ایران پر ہوا ہے اس کو سین کی ڈیمانڈ سمجھو اور مزید کچھ نہیں ہو گا۔ اب دنیا بدل رہی ہے، نئے طاقت کے مرکز قائم ہو رہے ہیں، نئے بلاک بن رہے ہیں جس میں پاکستان کے لیے اچھی خبریں ہیں جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب معاملات سمیٹے جائیں گے۔ اسرائیل کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا، ایران کی قدرت نے کیسے مدد کی وہ ابھی بات کرنے والی نہیں، بھارت برگد کے درخت کے نیچے آ گیا ہے البتہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی بی جے پی ہے اس نے قہر اٹھا رکھا ہے، بڑی جلدی برابر ہو جائیں گے۔ پھر میں نے اس کو لاہور کے پرانے وقتوں کے ایک بااثر شخص ملک واحد کا واقعہ سنایا۔ ملک صاحب لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں مقیم تھے۔ ان کا ڈیرہ ہوٹل کا کمرہ تھا، 5 سٹار ہوٹل کہلاتا تھا۔ لاہور کے تمام بدمعاش، غنڈے، متعلقہ افسران، حکام ان کے مہمان ہوتے۔ وہ اپنے ملازم کے ہاتھ اعلیٰ افسران کے گھر پھل، مٹھائیاں، گوشت اور عید پر ملازمین کے لیے نقدی لفافے بھجوایا کرتے۔ ایک گوگا (ککے زئی) ایک بندہ ان کا سالا تھا جس کی ریاض گجر کے ساتھ دشمنی تھی اور وہ اصغر بٹ، جس کو حاسدین اصغر بہناں والا کہتے تھے، کا دوست تھا۔ ملک صاحب نے ایک آفیسر کے گھر سامان بھجوایا (تخائف) اس نے فون کر کے شکریہ ادا کیا۔ یہ بات اگلے روز میرے بڑے بھائی اللہ سلامت رکھے (سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل حالیہ کوآرڈی نیٹر وفاقی محتسب اعلیٰ لاہور) نے بتائی کہ اس نے شکریہ ادا کیا۔ جس طرح لکھاری اور شاعر صاحب اسلوب ہوتے ہیں یعنی اس کی تحریر اور اسلوب سے لوگوں کو اندازہ ہو جایا کرتا ہے کہ یہ کلام، کالم کس کا ہو گا۔ ملک صاحب یوں اپنے انداز اور اچھوتے سٹائل والے آدمی تھے۔ ملک صاحب کو اس آفیسر نے پوچھا یہ جو آپ کا آدمی سامان دے کر گیا ہے آپ کا رشتہ دار ہے؟
ملک صاحب نے کہا نہیں کیوں کیا ہوا؟ وہ آفیسر کہنے لگے کہ اس کا سارا انداز گفتگو اور آواز آپ جیسی ہے اس کی باڈی لینگوئج بلکہ فٹ ورک آپ جیسا ہے۔ ملک صاحب نے بتایا کہ نہیں رشتہ دار نہیں میرا کارخاص ہے۔ جب ملازم واپس آیا تو ملک صاحب نے اپنی با رعب بھاری آواز کھلتے ہوئے چہرے اور تیکھے انداز میں ملازم سے کہا ”اوئے میں جو کہنا اوہ کر! جو میں کرنا اوہ نہ کر! ورنہ قتل ہو جائیں گا“ اوئے جو میں تجھے کہوں وہ کرو جو میں کرتا ہوں وہ نہ کرنا ورنہ قتل ہو جاﺅ گے۔“
اسی طرح ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ بندی میں اسرائیل کے طیاروں کی اڑان بھرتی ہوئی پروازوں کو روکا اور اسرائیل سے کہا یعنی نیتن یاہو سے کہا کہ جو میں کرتا ہوں وہ نہ کر جو میں کہتا ہوں وہ کر ورنہ قتل ہو جائے گا۔یہی پیغام ٹرمپ کا بھارت کے لیے تھا جب اس نے سیزفائر کی درخواست کی۔ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو اس کے اثرات مضمرات کچھ اور ہیں اور یہ غریب مار اسرائیل اور رنگ باز بھارت بھی اگر امریکہ بننے لگے تو دنیا ایک دن میں خاکستر ہو جائے گی کیونکہ خطے کرہ ارض پر چائنہ متعارف ہو چکا۔ وطن عزیز کی عسکری قوت متعارف ہو چکی۔ رافیل طیارے اور یورپی دفاعی مصنوعات وقار کھو چکیں۔ چائنہ کے طیارے پاکستانی غیور افواج کے ذریعے متعارف ہو چکے لہٰذا جو میں کہنا او کر جو میں کرنا او نہ کر ورنہ قتل ہو جائیں گا۔
جو میں کہتا ہوں وہ کر، ٹرمپ!
09:11 AM, 28 Jun, 2025