کتابوں کی دُنیا.... جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے!

09:10 AM, 28 Jun, 2025

معروف کالم نگار، تجزیہ کار، محقق، مورخ اور سینئر صحافی ڈاکٹر فاروق عادل کی کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“ کئی ماہ قبل موصول ہوئی۔ درمیان میں سفرِ حرمین شریفین کے حوالے سے کالموں کا سلسلہ چلتا رہا تو میں اس کتاب کو جسے پڑھنے کا مجھے بہت اشتیاق تھا اپنے سرہانے کی ایک طرف رکھے رہا لیکن پڑھ نہ سکا۔ اب کچھ عرصہ قبل بفضلِ تعالیٰ سفرِ حرمین شریفین کے بارے میں کالموں کا سلسلہ مکمل ہوا اور اُن کو ترتیب دے کر ”دیارِ حجاز میں“ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کرانے کے مراحل بھی بڑی حد تک تمام ہوئے تو کچھ فرصت ملی تو میں نے ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“کو پڑھنا شروع کیا ۔ 288 صفحات پر مشتمل کتاب جس میں تاریخِ پاکستان کے گمشدہ گوشوں سے متعلق 33 مضامین شامل ہیں اور جسے قلم فاﺅنڈیشن انٹر نیشنل لاہور کے علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے بڑے اہتمام ، رکھ رکھاﺅ ، مضبوط جلد ، پُر کشش سَر ورق اور خوبصورت گردو پیش کے ساتھ شائع کیا ہے کو میں نے بڑی حد تک پڑھ لیا ہے۔ بلا شبہ اس میں سارے ہی مضامین بڑی دلچسپی کے حامل ہیں اور قیامِ پاکستان کے بعد تاریخِ پاکستان کے تقریباً پون صدی کے بعض اہم ترین حالات و واقعات سے متعلق ہیں تاہم کچھ مضامین میرے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہیں۔ میں ان کے بارے میں ضرور اظہارِ خیال کرنا چاہوں گا لیکن اس سے قبل کتاب میں دئیے گئے مضامین کے بارے میں بذاتِ خود مصنف ڈاکٹر فاروق عادل تمغہ امتیاز کی رائے اور صاحبِ کتاب اور کتاب کے مضامین کے بارے میں محترم عرفان صدیقی اور جناب پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود کے کتاب کے بیک ٹائٹل اور اندرونی فلیپ پر چھپے خیالات سے چند اقتباسات کا حوالہ دینا چاہوں گا جو میرے نزدیک انتہائی قابلِ قدر ہی نہیں ہیں بلکہ ان سے کتاب اور صاحبِ کتاب کا ایک بھرپور تعارف اور جائزہ بھی سامنے آتا ہے۔ 
مصنف محترم ڈاکٹر فاروق عادل ”چند باتیں“ کے عنوان سے اپنے مضامین کے بارے میں لکھتے ہیں،”کوئی ۳۳ برس ہوتے ہیں ، تحقیق کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے استادِ گرامی خلد آشیانی پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ صاحب نے فرمایا تھا کہ ایک ایک لفظ جو آپ کے قلم سے نکلے ، اُس کا ذریعہ سامنے آنا چاہیے۔ بی بی سی اور بعض دیگر پلیٹ فارموں کے لیے یہ مضامین لکھتے ہوئے اُستادِ گرامی کی یہ ہدایت ہمیشہ میرے پیشِ نظر رہی لیکن قومی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے اور ان پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک بات اور بھی سمجھ میں آئی۔ سمجھ میں یہ آیا کہ تمام تر حوالوں اور پس منظر کو سامنے رکھنے کے باوجود لکھنے والے کے لیے کبھی کبھار ایسی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند کے حق میں تھوڑی سی ڈنڈی مار لے۔ اس قسم کے مواقع یہ مضامین لکھتے ہوئے مجھے بار بار ملے لیکن پھر میں نے سوچا کہ ممکن ہے کچھ پڑھنے والے میرے بیان پر یقین کر لیں لیکن کچھ ایسے بھی تو ہوں گے جو ان معاملات کے بارے میں زیادہ بہتر معلومات رکھتے ہوں بس، اس خیال نے مجھے محتاط بنا دیا۔ اس احتیاط کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس کا فیصلہ مجھے نہیں کرنا، صرف اتنا کہنا ہے کہ تاریخ ممکن ہے کسی کے لیے معمول کا معاملہ ہو یا محض ایک مضمون ہو لیکن میرے لیے تو یہ حضرت ابوہریرہؓ کا قول ہے (حضرت ابوہریرہؓسے کسی نے دریافت کیا :۔ اے صحابی رسول یہ تو فرما دیجئے کہ تقویٰ کیا ہے ؟ آپ نے لحظہ توقف فرمایا پھر سوال کرنے والے کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا تم کبھی کانٹوں بھرے راستے سے گزرے ہو اور کیسے گزرے ہو؟ سوال کرنے والے نے جواب دیادامن سمیٹ کر ، کانٹوں سے بچ بچا کے نہایت احتیاط کے ساتھ نیز ڈرتے ڈرتے۔ آپ نے فرمایا بس یہی تقویٰ ہے۔۔۔۔ کالم نگار)جو تاریخ کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے بار بار میری راہیں روشن کرتا رہا۔ یوں میری پیشہ ورانہ سرگرمی میرے لیے پیشے سے کچھ بڑھ گئی“۔ 
مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی جو ایک نامور قلمکار، شاعر ، کالم نگار اور تجزیہ نگار ہونے کے ساتھ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اور سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ ڈاکٹر فاروق عادل اور اُن کی کتاب کے بارے میں رقم طراز ہیں ،”ڈاکٹر فاروق عادل ایک پختہ کار اور شگفتہ محقق کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“گئے دنوں کا سراغ لگانے کی نہایت عمدہ کاوش ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کا پیشہ تحقیق کبھی کند نہ ہو گا اور وہ اسی عزمِ راسخ کے ساتھ کان کنی جاری رکھیں گے۔ میری فہم کے مطابق مورخ کے ہاتھ بھلے بندھے ہوں ، تاریخ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں ڈالی جا سکتیں۔ وہ ایک گونج اور بازگشت بن کر خود کو دہراتی اور روح اثر بن کر آنے والے زمانوں کے درودیوار پر دستک دیتی رہتی ہے۔ اس کے عہد کا مورخ خاموش رہے تو بھی وہ کسی نہ کسی فاروق عادل کو ڈھونڈ ہی نکالتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب! مبارک اور شاباش“۔
پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود جو جامعہ کراچی میں ڈاکٹر فاروق عادل کے اُستاد رہے ہیں وہ کتاب اور صاحبِ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں، ”پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلوﺅں پر فاروق کی پہلی کتاب ہم نے جو بھلا دیا سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ صحافت کے ہنر کے ساتھ ایوانِ اقتدار کے مشاہدے نے تجربے کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ فاروق کی اس کتاب نے پورے ملک کو متوجہ کیا ۔ ایک کتاب کے ایک ہی ماہ میں دو ایڈیشن شائع ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اب اس کی زیرِ نظر کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے ، جس میں میرا یہ شاگردِ عزیز تحقیق کے جنگل میں اُتر کر ایسے حقائق تلاش کر لایا ہے جو حیرت انگیز بھی ہیں اور عبرت خیز بھی۔ یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنا چہرہ بھی خوشنما بنا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں