اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کی 13 فلسطینی بستیوں کو مسمار کرنے کا اعلان کر دیا

11:58 AM, 27 Jun, 2025

غزہ : مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا میں اسرائیلی فوج نے 13 فلسطینی بستیوں میں موجود تمام عمارتیں گرا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو تقریباً 1,200 افراد، جن میں 500 بچے بھی شامل ہیں، بے گھر ہو جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، 13 سے 23 جون کے دوران اسرائیلی فوج نے 240 فلسطینی گھروں پر قبضہ کیا اور انہیں فوجی اڈے یا تفتیشی مراکز میں تبدیل کر دیا، جبکہ گھروں کے مکینوں کو زبردستی نکالا یا گرفتار کیا گیا۔

مزید یہ کہ طولکرم اور نور شمس مہاجر کیمپ میں اس مہینے تقریباً 100 عمارتیں مسمار کر دی گئیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی 320 فلسطینیوں کو گھروں سے نکالے جانے اور مسماری کے خطرات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کی، جس کے تحت مقبوضہ علاقوں میں جبری بے دخلی ممنوع ہے۔

دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ مغربی کنارے کے گاؤں کفر مالک میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک جنازے کے دوران حملہ کیا، جس کا مقابلہ فلسطینی نوجوانوں نے بہادری سے کیا۔ وہاں دو مختلف واقعات میں چار افراد جان سے گئے، جن میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

قطری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 70 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل ہیں جو خوراک کے لیے امدادی مرکز کے باہر جمع تھے۔

مزیدخبریں