حضرت عبداللہ بن مسعود ؓکی روایت ہے کہ ’’ہم بیت اللہ کے گرد نماز نہ پڑھ سکتے تھے جب تک عمر اسلام نہ لے آئے‘‘۔ چشم فلک تاقیامت یہ منظر پھر نہ دیکھ سکے گی کہ قیصر و کسریٰ کی سپر پاورز کا خاتمہ کرنے والا بائیس لاکھ مربع میل کا بلند قامت شخصیت والا حکمران پیوند لگے کپڑے پہن کر درخت کے سائے میں پتھر کو تکیہ بنا کر اطمینان سے سو جاتا تھا۔ قاتل کا خنجر سینہ عمرؓ میں نہیں، قلب کائنات میں پیوست ہو گیا، یکم محرم کو آفتاب عالم خاک میں چھپ گیا۔ آپؓ کا طرز حکمرانی آج بھی پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔ دینی حوالے سے کس قدر اعلیٰ و ارفع درجے پر فائز تھے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ازواج مطہرات کے پردے، اسیران بدر، مقام ابراہیم پر نماز، حرمت ِشراب، کسی کے گھر میں داخلے سے پہلے اجازت سے متعلق احکامات پر سیدنا عمرؓ کی رائے، مشورے اور سوچ کے موافق قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں۔ علما و فقہا کے مطابق تقریباً 27 آیات ایسی ہیں جو براہ راست فاروق اعظم کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔ حضرت عمرؓ نے قبول اسلام کے بعد عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہؓ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’بے شک ہم حق پر ہیں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے دوبارہ عرض کیا ’’یا رسول اللہؓ! جب ہم حق پر ہیں تو اپنا دین کیوں چھپائیں‘‘۔ جناب رسالت مآبؐ نے فرمایا ’’اے عمر! اس وقت ہماری تعداد کم ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا ’’اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں کوئی ایسی مجلس نہ چھوڑوں گا جہاں میں پہلے کفر کے ساتھ بیٹھا تھا اور اب اسلام کے ساتھ نہ بیٹھوں گا‘‘۔ پھر ایسا ہوا کہ چالیس صحابہؓ کا قافلہ عمرؓ کی قیادت میں بیت اللہ شریف میں پہنچا اور وہاں سب نے علانیہ نماز ادا کی۔ حضرت عمرؓ نے قریش کے مجمع میں اعلان کیا ’’میں مسلمان ہو گیا ہوں اور اپنے ہادی و رہنما اور دینی بھائیوں کے ساتھ یہاں نماز پڑھنے آیا ہوں اور آئندہ بھی ہم یہاں نماز پڑھیں گے۔ جسے اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ کرنا پسند ہو وہ مقابلے پر آ جائے‘‘۔ قریش کو اس سے شدید دھچکا لگا۔ ظہور اسلام کے چھ سال بعد مسلمانوں نے پہلی بار حرم شریف میں آزادانہ نماز ادا کی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی ایک اور روایت ہے ’’عمرؓ کے مسلمان ہونے کے بعد ہم برابر زور آور ہی ہوتے گئے‘‘۔ فاروق اعظمؓ کا ساڑھے دس سالہ دور خلافت اگرچہ دنیا کی ہزارہا سالہ تاریخ میں بظاہر ایک بہت ہی مختصر سی مدت ہے لیکن اس تاریخ میں کشور کشائی، سیاست، حکومت، جمہوریت، اخوت، مساوات، آزادی، عدل اور فلاح انسانی کا یہ درخشاں ترین باب ہے۔ قوموں اور ملکوں کے لیے روشنی کا منبع اور ایک بہترین آئیڈیل۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اسے ناقابل یقین حد تک حیرت انگیز خیال کرتے ہیں۔ حرکت و عمل، نیکی و سعادت سے بھرپور ایک ایسا سنہری دور تھا جس کا سو فیصد اعادہ خود اسلام کی تاریخ میں بھی نہ ہو سکا۔ اصل بات یہ ہے کہ جس طرح حضرت محمدؐ کی بعثت دعائے خلیل اور نوید مسیحا کا نتیجہ تھی، اسی طرح عمر ابن الخطابؓ کا فاروق اعظمؓ بن کر تاریخ کے سٹیج پر نمودار ہونا دعا و نگاہ محمدیؐ کا فیضان تھا۔ رحمت اللعالمینؐ نے اپنے مبعوث کرنے والے سے دعا کی تھی ’’یا اللہ! عمر بن ہشام یا عمر بن الخطاب میں سے کسی ایک سے اسلام کو تقویت بخش‘‘۔ حضرت عمرؓ ہر لحاظ سے ایک بلند و بالا اور باوقار شخصیت تھے۔ انہوں نے مدینہ کی چند سو کنبوں پر مشتمل چھوٹی سی شہری ریاست کو دس سال کے اندر دنیا کی سب سے بڑی اور مثالی سلطنت بنا دیا۔ جس میں سب کے حقوق مساوی تھے۔ جب کوئی منصف مزاج شخص خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا ملک سے ہو، حضرت عمرؓ کی زندگی، سیرت اور کارناموں کا مطالعہ کرتا ہے تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ یہ ہے وہ مثالی شخصیت جس کی راہ اقوام عالم حسرت سے تکتی رہتی ہیں! ایک مغربی مصنف نے لکھا ہے کہ عمرؓ سراپا انسانیت تھے۔ سر سے پاؤں تک قرآن کے سانچے میں ڈھلے ہوئے انسان۔ جناب رسالت مآبؐ فاروق اعظمؓ کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔ اپنے تمام مشوروں میں شامل کرتے اور ان کی رائے کو وقعت دیتے تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے فرمایا ’’جبرائیل اور میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ میرے دو زمینی وزیر ہیں‘‘۔ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ حضرت قدامہ بن مظعونؓ نے حضرت عثمان بن مظعونؓ سے روایت کی ہے کہ حضورؐ نے عمرؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جب تک یہ شخص تمہارے درمیان موجود ہے تب تک فتنوں کا دروازہ بند رہے گا‘‘۔ حضرت عمرؓ کی زندگی دین و دنیا کا روشن ترین باب ہے تو آپؓ کی شہادت بھی اس کائنات کا المناک ترین باب ثابت ہوئی۔ ایک مصنف نے حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں سو فیصد درست لکھا ہے کہ تاریخ عالم کا یہ المیہ اس قدر حیرت انگیز، زہر گداز، جگر سوز اور دور رس نتائج کا حامل کہ اس پر آسمان کی آنکھ جس قدر خون کے آنسو بہائے کم ہے۔ اس حادثہ کبریٰ کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ انسانیت کی حرماں نصیبیوں اور سوختہ بختیوں کی الم انگیز داستان کے سوا کچھ نہیں، اگر اس پیامبر انقلاب کو دس سال بھی اور مل جاتے تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا، ابن آدم نے اس فردوس گم گشتہ کو مدت ہوئی پا لیا ہوتا جس کی تلاش میں وہ اس طرح مارا مارا پھر رہا ہے، ستاروں کی آنکھ محو حیرت ہے کہ بعض حوادث کس طرح تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ اور یہ حادثہ تھا کیا؟ بجلی کی چمک، کوندے کی لپک جس کا کسی کو سان گمان تک نہ تھا لیکن جس نے عالم انسانیت کی متاع حیات کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا۔ وہ حادثہ جسے تاریخ نے چار لفظوں میں سمٹا کر رکھ دیا ہے اور نہیں سمجھی اس اجمال میں زمانے کی کتنی گردشیں مستور ہو کر رہ گئی ہیں، فاروق اعظمؓ انتظامی اور عسکری مہارت کے حوالے سے بھی جینئس تھے، آپؓ کے ساڑھے دس سالہ دور خلافت میں ہزار سال پرانی ایران کی ساسانی سلطنت ختم ہو گئی، عراق، آذربائیجان، سیستان، خراسان، مکران، آرمینیا، شام، فلسطین، مصر، اردن، طرابلس تک مملکت اسلامیہ کا حصہ بن گئے، ایک یورپی مورخ نے لکھا چند سال اور زندہ رہ جاتے تو دو تہائی کرہ ارض پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی، مولانا شبلی نعمانی اپنی شہرہ آفاق تصنیف الفاروق میں لکھتے ہیں خدا کی قدرت یہ کیا بعید ہے کہ تمام عالم ایک فرد میں سما جائے حضرت تک عمرؓ کے حالات اور مختلف حیثیتوں پر نظر ڈالیں تو صاف نظر آئے گا وہ سکندر بھی تھے، ارسطو بھی، مسیح بھی، سلیمان بھی اور نوشیرواں بھی، امام ابو حنیفہ بھی اور ابراہیم ادہم بھی، سکندر ہر موقع پر ارسطو سے ہدایات لیتا، اکبر کے پردے میں ابو الفضل اور ٹوڈرمل کام کرتے تھے، عباسیہ کی عظمت اور شان برامکہ کے دم سے تھی، لیکن حضرت عمرؓ کو صرف اپنے دست و بازو کا بل تھا، حضرت خالد بن ولیدؓ کی عقل کو حیران کر دینے والی جنگی معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر کچھ لوگوں کو خیال پیدا ہوا کہ فتح اور ظفر کی کلید انہی کے ہاتھ ہے، لیکن جب حضرت عمرؓ نے انہیں معزول کر دیا تو کسی کو احساس تک نہ ہوا کہ کل میں سے کون سا پرزہ نکل گیا ہے، فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی نسبت بھی لوگوں کو ایسا ہی وہم ہو چلا تھا، وہ بھی الگ کر دئیے گئے اور کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگی، تمام دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی حکمران دکھا سکتے ہو، جس کی قمیض پر دس دس پیوند لگے ہوں اور وہ فرش خاک پر پڑا رہتا ہو، اور پھر رعب و دبدبہ ہو ایسا کہ عرب عجم اس کے نام سے لرزتے ہوں۔
مرادِ رسولِ کریم سیدنا عمر فاروق اعظمؓ
09:28 AM, 27 Jun, 2025