تاریخ گواہ ہے کہ جیور دانو برونو نے زندہ جلایا جانا قبول کیا لیکن کاپر نیکس کے نظریے کی حمایت نہ چھوڑی،کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ ہیپو کریٹ نے روشن خیالی سے توبہ نہ کی، قتل کیے جانا قبول کر لیا، جان ہس نے کلیسا میں اصلاحات کا مطالبہ نہیں چھوڑا، انھیں زندہ جلا دیا گیا۔ اسی طرح تھامس مور، ایسٹا ونس اور نہ جانے کتنے ہی لوگ جان سے گزر گئے لیکن اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ گلیلیو عدالت کے روبرو بھی زیرِ لب کہنے سے باز نہ رہ سکا کہ " زمین گھومتی تو ہے"۔ اس نے نظر بند کیے جانے کے بعد بھی اپنے شاہکار "دو سائنسوں کے درمیان مکالمہ" پر بھرپور کام کیا۔ ہمیں کیا کہنا چاہیے ؟ جو لوگ معرفت رکھتے تھے اس سے مکر جانا آسان نہیں تھا، شاید موت آسان تھی۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جدید دور کے مادی طور پر ترقی یافتہ انسان کے نزدیک یہ کوئی دانشمندی نہیں ہوگی۔ میں سوچتا ہوں یہ لوگ اگر اپنے مؤقف سے مکر جاتے یا توبہ تائب ہو جاتے تو انسانی شعور اپنے ارتقا میں کہیں ٹھہر گیا ہوتا۔ چلیے میں اس سب زیادہ اہم سوال کرتا ہوں۔ اگر سقراط معذرت کر لیتا یا زہر پینے سے انکار کر دیتا تو؟ یا پھر اگر امام حسینؓ کمپرومائز کر لیتے؟؟ تو آج کا انسانی معاشرہ علم و عقل کی کس سطح اور اخلاق کے کن معیارات پر کھڑا ہوتا؟؟؟ اور ایسا کتنے ہزار سال جینے کے لیے کیا جاتا؟؟؟ ۔
چلیے ہم ٹرمپ یا نتن یاہو جیسے ہر فاشسٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ایک ہزار سال تک زندہ رہیے یا اپنی حکومتوں کو عروجِ دوام عطا کیجیے۔ ہم آپ کی بنائی گئی اخلاقیات کے ساتھ دنیا کو چلانے کے حق میں ووٹ دے دیں گے۔ آپ دنیا میں فاشسٹ کلچر کو فروغ دیجیے۔ ہر ملک، پر معاشرے کے لوگوں کے لیے فیشن بنا دیجئے کہ طاقتور کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ وہ داخلی طور پر اتنا کمزور ہوتا ہے کہ مکر وفریب اور دھوکہ دہی سے اپنے دیمک زدہ وجود کے تحفظ میں لگا رہتا ہے۔ کیا جدید انسان کا تعارف یہ ہے؟ اور کیا جدید دنیا ہمیشہ سے زیادہ نا قابلِ بھروسہ ہو چکی ہے؟ اور دنیا کے فاشسٹ عالمی سطح پر انسان اور انسانیت کے تصور کو مسلسل مسخ کرنے کی کوشش کر کے۔ دوستو یہ سانحہ ہے کہ انسانی تہذیب کے ہزاروں سالہ ارتقا کے بعد بھی دنیا کے اہم فیصلے ایسے مسخرے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کا کوئی کردار نہیں۔ جو خود انسانوں کے کسی گروہ کے لیے بھی قابلِ بھروسہ نہیں ہیں۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ ہم تاریخ کے ٹھکرائے ہوئے کرداروں سے پھر نبرد آزما ہیں۔ ماضی کے اگال دان میں تھوکے ہوئے کردار پھر سے اپنی قبیح حرکتوں سے ہمیں الجھائے رکھتے ہیں۔ میرے خیال سے عزت اور وقار کے معیارات ایک بار پھر ہمیں ہی طے کرنا ہوں گے۔ ایک بار پھر مطعون کرداروں کو دھتکار کر انسانیت کو صحیح ڈگر پر چلانا ہماری ہی ذمہ داری ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عظیم معاشرے اپنے اقدار پر قائم رہتے ہیں اور عظیم تہذیبیں انسانیت کے لیے مستحکم روایات چھوڑتی ہیں۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ تاریخ کے روندے ہوئے سماجوں اور تاریخ کی تھوکی ہوئی تہذیب پر گزارا کرتے ہیں یا اس سب سے الگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
فی الوقت عالمی حالات کا نقشہ یہ بتاتا ہے کہ ایران پوری دنیا کے نشانے پر ہے۔ زمین کی سبھی استعماری اور استبدادی قوتوں نے اسے اپنے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور اس کے مزاحمتی اور میقاومتی فلسفے کو طاغوتی قوتوں کے ساتھ ساتھ ملوکیت پرور معاشروں نے بھی اپنے لیے خطرہ تصور کیا۔ الیکشن کمپینز میں کروڑوں ڈالر جھونکنے والوں نے اپنے ایجنڈے میں استعماریت کو غرض و غایت بنا کر پیش کیا۔ مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کی مدد سے لوگوں کو گمراہ کن نظریات سے آلودہ کیا گیا۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ۔
ہم ایران کی مزاحمت اور اس کے قیام کو ضرور سراہنا چاہتے ہیں جس نے جدید دنیا میں ایک مثال قائم کر دی۔ ہر ذی روح کم از کم مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت کی تھیوری کو ضرور سراہتا ہے۔ ہم مغربی دنیا کی کامیابی و کامرانی کے معیارات کو بھی شک کی نگاہ سے ضرور دیکھتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ اب مغربی اقوام کو ہر طرح کے تعصب سے نکل کر اس حقیقت کو قبول کرنا ہو گا کہ یہ دنیا اب نیتن یاہو جیسے بدمعاشوں اور ٹرمپ جیسے مسخروں کے لیے سازگار نہیں رہی ہے۔ ہم صیہونیوں کی اساطیری کہانیوں کے سہارے اس دنیا کے نقشے ترتیب نہیں دے سکتے اور نہ ہی پوری انسانیت کو اخلاقیات سے تہی دنیا کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔اگر آپ نے اوباشوں اور مسخروں کی تقلید جاری رکھی تو یہ دنیا انسانوں کے لیے بے حد ناقابل اعتبار ہوتی چلی جائے گی۔ ساتھ ہی آپ یہ بھی جان لیجیے کہ آپ کے معاشی نظام نے پہلے ہی اس زمین پر بسنے والے اربوں لوگوں میں احساس محرومی تقسیم کیا ہے اور آپ کو تعیش کا مریض بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مشرق وسطی کو بیرکوں کی شطرنج بنانے سے انسانیت ترقی نہیں کر سکتی۔ اب آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آپ کے کھلونوں سے بھی انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ورنہ یہ کام آپ کے لیے نہایت آسان تھا۔ یعنی کھربوں ہانپتے ہوئے سینوں سے سانسیں چھین کر اور کھلونے بناؤ اور اس زمین کو انسانوں کے لیے ناقابل رہائش بنا کر چھوڑ دو۔ یقین کیجیے آپ صرف فلسطین سے بے نیاز رہ کر بھی اس دنیا کو بہتر نہیں کر سکتے۔ یارو کچھ اور نہیں تو کم از کم ہمیں مد مقابل تو کچھ سنجیدہ اور صاحب کردار لوگ دو۔
مغربی دوستوں کے نام … ٹرمپ یاہو نامی مذاق پر
09:25 AM, 27 Jun, 2025