دور جدید کا یزید اور خواہش بیعت

09:25 AM, 27 Jun, 2025

تل ابیب منہ کے بل زمین پر گرا ہے، وہ زخموں سے چور ہے، کراہ رہا ہے، زخم تو تہران کے جسم پر بھی لگے ہیں لیکن وہ ہمت و حوصلے سے اپنے پورے قد سے کھڑا ہے، میدان جنگ میں فتح پانے کے بعد غازی کی یہی شان ہوتی ہے جو ہمیں ایران میں نظر آتی ہے۔
دوسری جنگ عظیم کا فاتح اور اس کے اتحادی جس طرح رسوا ہوئے ہیں وہ تاریخ میں اہم باب کی حیثیت سے یاد رہے گا۔ تیسری جنگ عظیم تیرہ روز بھی جاری نہ رہ سکی، اسے بارہویں روز ختم کرنا پڑا، جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں پر واضح ہو چکا تھا کہ ایران اپنے میزائل ذخیرے کے زور پر ایک طویل عرصہ تک کامیاب دفاع کر سکتا ہے جبکہ جارح کی طاقت دنوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ کہنے کو تو اسرائیل کا پہلا حملہ کامیاب تھا لیکن اسی حملے سے اس کی پہلی شکست سامنے آئی اسرائیلی اور امریکی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ سول اور ملٹری ایرانی قیادت کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے بعد وہ پہلی بمباری کرنے کے بعد ابھی گھر نہ پہنچیں ہونگے کہ ایرانی قوم اپنی قیادت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے گی۔ اس کے خلاف ملک گیر مظاہرے اور مزاحمت شروع ہو جائیں گے جس کے بعد اب تک نقابوں میں چھپے آخری وار کیلئے میدان میں اتریں گے۔ حکومت کا تختہ الٹ جائے گا اور سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا رضا شاہ تہران کے ایئرپورٹ پر اترے گا تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کے استقبال کے لیے موجود ہو گا۔ وہ کشاں کشاں ایوان اقتدار میں پہنچے گا، عوام کو پُرامن رہنے کی اپیل کرے گا، ہتھیار ڈالنے والوں کیلئے عام معافی کا اعلان کرے گا اور اپنی گرفت مضبوط ہونے کے بعد وسیع پیمانے پر خامنائی حکومت کے اہم کرداروں کو گرفتار کر کے انہیں پھانسیاں دینا شروع کرے گا، منصوبہ سازوں کو اپنی کامیابی کا اس قدر یقین تھا کہ رضا شاہ برات کا سوٹ سلوا چکے تھے، باراتیوں کیلئے جدید ترین جہاز بک ہو چکا تھا، ان کے قوم سے خطاب کا مسودہ تیار کیا جا چکا تھا وہ اس کی ریہرسل میں مصروف تھے۔ عالمی پریس کے نمائندے واشنگٹن پہنچ چکے تھے، رضا شاہ کے جہاز میں سوار ہونے سے لے کر تہران لینڈ کرنے اور ان کے قوم سے خطاب تک تمام مناظر براہ راست دکھانے کے انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے لیکن الٹی ہو گئی سب تدبیریں، ایران نے چوبیس گھنٹے سے بھی کم عرصہ میں پلٹ وار کیا اور فقط تین روز میں اسرائیل کے چھ بڑے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یوں رضا شاہ کی لائیو کوریج کرنے والے عالمی میڈیا نے ایرانی کامیابیوں اور امریکی و اسرائیلی ناکامیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا جس پر بوکھلا کر اسرائیل نے ہر قسم کی میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی۔ دوسری طرف ایران نے میڈیا پر کوئی پابندی نہ لگائی۔ میڈیا ہر طرح کی کوریج کیلئے آزاد تھا۔ ایران سچ بولتا رہا، اسے جہاں جہاں نقصان ہوا اس نے پردہ نہ ڈالا بلکہ اسے تسلیم کیا۔
ایرانی قیادت فوج اور عوام نے جس طرح ہمت و جرأت اور استقامت سے درجن بھر سے زائد ملکوں کا مقابلہ کیا، وہ دنیا کبھی نہ بھلا سکے گی۔ اسرائیل لاکھ کہے اس کا بہت کم جانی نقصان ہوا ہے لیکن عالمی میڈیا دکھا رہا ہے کہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور بہت بڑے صنعتی شہر اور مصروف ترین بندرگاہ حیفہ میں نصف سے زیادہ عمارتیں اہم مراکز دفاعی تنصیبات اور تجارتی مرکز تباہ ہو چکے ہیں۔ یہی حال اس کے دیگر چار شہروں کا ہے۔ مجموعی طور پر چھ شہروں میں اڑھائی سو کثیر المنزلہ عمارتیں کھنڈر بن چکی ہیں۔ ان کا ملبہ اٹھایا جائیگا تو اندازہ ہو گا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، اسرائیل کی فوج کا جانی نقصان اس کے علاوہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بند ہونے سے دو روز قبل اپنے ہنگامی پروگرام کے تحت سات ہزار افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا پروگرام شروع کر دیا تھا جس کے لیے لوگ دستیاب نہ تھے۔ کوئی شخص فوج میں جانے کے لیے تیار نہ تھا لہٰذا سرکاری ملازمین کو بھرتی کرنے کا فیصلہ ہوا، ان میں ٹیچرز، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والے، دفتری امور انجام دینے والے اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین شامل تھے۔ ایسی بھرتی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب بے پناہ جانی نقصان ہو چکا ہو۔ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی ملک چھوڑنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتی نظر آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل قیادت کا جھوٹ اس وقت سامنے آیا جب امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کی اس جنگ سے متعلق رپورٹ لیک ہو گئی جس میں بتایا گیا ایران کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جا سکا جس کا بعد ازاں اعتراف امریکی صدر نے نیٹو اجلاس میں بذات خود کیا اور دنیا کو بتایا کہ آخری تین روز میں بالخصوص ایران نے اسرائیل کو بُری طرح رگیدا۔ ان کے اس بیان پر اسرائیل، یورپ اور بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا ایران بہت بہادری سے لڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل سے ناامید ہوئے کہ وہ ان کی سپورٹ کے باوجود کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکا بلکہ آخری ایام میں رونے پر اتر آیا، ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کرنے والا رحم اور جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر اتر آیا جس کا ٹرمپ کو بہت افسوس ہے جس پر اس نے اسرائیل وزیراعظم کی مرحوم علامہ رضوی صاحب کے سٹائل میں خوب بے عزتی کی۔ انہوں نے گالیاں دیں جن کا ترجمہ یہی بنتا ہے، تیری ماں دی تے تیری پین دی وغیرہ وغیرہ۔
عالمی میڈیا بشمول بھارتی متعصب، میڈیا حیرت انگیز طور پر ایرانی کامیابیوں کو جگہ دینے کے ساتھ ساتھ امریکی اور اسرائیلی ناکامیوں کا ہر روز پول کھولتا رہا۔ امریکہ کے صدر نے بھی ایک اعتبار سے اپنی شکست کا اعتراف کر لیا وہ رجیم چینج کے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اب کہتے ہیں یہ فیصلہ ایرانی عوام کا حق ہے وہ کسے چاہتے ہیں، اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد میں نے لکھا کہ جو ملک ایٹم بم چلانے کا حوصلہ نہیں رکھتے وہ اپنا ایٹم بم ایران کے دے دیں وہ چلانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ یہ ایک گلی کی بات تھی مگر گل گل گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ روس پہنچے تو روس کا اعلان سامنے آ گیا، کوئی بھی ملک ایران کو اپنا ایٹم بم ایران کو دے سکتا ہے اور اس اعلان کے بعد جنگ بند کرانے کے لیے امریکہ یورپ اور اسرائیل دوڑتے نظر آئے۔ دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم چلا کر جنگ جیتنے والا، ایٹم بم آتا دیکھ کر حواس کھو بیٹھا۔ دور جدید کا یزید ایران سے بیعت لینے نکلا تھا، دنیا میں خوب رسوا ہوا۔

مزیدخبریں