برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے مرحومین کے بارے میں لکھے کالموں کے مجموعے ”جو بچھڑ گئے“ میں ایک کالم مشہور ادبی شخصیت اور صوفی دانشور اشفاق احمد کے بارے میں بھی ہے جو اُن کی وفات پر لکھا گیا اور 9 ستمبر 2004ءکے روزنامہ ”نوائے وقت“ میں چھپا۔ اس میں عرفان صاحب نے محترم اشفاق احمد کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے جہاں اُن کی اشفاق احمد سے گہری عقیدت کا اظہار ہوتا ہے وہاں اشفاق صاحب کی علم و ادب، تصنیف و تالیف میں بلند پایہ خدمات اور دانشورانہ حیثیت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ عرفان صاحب اشفاق صاحب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں ”وہ عجیب شخص تھا۔ افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، شاعر، سکرپٹ رائٹر، دانشور، حکیم، فلسفی، صوفی، داستان گو، سفر نامہ نگار لیکن اس کی یہ ساری حیثیتیں رنگ و بو کے مرقعے کی طرح اُس کی شخصیت کا حصہ بن گئی تھی۔ بہت کچھ لکھنے اور بولنے کے باوجود اُس کی ذات میں عجب طرح کی پُر اسراریت تھی اور یہی اسرار اُس کی شخصیت کا اعجاز تھا۔“ آگے چل کر وہ اشفاق صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں، ”اشفاق احمد کے بارے میں ”مکتبِ فکر“ کا لفظ تو بہت ہی چھوٹا لگتا ہے، اس کوہ قامت شخص کے سامنے ”دبستان“ کا لفظ بھی بونا دکھائی دیتا ہے۔ اسے ایک ”عہد“ کہتے ہوئے بھی تشنگی نہیں بجھتی۔ وہ تو ایک ”زمانہ “ تھا، صدیوں پر محیط زمانہ
ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے، نہ رات
اشفاق پاکستانیت میں گندھے گداز کا نام تھا۔ وہ اپنی تہذیب اور ثقافت کے رنگوں سے سجا ایسا حجرہ تھا جس کے منقش درو دیوار کی ہر ہر بیل، ہر ہر بوٹے میں اپنے پن کی پچی کاری دکھائی دیتی تھی۔ اُس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو خدا ماننے والے دانش گروں کا جی بھر کر مضحکہ اُڑایا۔ اُس نے مغرب کے طلسم کا شکار، بیمار ذہنوں کے مقابلے میں توانا قومی خودی کو اس انداز سے پیش کیا کہ بے سمت اور بے مہار ”ترقی“ تہمت بن کر رہ گئی۔ اشفاق احمد نے اپنی تہذیب ، اپنی ثقافت، اپنی بو باس، اپنی لوک دانش اور اپنے پُرکھوں کی میراث کو اس عمدگی سے اپنی تخلیقی صلاحتیوں میں سمویا کہ اُن کا اسلوب ایک منفرد حیثیت اختیار کر گیا۔ ایسا اسلوب جس میں اپنے پہاڑوں کی گونج، اپنے چشموں کا ترنم ، اپنی فصلوں کی لہلہاٹ اور اپنی بہاروں کا نکھار رچا بسا ہے۔ اس کا قاری اُس کے اسلوب کی جادو نگری سے نکلنے کے سارے راستے بھول جاتا ہے۔ اشفاق قدامتوں کے غاروں میں بیٹھا جدت پسند تھا۔ ”تلقین شاہ“ اُس کی انفرادیت کا نمونہ تھا۔ یہ ریڈیائی پروگرام بیالیس سال تک گھروں، گلیوں، مجلسوں اور چوپالوں کا موضوع بنا رہا۔ خود اپنی ذات پر تیر برسانے والا تلقین شاید آنے والے کئی سال میں بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔“
اشفاق احمد کے جانے کے بعد بھرا پڑا پاکستان خالی سا دکھائی دینے لگا ہے
جس طرح دیہات کے سٹیشنوں پر دن ڈھلے
اِک سکوتِ مضمحل گاڑی گزر جانے کے بعد
عرفان صاحب نے اشفاق احمد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات، احساسات اور تاثرات کو ایسے موتیوں کی صورت میں پرویا ہے کہ ایک خوبصورت مالا بن گئی ہے۔ تاہم اشفاق صاحب کے بارے میں کچھ مزید باتوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ وہ چوٹی کے افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور سفر نامہ نگار تھے۔ ”گڈریا“ اُن کا لکھا ہوا پہلا ڈرامہ ہے جو 1953ءمیں چھپا اور اُس نے دھوم مچا دی۔ ”ایک محبت سو افسانے“، اُن کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ستر کی دہائی میں اُسے ڈرامائی شکل دے کر پی ٹی وی سے 12 ڈراموں کی ایک سیریز کی صورت میں پیش کیا گیا تو دیکھنے والوں کی زبان پر اسی کا ذکر چلتا رہتا تھا۔ پی ٹی وی کا آغاز لاہور سے ہوا تو اشفاق صاحب نے ”اُچے بُرج لاہور دے“ پروگرام پیش کرنا شروع کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اسی کی دہائی میں انہوں نے پی ٹی وی سے ڈرامہ سیریز ”توتا کہانی“ اور سیریل ”من چلے کا سودا“ پیش کیے گئے۔ یہ اشفاق احمد کے لکھے ہوئے ڈرامے تھے جن کو بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
اشفاق صاحب کے پی ٹی وی سے اور بھی کئی ڈرامے نشر ہوئے۔ ”ایک محبت سو ڈرامے“، ”حیرت کدہ“، ”ننگے پاو¿ں“ اور اسی طرح کے دوسرے ڈراموں کو بہت شہرت ملی۔ اشفاق احمد ادبی رسالہ ”داستان گو“ بھی نکالتے رہے اور ”لیل و نہار“ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ آخری عمر میں پی ٹی وی سے اُن کی ”زاویہ“ کے عنوان سے گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس سلسلے کو بھی بے پناہ مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی۔ یہ گفتگو جو اپنی دل آویزی، اثر پذیری اور حسنِ کلام کے لحاظ سے بے مثال ہوتی تھی تو اس کے ساتھ اس میں خوبصورت خیالات، مثبت سوچ، نیکی، بھلائی اور اچھائیوں کا عکس بھی جھلک رہا ہوتا تھا۔ اشفاق صاحب اس کے آخر میں یہ جملہ ”اللہ کریم ہمیں آسانیاں دے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے“ بولنا نہیں بھولتے تھے۔
بانو قدسیہ (بانو آپا) کے ذکر کے بغیر اشفاق احمد کا ذکر مکمل نہیں ہو سکتا۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اُردو کی کلاس میں اشفاق احمد کی ہم جماعت تھیں۔ بعد میں اُن کی اشفاق صاحب سے شادی ہو گئی اور ایسی مثالی رفیقہ حیات ثابت ہوئیں کہ جس کی مثال ڈھونڈے سے نہ ملے۔ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق اور بلند پایہ شخصیت کی بنا پر ہی مشہور نہ ہوئیں بلکہ افسانہ نگار، ناول نویس اور ڈرامہ نگار کے طور پر بھی اُن کوبلند مقام حاصل ہوا۔ اُن کے ناول ”راجہ گدھ“ کو بہت شہرت اور پذیرائی ملی اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔
اشفاق احمد کی یاد میں ۔۔۔!
08:03 AM, 28 Jul, 2026