نسلوں کی تعمیر کا نبوی منشور 

08:03 AM, 28 Jul, 2026


انسانی تہذیب کی بنیاد عمارتوں، معیشتوں یا سیاسی نظاموں پر نہیں بلکہ خاندانوں پر قائم ہوتی ہے۔ خاندان وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان محبت، احترام، قربانی، برداشت، ذمہ داری اور اخلاق کا سبق سیکھتا ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہوں تو معاشرے مضبوط ہوتے ہیں، اور اگر خاندان اندر سے کمزور ہو جائیں تو ترقی کے بلند دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خاندانی نظام کو غیر معمولی اہمیت دی اور نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر کا ذریعہ قرار دیا۔ رسول اللہ کا ارشادِ مبارک ہے: ”اپنی نسل کے لیے بہترین انتخاب کرو، اپنے ہم پلہ لوگوں سے نکاح کرو اور اپنی بیٹیوں کا نکاح بھی ان کے مناسب لوگوں سے کرو“۔ یہ مختصر مگر جامع فرمان دراصل ایک مکمل خاندانی فلسفہ پیش کرتا ہے۔ اس میں آنے والی نسلوں کے اخلاق، کردار، ذہنی تربیت اور معاشرتی استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ اسلام نکاح کو صرف دو افراد کے وقتی تعلق کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک ایسی بنیاد سمجھتا ہے جس پر خاندان، معاشرہ اور تہذیب کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اس حدیث میں سب سے اہم لفظ تخیر ہے، جس کا مطلب ہے سوچ سمجھ کر، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ انتخاب کرنا۔ آج کے دور میں اکثر نکاح کے فیصلے ظاہری کشش، مالی حیثیت، سماجی نمود و نمائش یا وقتی جذبات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، لیکن رسول اللہ نے صدیوں پہلے یہ اصول دے دیا کہ زندگی کے اس اہم ترین فیصلے میں جلد بازی، ظاہری چمک دمک اور وقتی پسند کو معیار نہیں بنانا چاہیے بلکہ کردار، اخلاق، دین داری، مزاج اور خاندانی تربیت کو ترجیح دینی چاہیے۔ اسی طرح حدیث میں لفظ الاکفا استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہم پلہ یا مناسب ہے۔ تاریخِ اسلام میں فقہا نے کفات کے تصور کو مختلف پہلوو¿ں سے بیان کیا ہے۔ اس کا مقصد کسی طبقاتی یا نسلی برتری کو قائم کرنا نہیں بلکہ ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ دین، اخلاق، سوچ، مزاج، خاندانی ماحول اور زندگی کے بنیادی مقاصد میں مناسبت ہو تو رشتہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات کفات کے تصور کو محدود کر کے صرف 
برادری، ذات یا معاشی حیثیت تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اسلام نسلی تفاخر کی اجازت دیتا ہے اور نہ دولت کو انسان کی اصل قدر قرار دیتا ہے۔ رسول اللہ نے واضح فرمایا: جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل معیار کردار اور اخلاق ہیں۔ نسب، دولت اور سماجی مقام اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر وہ انسان کی اصل عظمت کا پیمانہ نہیں۔ آج پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں خاندانی نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ طلاق اور خلع کی بڑھتی ہوئی شرح، گھریلو تنازعات، عدم برداشت، میاں بیوی کے درمیان فاصلے اور والدین و اولاد کے رشتوں میں کم ہوتی ہوئی مضبوطی اس بحران کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان مسائل کی وجوہات متعدد ہیں۔ معاشی دباو¿، غیر حقیقی توقعات، سوشل میڈیا کے اثرات، برداشت کی کمی، انا کی جنگ، ذمہ داریوں سے فرار اور ازدواجی زندگی کے بارے میں سطحی سوچ ان میں نمایاں ہیں۔ لیکن ان تمام عوامل کے پس منظر میں ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے نکاح کے انتخاب میں نبوی اصولوں سے دوری اختیار کر لی ہے۔ اکثر خاندان رشتے طے کرتے وقت کردار اور مزاج کے بجائے دولت، عہدے، ظاہری خوبصورتی یا سماجی حیثیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بعض اوقات صرف اس لیے رشتہ قبول کر لیا جاتا ہے کہ خاندان بڑا ہے، کاروبار وسیع ہے یا معاشرہ اسے عزت دیتا ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ دو انسانوں کی سوچ، مزاج اور اقدار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، جس کا نتیجہ مسلسل کشمکش اور بے سکونی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کے دور میں خاندان ایک دوسرے کو قریب سے جانتے تھے۔ رشتے صرف معلومات یا رسمی ملاقاتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، خاندان کی روایات اور مزاج کو دیکھ کر کیے جاتے تھے۔ آج جدید زندگی کی مصروفیات نے اس تعلق کو کمزور کر دیا ہے۔ کئی فیصلے محدود معلومات اور ظاہری معیاروں کی بنیاد پر ہونے لگے ہیں، جس سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور اہم پہلو ہماری بدلتی ہوئی خاندانی ترجیحات ہیں۔ بعض والدین اپنی پوری زندگی، اپنی جمع پونجی اور اپنی تمام تر توانائیاں بیٹوں کی تعلیم، ترقی اور کامیابی پر صرف کر دیتے ہیں۔ مگر شادی کے بعد بعض اوقات وہی بیٹے اپنی نئی ذمہ داریوں میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ والدین تنہائی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف بعض نئی نسلیں بھی یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ شادی کے بعد صرف میاں بیوی کا تعلق اہم ہے اور والدین کے حقوق ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ والدین کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ شریکِ حیات کے حقوق پامال کرنے کی۔ ہر رشتے کا ایک مقام اور ایک حق ہے، اور کامیاب زندگی اعتدال، حکمت اور توازن سے قائم ہوتی ہے۔ میاں محمد بخشؒ نے بیٹیوں کی جدائی کے احساس کو ان الفاظ میں بیان کیا:
دھیاں لئی پردیس وے بابلا
تے پتراں نوں جاگیریں
یہ شعر ہمارے معاشرتی رویوں کی ایک گہری تصویر پیش کرتا ہے کہ بیٹیوں کی جدائی والدین کے دل پر کیا اثر ڈالتی ہے اور بیٹوں سے کتنی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ لیکن بدلتے وقت نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ اولاد بیٹا ہو یا بیٹی، اصل سرمایہ کردار اور محبت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نکاح کو صرف ایک تقریب، رسم یا سماجی نمائش نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر دیکھیں۔ والدین رشتوں کے انتخاب میں حکمت اختیار کریں، نوجوان ازدواجی زندگی کو محض جذبات نہیں بلکہ عہد اور ذمہ داری سمجھیں، اور خاندان ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں۔ مضبوط خاندان صرف قوانین سے نہیں بنتے، بلکہ اچھے کردار، صبر، قربانی، اعتماد اور درست فیصلوں سے وجود میں آتے ہیں۔ رسول اللہ کی تعلیمات ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ نسلوں کی بہتری کا آغاز درست انتخاب سے ہوتا ہے۔ آج اگر ہم اپنے معاشرے میں سکون، اخلاق اور مضبوط خاندانی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں نکاح کے معاملے میں اسی نبوی بصیرت کی طرف واپس آنا ہو گا۔ کیونکہ ایک اچھا نکاح صرف دو افراد کو نہیں ملاتا بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔ یہی نسلوں کی تعمیر کا نبوی منشور ہے۔

مزیدخبریں