بالآخر "کاکروچ تحریک " نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو تحریک کے مطالبے پر مستعفی ہونا پڑا ۔اس کے بعد کاکروچ تحریک نے احتجاج ختم کردیا۔ گزشتہ کئی دن سے کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری تھا۔ پہلے پہل تو مودی جی نے نوجوانوں کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہ دی۔ تاہم جیسے جیسے احتجاج دوسرے شہروں میں پھیلنے لگا، مودی حکومت کو نوجوانوں کی بات سنجیدگی سے سننا پڑی اور آخر کار ان کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔
احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت کے مختلف سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ طالب علموں نے وزارت تعلیم کو اس بد عنوانی کیلئے مورد الزام ٹھہرایا ۔ بھارتی حکومت پر تنقید ہونے لگی کہ اس کا طرز عمل نوجوانوں کی بے روزگاری اور دیگر مسائل کی جڑ ہے۔شروع میں نوجوانوں کے غم و غصے کا اظہار سوشل میڈیا تک محدود تھا ۔ اس دوران بھارت کے چیف جسٹس سریا کانت سے منسوب ایک بیان سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے نوجوانوں کیلئے کاکروچ اور پیرا سائٹ جیسے الفاظ استعمال کئے تھے۔ اگرچہ بعد ازاں جج صاحب نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری کے حامل نوجوانوں کی طرف تھا۔ تاہم تب تک احتجاجی تحریک اپنے پر پھیلا چکی تھی۔بھارتی جج کے الفاظ مستعار لیتے ہوئے ایک بھارتی نوجوان ابھیجیت ڈپکے نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ایک طنزیہ احتجاج شروع کر دیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر اس احتجاجی تحریک کے کروڑوں فالوورز بن گئے۔ سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے یہ احتجاج دہلی اوردوسرے شہروں کی سڑکوں پر جا پہنچا۔ حکومت جو اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر برپا کھیل تماشا سمجھ رہی تھی، اس کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امتحانی نظام میں اصلاحات ، شفافیت اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس تحریک کے بنیادی مطالبات تھے، جنہیں حکومت کو ماننا پڑا۔
بھارت کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ نوجوان آبادی کے حامل ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں 10 سے 19 برس کے نوجوانوں کی تعداد 25 کروڑ سے زائد ہے۔ یہ نوجوان آبادی بھارت کی طاقت ہے اور سب سے بڑا چیلنج بھی۔ بھارت کو ناقص نظام تعلیم، بے روزگاری، کرپشن ، اقربا پروری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں نوجوان ذہنی دباو اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا امتحانی پرچے لیک ہونے کا قصہ سامنے آیااو ر چیف جسٹس نے نوجوانوں کیلئے تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا تو نوجوانوں نے اکٹھے ہو کر مزاحمت کی اور اپنے مطالبات منوا کر دم لیا۔
ٹھیک دو سال پہلے یعنی 2024 میں بنگلہ دیش میں بھی یہی ہوا تھا۔کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والا طلبا احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے ایک تحریک میں تبدیل ہوگیا اور عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس احتجاج میں آمرانہ طرز حکمرانی، انتخابی شفافیت، بے روزگاری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے مسائل کاتذکرہ بھی شامل ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی احتجاج گزشتہ 15 برس سے بر سر اقتدار حسینہ واجد کی حکومت کو لے کر ٹلا۔ حسینہ واجد بھارت جا کر پناہ لینے پر مجبور ہو گئی۔ اس کے بعد ایک عبوری حکومت قائم ہوئی جس کی سربراہی گرامین بنک کے بانی اور نوبیل ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے سنبھالی۔انہوں نے اصلاحات کا آغاز کیا۔ 8 مہینوں کے بعد انتخابات ہوئے اور ایک نئی حکومت قائم ہوگئی۔تاہم اس سارے عمل میں بنگلہ دیش کے مسائل ختم نہیںہوئے۔ اصلاحات کی داغ بیل تو ضرور پڑ گئی۔ تاہم مسائل کا حل اور ادارہ جاتی اصلاحات ایک مسلسل عمل کا نام ہے جس کے لئے مہینوں نہیں ، سال درکار ہوتے ہیں۔ فی الحال بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام پہلے سے بہتر سہی، تاہم مہنگائی، بے روزگاری، سرمایہ کاری اور معیشت وغیرہ سے جڑے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
سری لنکا کی بھی مثال لیجئے۔ بنگلہ دیش کی تحریک سے دو سال پہلے یعنی 2022 میں سری لنکن نوجوانوں نے اراگالایا (یعنی جدوجہد) تحریک شروع کی تھی۔ اس میں پڑھے لکھے نوجوان شامل تھے جو آئی۔ ٹی ایکسپرٹ تھے۔ یا ڈاکٹر ، انجینئر، وکیل وغیرہ۔ اس تحریک کا آغاز بھی سوشل میڈیا سے ہوا تھا۔ یہاں بھی بیروزگاری، بد عنوانی، بد انتظامی، آمرانہ حکمرانی جیسے مسائل احتجاج کی بنیادی وجہ تھے۔ رفتہ رفتہ اس احتجاج میں مزدور، سرکاری ملازمین، تاجر، خواتین،بزرگ اور دیگر عام شہری شامل ہوتے گئے۔ اس زمانے میں سری لنکا شدید معاشی بحران کا شکار تھا۔ غیر ملکی قرضے ادا کرنے سے قاصر تھا ۔ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پٹرول ، ڈیزل، گیس کی قلت تھی۔ بجلی کا شدید بحران تھا، جبکہ مہنگائی ریکارڈ سطح پر تھی۔ تحریک کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر گوٹا بایا راجا پاکسے کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ استعفیٰ دینا پڑا۔ راجا پاکسے خاندان کی سیاسی گرفت کمزور ہو گئی۔ بعد ازاں انتخابات ہوئے تو ایک نئی سیاسی قیادت انورا کمارا ڈسانائیکے کو عوام نے منتخب کیا۔ لیکن کیا سری لنکا کے مسائل حل ہو گئے؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ اس تحریک کے برسوں بعد تک معاشی مسائل وہیں رہے۔ البتہ سنتے ہیں کہ 2026 میں معاشی استحکام کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔
بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی عوامی تحریکوں کا جائزہ لیں تو کچھ سبق ملتے ہیں۔ ایک تو یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ نوجوان تبدیلی لانے کی پوری صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں ۔ ان تینوں ممالک میں مہنگائی، بے روز گاری ، بد عنوانی وغیرہ کی وجہ سے مایوسی اور بے یقینی کا شکار نوجوان تبدیلی کا ذریعہ بن گئے۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا کس قدر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ثابت ہوا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے توسط سے آن لائن احتجاج کو سڑکوں ، چوراہوں تک لایا جا سکتا ہے۔تینوں ممالک کی مثالوں میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ معاشی مسائل سیاسی اور سماجی مسائل کو جنم دیتے ہیں اور پھر بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ان تینوں تحریکوں نے اپنے مطالبات منوائے، یہاں تک کہ حکومتیں بھی تبدیل کیں، تاہم عوام کے مسائل جوں کے توں رہے۔ تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ تبدیلی صرف حکومت گرانے کا نام نہیں ہے۔ کسی حکمران یا سیاسی جماعت کا تختہ الٹنے سے سارے مسائل یک دم حل نہیں ہو جاتے۔ معاشی اور سماجی مسائل کا حل مسلسل محنت اور منصوبہ بندی کا متقاضی ہوتا ہے۔ اداروں میں اصلاحات لانا ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ تاہم اس بات سے قطع نظر، سبق یہ ہے کہ حکومتیں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کے مسائل سنیں اور انہیں بر وقت حل کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان میں بھی ہمارے پاس ایسے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے پاس تعلیم یا ہنر کا ہتھیار نہیں ہے۔ بہت سو ں کے پاس ڈگری ہے لیکن روزگار نہیں۔ روزگار ہے تو بے یقینی کی تلوار ان کے سر پر لٹکی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آج پٹرول کا بحران تو کل بجلی کا۔ مہنگائی نے اچھے بھلوں کی کمر توڑ ڈالی ہے۔ اشرافیہ کی مراعات اور اختیارات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس حقیقت سے نظریں چرانا مشکل ہے کہ پاکستان میں ہمارا نوجوان مایوس ہو رہا ہے۔ اس ملک سے بھاگ جانا چاہتا ہے۔ لازم ہے کہ ارباب اختیار اور سیاسی جماعتیں اس پہلو پر غور کریں۔ ایک پریشر ککر ہے جو نوجوانوں کی شکل میں یہاں موجود ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ کسی تحریک کی صورت پھٹ پڑے۔ لازم ہے کہ ا ن نوجوانوں کے مستقبل کا سوچیں اور انہیں مواقع فراہم کریں۔
بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا: عوامی احتجاج کا مشترکہ سبق !
10:47 AM, 27 Jul, 2026