برسات کے پانیوں میں ڈوبے صرف پنجاب یا لاہور میں نہیں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ہیں، ان کی پریشانی کا اندازہ صرف انہیں ہو سکتا ہے جو کسی نہ کسی حد تک خود ڈوبے ہوئے ہیں۔ کئی دنوں سے اپنا قیمتی سامان پانی سے نکال کر اسے نچوڑ رہے ہیں اور اس کے خشک ہونے کے منتظر ہیں لیکن فضا میں نمی اس قدر زیادہ ہے کہ بھیگی ہوئی چیزیں بہت دیر بعد خشک ہوں گی پھر ان کی جو شکل سامنے آئے گی اسے دیکھ کر غریب آدمی عام آدمی کا خون خشک ہو جائے گا۔ ملک کے طول و عرض سے خبریں اور ویڈیو کلپس سامنے آرہے ہیں۔ کہیں کسی کا جہیز بہہ گیا ہے۔ کسی کے ڈھور ڈنگر تو کسی کی چھت سر پر آن پڑی ہے۔ ان حالات میں کوئی شگفتہ خیال دماغ میں نہیں آتا لیکن کیا کریں اسی مدوجزر زندگی کے پیچ و خم کے ساتھ جینا ہے۔ گردوپیش سے غافل ہو سکتے ہیں نہ اس بات کو نظرانداز کر سکتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ کہاں آگ لگی ہے، ہوا کا رخ کدھر ہے۔ آگ کس طرف پھیل رہی ہے۔ پانیوں میں ڈوبے ہوئے آگ کو اپنی جانب بڑھتے دیکھیں گے تو ایک مرتبہ پھر آسمان سے پانی برسنے کی دعا مانگیں گے کیونکہ زمین پر اور خاص طور پر ہمارے ملک میں ہر زمانے سے کہیں لگی آگ بجھانے کے انتظامات ناکافی ہیں، عموماً آگ بجھانے والا عملہ تاخیر سے پہنچتا ہے، پہنچ جائے تو اس کے پاس سامان ناکافی ہوتا ہے۔ دنیا میں آتشزدگی پر قابو پانے کیلئے سائنٹیفک طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ہمارا فائر بریگیڈ آج بھی پانی پر تکیہ کیے بیٹھا ہے۔ آگ بجھاتے بجھاتے اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے۔ ٹینکر پانی لینے جائیں اور واپس آرہے ہوں تو کوئی انہیں راستہ نہیں دیتا۔ جب وہ جائے حادثہ پر پہنچتے ہیں تو املاک جل کر راکھ بن چکی ہوتی ہیں اور عمارتوں کے مکین جل کر کوئلہ بن چکے ہوتے ہیں لیکن براہ راست کوریج کرنے والے ٹی وی رپورٹر گھڑا گھڑایا فقرہ کثرت سے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اتنے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا حالانکہ آگ پر قابو تو اس وقت کیا جائے جب جانیں اور املاک بچا لی جائیں جہاں سب کچھ تباہ ہو جائے وہاں تو کہنا چاہئے آگ نے انسانوں اور املاک پر قابو پا لیا۔ کسی کو ادھر ادھر نکلنے کا موقعہ نہیں ملا۔ سب کچھ آگ کی لپیٹوں کی لپیٹ میں آگیا۔
آگ اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں رہا ہے۔ سیلاب کے منہ زور پانی اور تیزی سے پھیلتی تباہ و برباد آگ سے خدا تعالیٰ ہر پاکستانی اور پاکستان کو محفوظ فرمائے۔ کچھ سیلاب ہم خود لاتے ہیں۔ کچھ آگ ہم خود بھڑکاتے ہیں۔ مہنگائی کا سیلاب اور گھر کے مختلف کونوں میں لگی آگ قدرتی آفات نہیں، یہ سب کچھ ہمارا کیا دھرا ہے، اسے ہم نے ہی روکنا ہے لیکن وہ اسے کیوں روکیں گے۔ یہ سیلابی ریلے اور اس آگ کے شعلے ان کے گھر تک نہیں پہنچتے جنہوں نے یہ سب کچھ کرنا ہے ان کے گھر بہت دور ہیں اور بہت بلندی پر ہیں۔ آگ اور سیلاب وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ البتہ ایک کام ہو جاتا ہے اور خدا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ بہت محفوظ مقامات پر رہنے والے بہت اونچے مکان میں رہنے والے ہواﺅں اور فضاﺅں میں پرواز کرنے والے آن واحد میں دھڑام سے زمین پر گرتے ہیں۔ کوئی ریسکیو ٹیم کوئی آگ بجھانے والا عملہ وہاں نہیں پہنچتا حتیٰ کہ سب کچھ راکھ ہو جاتا ہے۔ ہم اور آپ بلیک باکس ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اور ”فنی خرابی“ کی لکیر پیٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اب آئیے خطے میں لگی آگ اور پانیوں پر امریکی قبضے کی کوششوں کی طرف، ایک خاتون نے امریکی صدر کی چھیڑی جنگ اور تیل پر قبضے کی خواہش پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی سوچ اور تیل کے لالچ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تو سر میں تیل ڈالنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ خدا جانے کب سی آئی اے ٹرمپ کو اطلاع دے ڈالے اور وہ کب حملہ آور ہو جائے۔
امریکی صدر کی ایران کو خوفناک حملے کی دھمکی کا وقت آنے سے پہلے ہی ایران نے چار امریکی فوجی اڈوں کو کھنڈر میں بدل کے رکھ دیا ہے۔ ان میں اردن، بحرین، قطر اور کویت شامل ہیں۔ ڈرونز بیلاسٹک میزائلوں اور ہائی پرسانک نے زمین پر کھڑے امریکی طیارے اسلحہ کے گودام دفاعی نظام کے پرخچے اڑا دیئے۔ اردن کے فضائی اڈے پر حملہ اس سرعت سے کیا گیا کہ امریکی فوجیوں کو اپنے بستروں سے نکلنے کا موقعہ نہیں مل سکا۔ پینٹاگون جن سو کے قریب فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبر دے رہا ہے، آزاد ذرائع کے مطابق وہ مارے جا چکے ہیں۔ سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر سے ان اڈوں کی تباہی دنیا کو دکھا دی گئی ہے۔ امریکی نائب صدر میڈیاٹاک میں اس نقصان کو کسی اور انداز میں تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم اس بات پر حیران ہیں کہ ایران کس طرح انتہائی کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہی پریشانی ٹرمپ کو ہے جبکہ نیٹ کام اس پر حیران یا پریشان نہیں ہے کیونکہ انہوں نے جنگ چھیڑنے سے قبل ہی امریکی صدر پر واضح کر دیا تھا کہ آپ اور اسرائیل مل کر یہ جنگ تو چھیڑ لیں گے لیکن اس کے بعد ایران آپ دونوں کو نہیں چھوڑے گا۔ امریکیوں اور اسرائیلی ماہرین جنگ کی عقل و فہم کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انہوں نے یہ سوچا ہی نہ تھا کہ اگر وہ رجیم چینج نہ کرا سکے۔ عوام کو سڑکوں پر نہ لا سکے۔ جزیرہ خارگ اور بحر ہرمز پر قبضہ نہ کر سکے تو پھر کیا ہو گا، کسی کی کھوپڑی میں یہ بات نہ آئی کہ ایرانی میزائل امریکہ تک نہیں پہنچ سکتے لیکن وہ اسی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ادھیڑ کے رکھ دیں گے۔ سب سے دلچسپی اور حیرت انگیز بات جس جس ملک میں امریکی فوجی اڈے یا امریکی اثاثے ہیں ہر اس ملک میں رہنے والا مقامی یا غیر مقامی مسلم اور غیر مسلم دونوں یہ اطلاعات ایران کو پہنچا رہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں غیبی مدد جسے امریکہ اور اسرائیل مل کر بھی نہیں روک سکے۔
غیبی مدد نہ روکی جا سکی
09:17 AM, 27 Jul, 2026