پاکستان میں بجلی کا شعبہ کئی دہائیوں سے ایسے مسائل کا شکار ہے جنہوں نے نہ صرف قومی معیشت بلکہ صنعت، تجارت اور عام شہری کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ گردشی قرضہ، مہنگی بجلی، بجلی چوری، ٹرانسمیشن نقصانات، کمزور انفراسٹرکچر اور ریگولیٹری تاخیر ایسے چیلنجز ہیں جو ہر حکومت کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں نیشنل گرڈ کمپنی کے مالی سال 2023 تا 2025 کے ملٹی ایئر ٹیرف کا نیپرا کی جانب سے تعین ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا کئی سال بعد ہونے والا ٹیرف کا فیصلہ واقعی معیشت، صنعت اور عوام کے لیے مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے؟ نیپرا نے نیشنل گرڈ کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے مالی مطالبات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کمپنی کی آمدنی کی ضرورت میں نمایاں کمی کی ہے اور ساتھ ہی ٹرانسمیشن نقصانات کم کرنے، سرمایہ کاری کی نگرانی، منصوبوں کی بروقت تکمیل، بہتر گورننس اور مالی نظم و ضبط کے حوالے سے کئی اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان میں ریگولیٹری فیصلے اکثر اس وقت کیے جاتے ہیں جب متعلقہ مدت تقریباً گزر چکی ہوتی ہے۔یہی تاخیر پاکستان کے بجلی کے شعبے کی سب سے بڑی کمزوری بنتی جا رہی ہے۔ ملٹی ایئر ٹیرف کا بنیادی مقصد بجلی کے اداروں کو آئندہ کئی برسوں کے لیے واضح مالیاتی سمت فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور نظام کی بہتری کے لیے بروقت فیصلے کر سکیں۔ اسی طرح صارفین اور صنعت کو بھی یہ معلوم ہو کہ آئندہ برسوں میں بجلی کی قیمتوں کا رجحان کیا ہوگا۔ لیکن جب ٹیرف کا فیصلہ ہی دو یا تین سال بعد آئے تو اس کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بظاہر کچھ عرصہ بجلی کے نرخ مستحکم دکھائی دیتے ہیں، لیکن بعد میں "پریئر ایئر ایڈجسٹمنٹ" کی صورت میں کئی برسوں کے اخراجات ایک ساتھ بجلی کے بلوں میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً عوام پر اچانک مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور متوسط طبقے کا گھریلو بجٹ مزید دباو¿ کا شکار ہو جاتا ہے۔دوسری جانب صنعت کے لیے یہ صورتحال مزید نقصان دہ ہے۔ پاکستان کی برآمدی صنعت پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ پیداواری لاگت برداشت کر رہی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں غیر یقینی صورتحال صنعتکاروں کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔ جب ایک صنعتکار کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ آئندہ چھ ماہ یا ایک سال بعد بجلی کی اصل قیمت کیا ہوگی تو وہ نئی سرمایہ کاری، پیداواری توسیع یا برآمدی معاہدوں میں احتیاط برتنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑا، انجینئرنگ، سیمنٹ، اسٹیل، کیمیکل، سرجیکل آلات اور دیگر برآمدی شعبے اپنی مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق طے کرتے ہیں۔ اگر بجلی کے نرخ بار بار تبدیل ہوں یا ماضی کے اخراجات بعد میں شامل کیے جائیں تو پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سرمایہ کار اپنی نئی سرمایہ کاری بنگلہ دیش، ویتنام، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی جانب منتقل کر رہے ہیں جہاں توانائی کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ استحکام پایا جاتا ہے۔نیپرا کی جانب سے نیشنل گرڈ کمپنی کو اگلا ملٹی ایئر ٹیرف فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت یقیناً خوش آئند ہے، لیکن صرف درخواست بروقت جمع کرانا کافی نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ درخواست سے لے کر عوامی سماعت، تکنیکی جانچ، اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور حتمی فیصلے تک پورا ریگولیٹری عمل ایک مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کے ریگولیٹرز مقررہ وقت کے اندر فیصلے کرتے ہیں تاکہ سرمایہ کار، صنعت اور صارفین مستقبل کے حوالے سے واضح تصویر رکھ سکیں۔حکومت کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ بجلی مہنگی ہونے کی واحد وجہ پیداواری لاگت نہیں بلکہ
کمزور ٹرانسمیشن سسٹم، بجلی چوری، ناقص انتظام، لائن لاسز، مہنگی فنانسنگ اور تاخیر سے مکمل ہونے والے منصوبے بھی ہیں۔ اگر ان بنیادی مسائل پر قابو پا لیا جائے تو بجلی کی مجموعی قیمت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف ٹیرف بڑھانے یا سبسڈی دینے کی پالیسی سے آگے بڑھے اور بجلی کے شعبے میں گہرے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرے۔ نیشنل گرڈ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے، اسمارٹ گرڈ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرائی جائے، بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائی جائے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ متبادل اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو قومی گرڈ سے تیزی سے منسلک کیا جائے تاکہ سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بجلی کے نرخ مقرر کرتے وقت صرف کمپنیوں کی مالی ضروریات نہیں بلکہ ملکی صنعت کی مسابقت، برآمدات، روزگار اور عوام کی قوتِ خرید کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اگر صنعت ترقی کرے گی تو پیداوار بڑھے گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا، زرمبادلہ آئے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور حکومت کی آمدنی بھی بڑھے گی۔ اس کے برعکس اگر توانائی مسلسل مہنگی ہوتی رہی تو نہ صرف صنعت سکڑے گی بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا۔آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں توانائی کا شعبہ معیشت کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ فیصلے بروقت، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق کیے جائیں۔ نیپرا کا حالیہ فیصلہ اصلاحات کی سمت ایک مثبت قدم ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ریگولیٹری نظام مستقبل کی منصوبہ بندی پر مبنی ہوگا، نہ کہ ماضی کے حسابات درست کرنے میں مصروف رہے گا۔ حکومت، نیپرا، نیشنل گرڈ کمپنی اور بجلی کے دیگر اداروں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا قابلِ اعتماد نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں صنعت کو سستی اور مستحکم بجلی میسر آئے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، برآمدات میں اضافہ ہو اور عام صارف کو ہر چند ماہ بعد نئے مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکال کر معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔
بروقت ٹیرف کا تعین ہی عوام اور صنعت کے مفاد میں ہے
09:16 AM, 27 Jul, 2026