عالمی دباؤ پر اسرائیل کا غزہ میں روزانہ 10 گھنٹے کیلئے جنگ روکنے کا اعلان

01:41 PM, 27 Jul, 2025

غزہ : غزہ میں جاری شدید انسانی بحران اور عالمی دباؤ کے بعد اسرائیل نے غزہ کے تین علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ فیصلہ انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس اعلان کے مطابق المواسی، دیر البلح اور غزہ سٹی میں روزانہ صبح 10 بجے سے شام 8 بجے تک عارضی جنگ بندی رہے گی۔ اس کے علاوہ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک محفوظ راستے بھی کھلے رکھے جائیں گے تاکہ عام شہری اور امدادی ادارے آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں۔

اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں فضائی راستے سے امدادی سامان گرایا ہے تاکہ قحط کے الزامات کو غلط ثابت کیا جا سکے۔ تاہم اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انروا کے سربراہ فلیپ لازارینی کا کہنا ہے کہ فضائی امداد نہ صرف مہنگی اور غیر مؤثر ہے بلکہ بعض اوقات قحط سے متاثرہ افراد کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں واقعی مدد صرف اسی وقت ممکن ہے جب زمینی راستے پوری طرح کھول دیے جائیں۔

عالمی ردعمل کے بعد مصر نے بھی غزہ کے لیے رفح بارڈر کے ذریعے امدادی ٹرک بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ الجزیرہ اور القاہرہ نیوز پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں ان قافلوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اردن کی جانب سے بھی غزہ کی جانب امدادی قافلے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اردنی حکام نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے فوجی کارروائی میں وقفے کو مثبت قدم قرار دیا ہے، لیکن زمینی صورتحال ابھی بھی تشویشناک ہے، اور عالمی ادارے اس کے مؤثر ہونے پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں