امریکہ کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کرنے کی پیشکش کرتا ہے تو پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے ، اسحاق ڈار

10:17 AM, 27 Jul, 2025

واشنگٹن : پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں، تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا، اور اگر امریکہ کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کرنے کی پیشکش کرتا ہے تو پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند قوم ہے اور کسی بھی ملک سے جنگ نہیں چاہتا۔ تاہم، ان کے مطابق، "تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی" یعنی مسائل کے حل کے لیے دونوں طرف کی کوششیں ضروری ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

انہوں نے سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ساتھ پاکستان کے گہرے دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے ایران اور اسرائیل کے تنازعے کے حل کے لیے ہمیشہ سفارتی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، اسحاق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کی اور کہا کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ ہموار ہوگا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں ان کے خیالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں امن کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو جنوبی ایشیا میں معاشی ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے عالمی فورمز جیسے او آئی سی اور اقوام متحدہ سے توقع ظاہر کی کہ وہ عملی اقدامات کریں تاکہ ان مسائل کا حل نکل سکے۔

مزیدخبریں