خیالی یوٹوپیا میں نیا پاکستان اور اوئے توئے والی عوام

09:09 AM, 27 Jul, 2025

پاکستان میں کرپشن پر قابو نہ پائے جانے کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ کرپشن کا ’’رولا‘‘ضرور ڈالا جاتا ہے مگر اس پر قابو نہیں پایا جاتا ہم نے خان کو پونے چار سال اقتدار اور جدوجہد کے دور میں بھی کرپشن کرپشن کی گردان کرتے سنا چورچور کی دہائی سنی بچہ بچہ بدتمیز اور خود کو چورملک کا باشندہ سمجھنے لگا مگر پورے اختیار اور عوامی محبت ملنے کے باوجود وہ ایک پرسنٹ چوربازاری نہ ختم کرسکے کیونکہ ان کا بھی مقصد صرف رولا ڈالنا نئی نسل کا مورال گرانا ان میں انتقامی جذبے کی آبیاری  کرنا اور کام سے جی چرانا شامل تھا خان صاحب کو پتہ تھا کہ بڑا جان جوکھوں کا کام ہے جبکہ زبان جمع خرچ نہ صرف آسان ہے بلکہ ہماری عوام بھی بڑے شوق سے کہانیاں سننے کی عادی ہے۔ 
چونکہ وہ تعمیرات نہیں کرسکتے تھے اس لیے کی گئی تعمیرات میں نقص نکال تمام کاوجود کرپشن کے زمرے میں ڈال دیتے تھے۔ 
ان کا خیال یا پراپیگنڈہ یہ تھا کہ وطن عزیز میں جتنی سڑکیں بنتی ہیں یا جتنے پل تعمیر ہوتے ہیں اس کے پیچھے درپردہ کرپشن کا جواز ہوتی ہے لہٰذا وہ کچھ بھی تعمیر نہ کرنے سے خود کو نہ صرف بچا لیتے اس مشقت سے جان چھڑا لیتے بلکہ عوام کو کہتے کہ ترقی کیلئے روڈ وسڑکوں کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ جو بنی ہوئی ہیں اس میں بھی کرپشن ہوئی ہے اور جو سب سے بڑی بات وہ اپنی نیم پڑھی آڈیٹنس کو سکھاتے بلکہ ذہن نشین کرواتے وہ یہ کہ یہ سب آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چوری ہوئی ہے الفرض یہ کہ میں جوکچھ نہیں کرتا ایک نالی بھی نہیں بناتا تو اس کی وجہ میری ایمانداری ہے (ذہنی مفلوج ہونا یا انتہائی کاہلی ) نہیں ۔
بنانا تو دور کی بات انہوں نے تو جوجو’’ڈھانے ‘‘ کا وعدہ کیا تھا وہ بھی جانے بوجھے بغیر کم علمی کے باعث تھا انہیں نہیں پتہ تھا کہ وہ گورنر ہاؤس کی دیوار کو ٹچ بھی نہیں کرسکتے وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہیں بناسکتے پہلے سے بنی ہوئی یونیورسٹیوں کو ٹھیک کرنے کا خیال انہیںآیا نہیں کہ وہاں ان کے ساتھ کافی برا سلوک ہوچکا تھا سب سے آسان کام یہی تھا چور چور کا شور مچا کر ملک کے تمام ٹھیکیداروں انجینئرز بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کو پاکستانی چور ہوتے ہیں کیونکہ اگر موٹروے کرپشن سے بنے گی تو خالی سیاست دان کو گالی تھوڑی پڑے گی کنسٹرکشن فرم میں پاکستانی لوگوں پاکستانی ماہرین پاکستانی بیوروکریٹس پاکستانی مستریوں مزدوروں اور ان کے گھر والوں کو آٹو میٹک ’’چور چور‘‘ کی گالی پڑ جاتی تھی پھر موصوف فرمایا کرتے کہ میں چور کو چور نہ کہوں تو پھر کیا کہوں بندہ پوچھے اگر آپ نے اتنا سا کام ہی ذہن مبارک سے لینا تھا تو اس کیلئے الیکشن لڑنے دھرنے دینے جلوس نکالنے ٹرالوں پر چڑھنے منتخب وزیراعظم کے گھر اور دفاتر پر یلغار کرنے کی کیا ضرورت تھی گھر یا چائے ڈرائیور ہوٹل کی کسی منجھی پر پڑے پڑے چور چور کا پہاڑہ پڑھتے رہتے کہ یا تو ان کے ریڈیو کی سوئی وہاں اٹک گئی تھی یا انہیں اس الزام تراشی سے آگے کوئی کام ہی نہیں آتا تھا ۔ 
ہمارے شعراء میں مقبول شعر ہے …
کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا بدنام 
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا 
خان صاحب کو کہنا چاہے تھا 
کروں گا کیا جو سیاست میں ہوگیا ناکام 
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا 
میں کہتی ہوں پورے پونے چارسال تخت ملا ہو تو بندہ کبھی آلکس مٹانے ہی کو ہل کر کوئی کام کرلیتا ہے …مگر سٹاک ایکسچینج صبح سویرے اڑ جاتی موصوف تین بجے ہیلی کاپٹر پر دفتر تشریف لاتے آدھا ملک بغیر وزیراعظم کے ہی چل جاتا لیکن زبان کے بہت تیز تھے کہانیاں بہت سناتے نقلیں بھی خوب اتارتے لوگوں کو روزنیا ’’بندر تماشا‘‘ دکھاتے دیکھو میں نے آج اسے پکڑ لیا فلاں کو ہتھ کڑی لگادی بات وہم یا تصویز دھاگہ کی ہوتی انہیں کہہ دیا جاتا کہ اگر عثمان ہٹا لیا تو خان بھی جائے گا فوری سعادت مندی سے سرکو جھکا دیتے اور عثمان بزدار جیسا  ’’ڈفر‘‘ بے چارہ مسکین صورت ہٹانے کا خیال تک دل سے نکال دیتے ان کے مفہوم ممی ڈیڈی فالو ور کبھی سمجھ نہ پاتے کہ گوگی تا بزدار تابشریٰ بی بی کیا سیاسی زنجیر ہے۔ 
میں لمحہ بھر کیلئے کہتی ہوں چلو مان لیا ہم پوری پاکستانی قوم چورہیں ہمارے ناپاک ووٹوں سے وزیراعظم بننے والا کیسے ’’پاک‘‘ہوگا خان صاحب تو اکیلے اس پوری آبادی کے واحد ایمان داری غلطی سے یہاں  پیدا ہو گئے سوال یہ ہے کہ وہ ہم ایسے چوروں پر کیوں حکومت کرنا چاہتے تھے  انہیں تو کوئی بہت اعلیٰ اقدار والا خطہ اور اس کے لوگوں میں جاکر الیکشن لڑنا چاہے تھا مطلب یہ کہ کیچڑ میں کھڑے ہوکر آپ اپنا دامن کیسے بچا سکتے ہیں آپ خود کو کیسے واحد ایمان دار ثابت کرسکتے ہیں اتنے کرپشن زدہ ووٹوں والے ملک کے واحد ایمان دار سیاست دان کو پاکستان کا انتخاب نہیں کرنا چاہے، انہیں اپنے جیسے معصوم خطۂ ارضی کے لوگوں کو اپنی عوام بنانا چاہے تھا ، جیسے انہوں نے اپنے ہونے والے بچوں کی ماں کا ایک اعلیٰ امیر ترین غیر ملکی انتہائی پالشڈ خاندان کا انتخاب کیا وہ یہاں کے چوروں کا والا خون اپنی اولاد میں شامل نہیںکرنا چاہتے تھے ویسے بھی دن بھر یورپ کی مثالیں دیا کرتے فرمایا کرتے کہ مجھ سے زیادہ یورپ کو نہیں سمجھتا حالانکہ اقبال بھی پوری دنیا نہ صرف بلکہ پڑھ اور پڑھاکر بھی ویسے کے ویسے سیالکوٹی انداز میں واپس آگئے ایڈوانس اپروچ ہوئی بھی توصرف فکر، سوچ تخلیق میں حلیہ میں رتی برابر فرق نہ آیا بابائے قوم جو دکھنے میں بھی بولنے میں بھی کس ترقی یافتہ قوم سے کم نہ تھے کبھی یورپ کے گن نہ گائے پاکستان آئے تو شیروانی پہن لی اور بہن نے غرارہ …وہ دراصل باتیں نہیں بنایا کرتے تھے بلکہ ان کے پاس ٹائم ہی نہیں تھا انہوں نے اپنی صحتیں تلک قربان کردیں اور اپنے باعمل رویے سے ٹھوس بنیادوں پر برصغیر کا نقشہ ہی تبدیل کردیا پاکستان الگ ملک بنالیا، جسے ریجیکٹ کرکے اپنے ہی یوٹوپیا میں موصوف ایک نیا پاکستان خیالوں ہی خیالوں میں بناکر اٹھارہ بیس سال کے بچوں اور فارغ آنٹیوں کو خواب دکھایا کرتے جس کا ہربچہ اوئے توئے کہہ کر بات کرے گا ہر بزرگ کو چور کہے گا حرم تک میں خواتین کے پیچھے پھکڑی لگائے گا اس مقام پر جہاں سورۃ حجرات کے کلمات ہیں جہاں کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کرسکتا …وہاں بھی …

مزیدخبریں